تعارف· ویڈیوز· رابطہ

جماعت الدعوۃ سیاست میں : کیوں، کب اور کیسے

افغانستان میں امریکہ کی نئی حکمت عملی

نائن الیون کے بعد افغانستان پہ امریکہ کی چڑھائی کو ڈیڑھ دہائی ہونے کو آئی ہے، مگر جنگ زدہ افغانستان کے باسیوں کو چین کا سانس لینا نصیب نہیں ہو رہا۔ طالبان خود کو افغانستا ن کے جائز حکمران گردانتے ہیں اور بہت سے صوبوں میں ان کی غیر اعلانیہ حکومت بھی موجود ہے۔ دوسری طرف شمالی اتحاد ، سابق مجاہدین رہنماؤں  اور کچھ پختون سرداروں، جنہیں امریکہ کی مدد حاصل ہے، کابل کے تخت پہ بیٹھے ہیں۔ گو کہ یہ حکومت اکثر و بیشتر کابل تک ہی محدود دکھائی دیتی ہے۔  دو سابق امریکی صدور ، بش جونیر اور بارک اوباما کے ادوار میں اس حوالے سے مختلف سٹریٹجیز اپنائی جا تی رہیں، جو کہ ابھی تک افگانستان میں امن لانے میں قریب قریب ناکام رہی ہے۔ بہت سے تجزیہ کار کہتے ہیں کہ امن کی کنجی طالبان کے ہاتھ میں ہے ۔ ماضی میں امریکہ اور طالبان کے درمیان بات چیت کے کچھ ادوار قطر وغیرہ میں ہوئے ہیں ۔ حال ہی میں چین اور روس بھی اس حوالے سے متحرک کردار ادا کرنے کے خواہشمند نظر آئے ہیں۔ اس پیچیدہ صورتحال میں نومنتخب امریکی صدر کی افغانستان سے متعلق پالیسی کا سب کو انتظار ہے۔ الجزیرہ کی اس مختصر رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ...

شہباز شریف، شجرکاری اور ہم

چونکہ ہمارے اگلے متوقع وزیراعظم جناب میاں محمد شہباز شریف ہیں... تو ابھی سے ان کے استقبال کی تیاری کے سلسلہ میں پوسٹوں کا آغاز کیا جا رہا ہے... تمام احباب،خواتین و حضرات و دیگر جات جوش و خروش سے مہم میں شرکت فرمائیں 😃 تفنن برطرف... پچھلے سال علی پور چٹھہ سے وزیر آباد جانے والے رستے پر سرکار کی طرف سے شجرکاری کی گئی تھی.... آج عرصہ بعد انہیں دیکھا تو وہ جو کبھی ہوا کے جھونکے سے بھی گر جاتے تھے... آج قد آدم سے اوپر چلے گئے ہیں... سنا ہے یہ سڑک ایک نو متعین اے سی نے اپنے گاؤں کے لیے بنوائی ہے... شاید درخت بھی اسی نے لگوائے ہوں.... بہرحال جس کسی نے بھی لگوائے ہوں... بتانا یہ مقصود ہے کہ تھوڑی سی محنت دہائیوں صدیوں تک کے لیے صدقہ جاریہ اور خیر کا سبب بن جاتی ہے اگست آن پہنچا ہے، بھائی نور الہدی شاہین کی گرین ٹیم کی مہم نے سوشل میڈیا پہ سب کو شجرکاری کا شوق دلایا.... اب  بلاگر رمضان رفیق صاحب نے بھی بالخصوص اگست کے حوالے سے مہم شروع کی ہے ــــــــــــ آئیے خود کو اس خالص  خوشی کا حقدار بنائیں.....حقیقی مسرت کے حصول کا وہ تجربہ جو کروڑوں لگا کر بھ...

مجھے میرے جنگل میں جانے دو

مجھے جنگل سے یہ کہہ کر شہر لایا گیا.... کہ وہاں روشنیاں ہیں... پکے رستے ہیں.... کتابیں ہیں... ان کتابوں میں کہانیاں  ہیں... پریوں کی.....وہاں جنگل کا قانون نہیں.... عدل و انصاف کا بول بالا ہے....وہاں صاف مقطر پانی نلوں میں بہتا ہے اور  طبیب کسی بھی دکھ درد کی دوا کرنے ہر وقت حاضر و موجود ہوتے ہیں... مخالف قبیلہ آن کی آن میں میرے گھر بار اجاڑ  کے نہ رکھ پائے گا.... یہاں جنگلی جانوروں کا ہر وقت کا خوف اور گھاس پھونس کے گھروندے......  پر تم نے مجھے دیا کیا..... وہی خوف، بے امنی، اندھیرے..... میرا جنگل تم نے مجھ سے چھین لیا اور میری زندگی سے تم  نے خوشی کے وعدے پر خوشی ہی نکال پھینکی ... وہ مسرت جو نیم برہنہ، ادھ بھرے پیٹ، مگر آزاد حیات میں تھی.... اس  کے تم قاتل ہو..... تم نے مجنوں کو صحرا اور مچھلی کو پانی سے باہر نکال کر اسے رنگا رنگ نیون سائنز اور شیشے کے  ڈبوں میں بند کر کے کیا بھلا کیا...... تم نے مجھ سے میری تازہ ہوا اور قناعت کی خو چھین لی..... میری سچی مسکراہٹ  کہاں گئی.... اب تو میں نفرت اور محبت بھی خود پہ ...

آپ کیوں لکھتے ہیں؟؟

مقصدیت ادیب کے لیے بنیادی تحریک بنتی ہے یا محض اپنے اندر چھپے متن کا وفور اسے مجبور کرتا ہے، کہ وہ لکھے اور اس پہ کوئی خاص رنگ نہ چھڑکے، اس کا بازو نہ مروڑے، یہ بحث پتا نہیں کب سے ہو رہی ہے اور امید ہے، جب تک لکھا جاتا رہے گا، یہ جاری رہے گی۔مجھے تو اس مختصر اظہاریے میں بلا کم و کاست اس حوالہ سے اپنا مشاہدہ اور نکتہ نظر بیان کرنا ہے۔ بچپن سے میں نے جو کچھ پڑھا، عمرو عیار سے لے کر ایکسٹو تک، نعیم اور عبداللہ کی تگ و تاز  سے لے کر راشد منہاس شہید کی قربانی تک، مسلکی لٹریچر سے سید مودودی تک، منڈیلا سے لے کر شیخ الحدیث ذکریا کی سوانح تک، البریلویہ سے لے کر بریلویوں کے جواب تک، خوابوں کی سائنسی حقیقت سے لے کر خواب دکھاتے شفیق الرحمان تک، کیمیا گر سے لے دریائے پیڈرا کے کنارے بیٹھ کر روتی دوشیزہ تک، توفیق رفعت سے لے کر ولی اور عباس تابش سے لے کر میر تک، خروج و ارجاء اور تسنن و تجدد سے تصوف اور طریقت تک۔اس سب میں چند ہی چیزیں مشترک تھیں ، جو ہر متن کی تہ میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہوتی تھیں ۔ 1)تخلیقیت کی عطا شدہ صلاحیت کا اظہار۔مادہ خلق، جو القاء و الہام سے عبارت ہے ۔یہ سب ک...