تعارف· ویڈیوز· رابطہ

حمدیہ ..... نصیر ترابی

 رہا قصّۂ بیش و کم سِوا، تو خیال تیری طرف گیا کہیں بے رسَد جو ہدف ملا، تو خیال تیری طرف گیا کسی رنگ سے جو مہک اُڑی، دل الجھ گیا کسی شاخ میں کسی گُل کا رزقِ نمو کُھلا، تو خیال تیری ظرف گیا کسی چشمِ نم کے سُکوت سے کوئی حرفِ خشک چمک اُٹھا کوئی صدمہ جب ہُوا لَب کُشا، تو خیال تیری طرف گیا رُخِ صبح جب ہُوا آئینہ، سبھی غم کے عکس تھے رُوبرو ہُوا شدّتوں کا جو سامنا،تو خیال تیری طرف گیا ہُوا جبر کوئی ادَا ادَا تو عجب عجب سے گُماں ہوئے اُٹھا صبر کوئی پئے دعا، تو خیال تیری طرف گیا رہی وہ حکایتِ دل بہ دل کہ خود اپنا دھیان نہیں رہا ہوئے بے خیال سب آشنا، تو خیال تیری طرف گیا وہی روز و شب کی قیامتیں وہی آئے دن کی ضرورتیں جو ضرورتوں نے تھکا دیا، تو خیال تیری طرف گیا وہی سَو گواہیاں سُو بہ سُو، وہی کم پناہیاں کُو بہ کُو جو بہت بہت مِرا دل دُکھا، تو خیال تیری طرف گیا مرے حوصلے تھے کمال کےنہ بنے قرینے سوال کے میں کسی سے حال نہ کہ سکا، تو خیال تیری طرف گیا چلے ایسے اپنی ترنگ میں کہ گیا نہ دل تری سَمت بھی ہوئی ہر اُمید شکستہ پا، تو خیاک تیری طرف گیا نصیر ترابی

My two cents on elections in Pakistan

They (untouchables and their tout/ pet dynasties) are terrified. Badly terrified. Of whom? Of common men and women, young boys and girls, peasants, labourers, students, Punjabis, Sindhis, Pashtuns, Balochs, Sunnis, Shias, minorities, ethnicities and at large Pakistanis..... They're terrified of new young leadership from humble families rising to power, lest they not become successful in enabling the layman to have his say in the day to day running of this country.  So they did everything hand in hand to not let the Pakistanis say a collective NO to this cursed system in previous months. However 8th February proved a nightmare for them all, so they decided to change on paper, what people had done with their minds and hands on ballot paper. So they did what they did.  Now they've installed those corrupt and merciless puppets in high seats, who were fed with people's trust by those who manage the KITCHEN after stealing from other's plate.  What's next? Simple! Truth pr...

Africa and colonizers

 Perhaps Africa is the continent which suffered the most on the hands of colonizers in the previous centuries. Distribution of resources fairly among the masses, whether they are mineral, agricultural or even human ones, had always been a real issue for the collective conscious of any society/civilization. We have heard many scholars saying that a society can be judged by its treatment of its poor people or low income classes or those people who have lesser access to the power structure. We can say, this is very much same for the nations across the globe. It is very clear that at any point of time in the history there are some superpowers and others who are their allies and then there are those who stay on the borders of the pages of history; the downtrodden ones, the forgotten ones. We also know that nations and civilizations don't stay always at the top slots, things keep changing for the nations just like the powerful individuals. History is just the registering agent of all the...

تصویر

کینیڈا کے شہر اونٹاریو کی اورینٹل مارکیٹ میں شام کے دھندلکے ایک خاتون داخل ہوتی ہے، نقوش سے جنوبی ایشیائی لگتی ہے۔ وہ بازار میں بظاہر کوئی خاص چیز خریدنے نہیں آئی، شاید اسی لیے گھومتے پھرتے،بوڑھے ترک دکاندار لطف الدین لطیف اوغلو کے ہاں جا رکی ہے، جس کے پاس کرنے کو ڈھیروں باتیں اور بیچنے کے لیے چیزوں کی کوئی مخصوص فہرست اور ترتیب نہیں؛ پرانی کتابیں، نئی تصویریں، ہندوستانی بیڑی ، ہوانا کے سگار، مولوی رومی کے رقص کناں درویشوں والے چغے، سلجوقی خود کی نقول، بچوں کے کھیل کود کی تلواریں اور ہاں....قہوے کا فنجان بھی حاضر رہتا۔ مقامی ترک انہیں لطف عم جان کہتے اور کبھی کبھی تو ترک قہوے کے شوقین گورے گوریاں بھی انہیں چچا بنانے آ پہنچتے....  لطف عم جان: خانم آفندی، آپ کی کیا خدمت بجا لا سکتے ہیں ہم؟ خاتون: وہ مصوری کا نمونہ دکھائیے گا لطفاً!  لطف عم جان: جی ضرور...یہ تصویر.... ہاں جی.... اسے ایک پاکستانی نژاد نوجوان نے بنایا ہے، عمر تو زیادہ نہیں ہے مگر مشق اور تخیل خوب ہیں۔ کبھی کبھار اپنی چیزیں ہمارے گوشہ مصوری میں رکھنے آتا ہے۔  خاتون: آہاں.... میں بھی پاکستان سے ہوں  لطف ع...

رات

 ****رات**** درد اور درماں، دونوں کی رات ، یکساں پردہ پوشی فرماتی ہے اعلانات سے تھکی زمین کو   رات، خاموشی کی لوری سناتی ہے دھیمی دھنوں کی تال پہ  رات وصال کا جال بنتی ہے  فراق کے تاریک طاق میں  رات دیا بن کر جلتی ہے صحرا کے تپتے دن پہ رات  ٹھنڈی میٹھی پلکیں جھپکتی ہے سکے جمع کرتے ہاتھوں اور  کلید تختوں سے اٹی انگلیوں کو رات ان کا حق دینے کا فرض نبھاتی ہے لمبے دنوں کی تھکا دینے والی نامانوس صحبتوں اور اکتا دینے والی مقدس روٹین کی ڈور کو رات اپنی ریشمی تلوار سے قطع کرتی ہے دوسروں کو نیا موقع دینے کی ہمت  اور خود پہ طنز کی اجازت دینے رات آتی ہے نیستان سے کاٹ کر لائی نے  گاہے رات کو وصلِ خویشد کے طویل نظم جیسے سفر پہ نکلتی ہے قریہ قریہ گریہ کرتے عشاق کے پیچھے رات ہی کو سفید پوش صفیں باندھتے ہیں اور یہ رات ہے، جس کے ہنگام ادھر کہیں آسماں پہ  حسنِ ازل ، لطیف سئیں اپنے ہاتھ کے گھڑے مٹی کے پتلوں کو  آواز لگواتا ہے اپنے نام کا مرہم لگاتا ہے فلک شیر چیمہ

الوداع سید علی گیلانی

 الوداع سید من! آپ نے جبر کے سامنے ہمیشہ سینہ ہی رکھا، پشت دیکھنے کی اسے حسرت ہی رہی آپ ہمارے قافلے کے سالاروں میں سے تھے، خود میدان میں استادہ و مقیم سالار ہر صدی میں آپ جیسی دو چار نشانیاں ایمان والوں کے سینوں میں روشنی پھر سے بھڑکانے کو ربِ ذوالجلال والاکرام عطا فرماتے ہیں ملا کی اذاں اور، مجاہد کی اذاں اور...یہ مصرعہ وادی کشمیر کے کوچوں بازاروں میں آپ کی دلیل اور جذبہ، دونوں میں گندھی للکار سن کر سمجھ آیا آپ امید ، سر تا پا امید اور توکل و تیقن کی تجسیم تھے جبر میں تو یہ تاب تھی ہی نہیں، آپ کے نفسِ گرم کا سامنا منصب و ثروت کے بل پہ کوئی منافق اور نام نہاد "اپنا" بھی نہ کر سکا لکیریں، دیواریں، سرکاریں، بندوقیں اور غلاموں کی مجبوریاں...کچھ بھی آپ کے نظریہ حیات کی طاقت و صلابت کے سامنے کھڑا نہ رہ پایا بہت سے لوگ آزادی کے اس کٹھن سفر پہ چلے تھے، کئی تھک گئے، کئی دنیا کی چکاچوند سے ہار گئے اور کئی تاویل کی زلفِ تصنع صفت کے اسیر ہو گئے... پر آپ قدیم چنار کی مانند سیدھے، اونچے اور دراز کھڑے رہے حق آپ کی زبان پہ جاری تھا اور ہمہ دم اسی کا رعب لاکھوں گنا طاقتور دشمن پہ طاری تھا پا...

خواب و تعبیر

خواب و تعبیر **************** خواب سب دیکھتے ہیں، تعبیر بھی پاتے ہیں حسبِ قدر دشمن ہونا لازم ہے، یوں ہی دوست بھی حریف سبھی بناتے ہیں اور حلیف بھی خزاں ہر زمین پہ اترتی ہے اور اس کے استقبال کو بہار ہر دفعہ موجود ہوتی ہے خریدار ہر جنس کو میسر آتا ہے، خواہ زنگ اور مٹی ہی سہی کینوس پہ پہاڑ کو دوسرے پہاڑ سے وادی الگ کرتی ہے گھاٹی کے ساتھ ہی ڈھلوان بچھی ہوتی ہے ایک اور صفر کا ساتھ ہمیشہ سے ہے اور مثل بھی تو ہے چیزیں اپنی اضداد سے پہچانی جاتی ہیں سو اپنی اضداد کا انکار اور انہیں اپنا عین کہنے پہ اصرار یہ شتر مرغ کو روا ہے، یا احمقوں کو جائز سو اے میرے گھونسلے کے ساتھیو! تم سنہری شاموں میں الگ الگ راگوں کے گیت ضرور گانا اور شبنمی صبحوں میں اپنی اپنی منفرد خوشبو ضرور ملانا مگر اس دام ہمرنگِ زمیں سے ہوشیار رہنا اپنی اصل مت بھلانا اور اندھیروں کے مقابل روشنی کے عرف پہ مصر رہنا اس خواب کو ایک قدیم بودا قول بکتے بے دیار کے چند آوارہ گرد فصیل فصیل گھومتے مردار خوروں کی خاطر تج نہ دینا میں اس آدرش میں تمہارا ساجھی ہوں جسے سودائیوں، پیادوں اور سواروں کی ایک پوری نسل نے اپنایا تھا میں تمہارا ہم خوا...

نو برس ہوتے ہیں

 نو برس ہوتے ہیں ہر کسی کے اپنے نو برس ہوتے ہیں سیرِ صحرا سے لبِ دریا تک عمر کوٹ سے بھٹ جو گوٹھ تک سسی کی پیاس سے خضر کے گھڑے تک بے انت بے سمتی سے یکسوئی کی مٹھاس تک کانٹوں کے عرق سے ترتراتے پراٹھےسے.... شکرگزاری کی سوکھی روٹی تک بے مصرف بنجر دنوں سے موتیوں جیسے لمحوں کے ڈھیر تک واقف انجانوں کی بھیڑ سے دل میں اترے اجنبیوں کی مجلس تک اور کسی بربادکوزہ گر، جو اپنے ہی کوزوں سے رنجور ہو.... کوپھر سے اپنے چاک پہ شرابور ہونے تک نو برس درکار ہوتے ہیں پر یہ نو برس ہمیشہ سو سے آٹھ زیادہ مہینوں کے نہیں ہوتے یہ نو لمحوں سے نو دہائیوں کے ہو سکتے ہیں کیونکہ نو برس ہر کسی کے اپنے ہوتے ہیں فلک شیر پس نوشت: کل ن م راشد کا یوم پیدائش تھا، راشد کی حسن کوزہ گر کا ایک تھیمیٹک حوالہ مندرجہ بالا نثری نظم میں قارئین محسوس کر سکتے ہیں، یہ تکلفاً در نہیں آیا، یہی عرض کرنا کافی سمجھتا ہوں۔

ہدیہ بر یومِ شہادت : کیپٹن کرنل شیر خان شہید ؒ

حکیم الامتؒ نے کہا تھا: سرِ خاکِ شہیدے برگہائے لالہ می پاشم کہ خونش با نہالِ مِلّتِ ما سازگار آمد “بیا تا گُل بیفشانیم و مے در ساغر اندازیم فلک را سقف بشگافیم و طرحِ دیگر اندازیم” اور "آوازِ دوست" والے مختار مسعود صاحب نے لکھا تھا : "میں نے تاریخ کی سب سے بڑی جنگ کو کئی برس بہت قریب سے دیکھا ہے۔ جتنی سیاہی جنگ کے بادلوں میں ہوتی ہے آپ اس کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔ جنگ کے اندھیرے گھپ اندھیرے ہوتے ہیں۔ لیکن جتنی تیز اور خیرہ کرنے والی سفید روشنی سخت آزمائش کے دنوں میں زندہ قوموں اور با کردار افراد کے طرزِ عمل سے پیدا ہوتی ہے آپ اس کی طرف آنکھ بھر کر بھی نہیں دیکھ سکتے۔ روشنی جب اتنی روشن ہو جائے کہ آپ اسے دیکھ بھی نہ سکیں تو اسے نور کہتے ہیں۔ ”" یہ فقیر کیا عرض کر سکتا ہے ۔۔۔آج صبح لکھا تھا: "دادا نے نام ہی کرنل شیر خان رکھا... کیپٹن اللہ کی توفیق سے خود بنے... ٹریننگ ہو یا فیصلے کا کارزار، یا عین معرکہ کا مقام... جہاں زن سے آتی آگ آر پار ہوتی ہے ــــــــــ کپتان نے اپنے دین، نام، روایت اور ان سب پہ قربان ہونے کے جذبے کو کہیں کمر ن...

آخری کھلاڑی کے لیے تالی

زندگی کے سفر میں ،جب آپ وکٹری سٹینڈ پہ نہ ہوں ،ہاتھ میں کوئی بید کی چھڑی اور چھاتی پہ تمغے نہ ہوں ،لوگ آپ کا اٹھ اٹھ کر انتظار نہ کرتے ہوں اور ناموں کی فہرستوں میں آپ کا نام آخری آخری سلاٹس پہ جگہ پائے ۔۔۔ ایسے میں آپ کی چھوٹی سی چھلانگ کے لیے تالی بجانے والے ،انگوٹھا اوپر کو اٹھا کر بیسٹ آف لک کہنے والے اور حوصلہ بڑھانے والے کم ہوتے ہیں، بہت کم ، پر یاد رہنے والے ، دل میں رہ جانے والے اور بڑے لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں ، ہمارے اردگرد تلاش کرنے پہ ایسے چند ہی لوگ ملتے ہیں ، تلاش کر کے دیکھ لیں ! آج یاد آ رہا ہے، یہ انیس صد چھیانوے کا سن تھا، علی پور چٹھہ سے میٹرک کے لیے میں حافظ آباد کے علی گڑھ پائیلٹ سکول میں تھا ، یہ استادِ گرامی قدر سلیم صاحب کا پاؤں پاؤں رکھتا نو مولود ادارہ تھا ، جس کی سب سے بڑی کشش وہ خود تھے اور ہم جیسے پردیسیوں کے لیے سب سے بڑی پریشانی ہاسٹل کی رہائش تھی ۔ قصہ کوتاہ! غالباً یومِ قائد کا موقع تھا، جناح ہال میں ضلعی سطح کا ایک پروگرام تھا، جس میں ملی نغمے اور تقاریر وغیرہ کے ضلع بھر سے بچوں کے مقابلہ جات تھے ، میں گورنمنٹ ہائی سکول علی پور چٹھہ کی طرف سے ...

میرے شہاب صاحب

شیخوپورہ میرے ننھیال کے ننھیال کا شہر ہے ، اور بعد میں اس سے مٹی کا رشتہ بھی استوار ہوا ، کہ میری بڑی بیٹی وہاں دفن ہے ۔میٹرک کے بعد گریجوایشن تک کئی سال وہاں میں نے گزارے ہیں ، بے ربط اور رستے کی تلاش میں ۔ کتاب سے تعلق ویسے تو بچپن سے تھا ، لیکن یہاں آ کر لائبریری تک رسائی ہوئی، شیخوپورہ کمپنی باغ میں بڑی وسیع لائبریری ہے ، صاف ستھری پرسکون اور نتھری نکھری سی۔ انگریز بہادر کے دور کےکمپنی باغ نے اپنی وسعتوں کے وسط میں اس جزیرے کو پھول کی مثل کھلنے کی اجازت دی ہے اور اس کے لیے میں اس کا شکرگزار ہوں ۔ عجیب بات ہے کہ میں سبزے کا عاشق ہونے کے باوجود ان دنوں لائبریری کے چہار طرف پھیلے قطعات کی طرف زیادہ متوجہ نہ ہو سکا ۔ کمپنی باغ آنا اور سیدھے لائبریری ، وہاں سے واپس جاوید سندھو صاحب کے سخت ڈسپلن والے کالج میں بھاگم دوڑ جا پہنچنا۔ خیر لائبریری سے کافی کچھ استفادہ کا موقع ملا، لیکن جس شخصیت اور ان کی کتاب کا آج تذکرہ چھیڑنے چلا ہوں ، اتفاق ایسا ہے کہ وہ لائبریری میں نہ دیکھی اور نہ ایشو کروائی ، حالانکہ لائف ممبرشپ لینے کی وجہ سے ایک ہی وقت میں متعدد کتابیں ایشو کروانا اور چند دنوں م...

کاٹالونیا کے انسانی معیار اور اعلیٰ جمالیاتی تجربات کا مابعدالطبیعاتی پہلو

(تصویر بشکریہ گارجین ویب گاہ)  اونچائی، حیرانی ،وجدان، شدت جذبات،حتی کہ حسی تلذذ کاہر انتہائی نوعیت تجربہ اپنی اصل میں مابعدالطبیعاتی ہی ہے ۔۔سپین کا ایک صوبہ ہے کاٹالونیا، جہاں کے رہائشی پچھلے کچھ عرصہ سے سپین سے علیحدگی چاہ رہے ہیں ، اپنی تہذیب اور دیگر مختلف اسباب کی وجہ سے، انہوں نے حکومت سازی بھی کی ، لیکن سپین کی حکومت نے اسے تسلیم نہیں کیا، ان کے ہاں ایک روایت ہے کہ ہزاروں لوگ ایک دوسرے کے کندھوں پہ سوار ہو کر انسانی مینار سا بناتے ہیں ، اسی سے ملتی جلتی روایت ہندوستان میں بھی ہے ۔ بچوں، عورتوں اور بڑوں کا اس حوالے سے جذباتی تعلق اور کامیابی سے مینار بنا پانے پہ خوشی کا اظہار محض ثقافت سے تعلق کی کہانی نہیں سناتا، بلکہ انسانی تجربات میں سے اعلیٰ جذبات اور تسکین کے بالاتر مصادر کا مابعدالطبیعاتی ہونا ہی بتاتا ہے ۔ اس ربط پہ اس حوالہ سے ڈاکیومینٹری دیکھی جا سکتی ہے۔

The Hour of Lynching ... بھارت میں گاؤ رکھشا کے نام پہ مسلم کشی

(تصویر بشکریہ بی بی سی ویب سائٹ) شرلے ابراہام اور امیت مدھیشیا نامی دو بھارتی نوجوانوں کی بنائی اس ڈاکیومینٹری "دی آور آف لنچنگ"سے مذہبی نفرت کے گرد گھومتی بھارتی سیاست، مسلمانوں کی حالت زار، جدید و قدیم کی کشمکش میں ڈولتی اور متزلزل مسلم نوجوان آبادی، ماضی قریب میں مذاہب سے بیزاری کی عالمی لہر کے نتیجے میں سوشلسٹ پارٹیوں اور نظریات کی طرف جھکاؤ ۔۔۔سب آشکارا ہو جاتا ہے ۔ ایک نوجوان دیہاتی مسلمان بھارتی حکمران پارٹی بی جے پی کے لاٹھیالوں اور تلوار بردار غنڈوں کے ہاتھوں قتل ہوتا ہے اور وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ وہ ایک گائے اسمگل کرنے کی کوشش کر رہا تھا، جبکہ بی جے پی کے غنڈے گائے امی کی حفاظت کا دینی فریضہ سرانجام دے رہے تھے۔ بی جے پی کا مقامی ایم پی اے اور کونسلر ٹائپ لوگ ان کے ساتھ کھڑے ہیں ، جبکہ راکبر خان نامی مسمل نوجوان کی بیوہ، جوان بچی اور چھوٹے نوعمر بچوں کی حالت زار ۔۔۔سب اس مختصر ڈاکیومنٹری میں دکھایا گیا ہے۔۔بنانے والے بھی ہندو ہیں ، غالباً یہ نوجوان کنہیا کمار جیسے یونیورسٹی سوشلسٹوں سے متاثر ہیں۔  درج ذیل لنک پہ ویڈیو دیکھی جا سکتی ہے ۔ The Hour of L...

مارچ میں عورت مارچ

مجھے یاد پڑتا ہے کہ ابا جی بچپن لڑکپن میں ناراض ہوتے تو بعض اوقات دنوں تک وہ غصے اور میں ڈر سے بات نہ کرتا ، لیکن باجی (والدہ) ناراض ہو جاتیں تو نیند نہ آتی، معافی تلافی کر کے ہی سکون آتا ، تو بھائی ہمارے تو دل پہ عورت کا سکہ چلتا ہے، یہ موزوں والی بیبیاں بے چاری اپنے تئیں جس "جہاد فیمینزم" پہ نکلی ہیں، یہ قطعی کوئی نئی بات نہیں ، بس بات اتنی سی ہے کہ الگ طرح کی زبان میں کمپوز کی گئی یک سطری عبارتیں انہیں "عام عورت" کے طور پہ پیش کر کے ہمارے معاشرتی دھارے میں دھارے کے رخ بہتے عامی کو مزید کنفیوز اور مائل بہ "مساوات" کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ وہ دوست جو ان "مجاہدات" اور ان کے ہینڈلرز کو اس کمپین میں "جائیداد کے حق" اور "تعلیم کے موقع" جیسے "جائز نعرے" استعمال کرنے کی تلقین کر رہے ہیں، ہمیں ان کی نیت پہ قطعی کوئی شک نہیں ، البتہ یہ ضرور سمجھتے ہیں کہ انہیں پوری بصیرت سے یہ جان لینا چاہیے کہ اس گروہ کا مقصد خواتین کے حقوق وغیرہ نہیں ہیں، ان کا مقصد گھر کے قلعے کو مسمار کرنا ہے، گھر نام کا یہ قلعہ ابھی تک کسی نہ کسی ...

کرنیں ایک ہی مشعل کی : محمدﷺ

"کرنیں ایک ہی مشعل کی" کے نام سے ایک سیریز شروع کر رہا ہوں بتوفیق الٰہی ، جس میں امت کے کچھ بڑے لوگوں کا مختصر تعارف پیش کیا جائے گا۔ اصل میں یہ ایک عربی کتاب کا ترجمہ نما ترجمانی ہے ۔اللہ تعالیٰ شرف قبول بنائے اور اسے امت اور میرے لیے دنیا و آخرت میں مفید بنائے ۔ آغاز آج آقا و مولا ، حبیب رب العالمین، سید المرسلین ، محمد ﷺ کے ذکرِ خوش خصال سے : النبیﷺ وہ اللہ کے رسول اور ہمارے سردار ہیں ، ـــــــ ان کا اسم گرامی ہے "محمد" ۔     والد کا نام عبداللہ تھا ـــــ جناب عبداللہ کے والد عبدالمطلب    تھے ــــــ عبدالمطلب بیٹے تھے ہاشم کے ــــــ ہاشم کے والد عبد مناف تھے ـــــــ مناف کے والد قصی اور قصی    کے کلا ب ـــ کلاب اولاد تھے مرۃ کی اور مرۃ پسر تھے کعب کے ــــــ کعب اولاد تھے لؤی کی اور لؤی بیٹے تھے غالب کے ــــــ غالب اولاد تھے فہر کے اور فہر تھے بیٹے مالک کے ــــــ مالک اولاد تھے نضر کے اور نضر بیٹے تھے کنانہ کے ـــــــ کنانہ پسر ہوئے خزیمہ کے اور خزیمہ اولاد ہوئے مدرکہ کے ــــــ مدرکہ صاحبزادے تھے الیاس کے اور الیاس بیٹے تھے مضر کے ـــــــ...

قرآن سے تعلق

آج کا ملحد بھی قرآن کو اساطیر الاولین کہتا ہے اور عہد قدیم کا ملحد بھی یہی کہتا تھا.... قرآن اور جدید اردو شاعری کے نمونے اس پہ شاہد ہیں... بے شک قرآن اللہ رب العزت کی ذات، صفات اور حکم و نظام کو سمجھنے اور ماننے کی شاہ کلید ہے... سو کفر و الحاد کے بڑھتے اٹھتے طوفان کو اس معجزہ ہی کی مدد سے مثلِ خس و خاشاک بٹھایا اور واپسی کا رستہ دکھایا جا سکتا ہے...تعلیم القرآن اور تذکیر بالقرآن کو اپنی روزانہ ذاتی، جماعتی اور خاندانی روٹین میں جگہ دینا ہر مومن و مسلم پہ لازم ہے... آئیے اپنے گھر سے شروع کرتے ہیں.... ان شاءاللہ ذاتی طور پر : روزانہ ایک ربع......تلاوت دو رکوع......... تلاوت مع ترجمہ خاندان کے ساتھ : ایک رکوع..... ترجمہ و مختصر تفسیر (نصاب طے کر لیا جائے) جماعتی زندگی : ایک رکوع...... ترجمہ و تفسیر (تحریکی و دعوتی و فلاحی و کاروباری و سرکاری و غیر سرکاری دفاتر) اللہ تعالٰی ہمیں توفیق عطا فرمائے اور اسے ہماری دنیا و آخرت کو سنوارنے والا بنا دے... بے شک وہی ولی التوفیق ہے فلک شیر چیمہ، چوبیس جنوری 2018، علی پور چٹھہ

وقت اور تحاریک اسلامی کے کارکنان

وقت کیسے گزارا جائے ـــــــ وقت کیسے کاٹا جائے ـــــــ وقت کیسے kill کیا جائے ــــــ یہ جملے داعی اور تحاریک ہائے اسلامی کے کارکنان کے منہ سے کیسے نکل سکتے ہیں ـــــــــ یہ وقت ہی تو ان کا اصل سرمایہ ہے ـــــــــ افراد سازی کے لیے ـــــــ قرآن سے تعلق جوڑنے کے لیے ــــــــــ اس میں غور و فکر اور تدبر کے لیے ــــــــ دعوت دین کے لیے ـــــــــ اقامت دین کے لیے ــــــــــــ مسلمانوں کو درپیش بڑے چھوٹے مسائل کے لیے جان کھپانے کے لیے ـــــــــــ داعی اور اقامت دین کے کسی کارکن کا دن اللہ کے رسول ﷺ کی نقل کرتے ہوئے دین کے لیے جدوجہد کرتے گزرنا چاہیے ـــــــــــ اور رات کا کچھ حصہ اپنے رب سے مناجات کرتے ہوئے ــــــــــ اسے پاس کرنے کے لیے وقت ملتا ہی کون سا ہے ــــــــــ جب کہ اسے تکبیر اولیٰ کے ساتھ نماز ادا کرنے کے لیے مسجد کی طرف جانے کی لپک لگی ہوتی ہے ــــــــــ اپنے بیمار بھائی کی عیادت کے لیے جانا ہوتا ہے ــــــــــ کسی ضرورت مند بھائی کی حاجت برآری کے لیے پہنچنا ہوتا ہے ـــــــــــ مظلوم کی نصرت اور ظالم کا ہاتھ روکنے کے لیے کوشش کرنا ہوتی ہے ـــــــــــ اپنے اہل و عیال کے لیے رزق ح...

جماعت الدعوۃ سیاست میں : کیوں، کب اور کیسے

افغانستان میں امریکہ کی نئی حکمت عملی

نائن الیون کے بعد افغانستان پہ امریکہ کی چڑھائی کو ڈیڑھ دہائی ہونے کو آئی ہے، مگر جنگ زدہ افغانستان کے باسیوں کو چین کا سانس لینا نصیب نہیں ہو رہا۔ طالبان خود کو افغانستا ن کے جائز حکمران گردانتے ہیں اور بہت سے صوبوں میں ان کی غیر اعلانیہ حکومت بھی موجود ہے۔ دوسری طرف شمالی اتحاد ، سابق مجاہدین رہنماؤں  اور کچھ پختون سرداروں، جنہیں امریکہ کی مدد حاصل ہے، کابل کے تخت پہ بیٹھے ہیں۔ گو کہ یہ حکومت اکثر و بیشتر کابل تک ہی محدود دکھائی دیتی ہے۔  دو سابق امریکی صدور ، بش جونیر اور بارک اوباما کے ادوار میں اس حوالے سے مختلف سٹریٹجیز اپنائی جا تی رہیں، جو کہ ابھی تک افگانستان میں امن لانے میں قریب قریب ناکام رہی ہے۔ بہت سے تجزیہ کار کہتے ہیں کہ امن کی کنجی طالبان کے ہاتھ میں ہے ۔ ماضی میں امریکہ اور طالبان کے درمیان بات چیت کے کچھ ادوار قطر وغیرہ میں ہوئے ہیں ۔ حال ہی میں چین اور روس بھی اس حوالے سے متحرک کردار ادا کرنے کے خواہشمند نظر آئے ہیں۔ اس پیچیدہ صورتحال میں نومنتخب امریکی صدر کی افغانستان سے متعلق پالیسی کا سب کو انتظار ہے۔ الجزیرہ کی اس مختصر رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ...

شہباز شریف، شجرکاری اور ہم

چونکہ ہمارے اگلے متوقع وزیراعظم جناب میاں محمد شہباز شریف ہیں... تو ابھی سے ان کے استقبال کی تیاری کے سلسلہ میں پوسٹوں کا آغاز کیا جا رہا ہے... تمام احباب،خواتین و حضرات و دیگر جات جوش و خروش سے مہم میں شرکت فرمائیں 😃 تفنن برطرف... پچھلے سال علی پور چٹھہ سے وزیر آباد جانے والے رستے پر سرکار کی طرف سے شجرکاری کی گئی تھی.... آج عرصہ بعد انہیں دیکھا تو وہ جو کبھی ہوا کے جھونکے سے بھی گر جاتے تھے... آج قد آدم سے اوپر چلے گئے ہیں... سنا ہے یہ سڑک ایک نو متعین اے سی نے اپنے گاؤں کے لیے بنوائی ہے... شاید درخت بھی اسی نے لگوائے ہوں.... بہرحال جس کسی نے بھی لگوائے ہوں... بتانا یہ مقصود ہے کہ تھوڑی سی محنت دہائیوں صدیوں تک کے لیے صدقہ جاریہ اور خیر کا سبب بن جاتی ہے اگست آن پہنچا ہے، بھائی نور الہدی شاہین کی گرین ٹیم کی مہم نے سوشل میڈیا پہ سب کو شجرکاری کا شوق دلایا.... اب  بلاگر رمضان رفیق صاحب نے بھی بالخصوص اگست کے حوالے سے مہم شروع کی ہے ــــــــــــ آئیے خود کو اس خالص  خوشی کا حقدار بنائیں.....حقیقی مسرت کے حصول کا وہ تجربہ جو کروڑوں لگا کر بھ...