اتوار، 13 اگست، 2017

جماعت الدعوۃ سیاست میں : کیوں، کب اور کیسے

انیس سو نوے کی دہائی کے آخری سال تھے، جب افغان جہاد سے مجاہدین کی ایک بڑٰ ی تعداد کشمیر کے محاذوں کا رُخ کر رہی تھی۔ ان کی اکثریت پاکستانی پنجاب او ر قبائلی علاقہ جات سے تھی۔ ان میں سے سلفیوں یا معروف اصطلاح میں اہل حدیث نوجوانوں کی ایک مناسب تعداد بھی تھی، جو اس سے قبل افغان محاذوں پہ عربوں اور افغانیوں کے شانہ بشانہ روسی استعمار سے لڑرہے تھے اوراصل میں افغانستان کے اندر پاکستان کے دفاع کی جنگ میں مصروف تھے۔ یہ نوجوان اور ان کے قائدین اسلامی نشاۃ ثانیہ اور اسلام کے حرکی پہلو کے خواب دیکھتے تھے اور مقبوضہ مسلمان خطوں کی آزادی ان کے سامنے پہلا بڑا ہدف تھی۔سلفی مجاہدین کے انہی گروہوں نے کشمیر میں لشکر طیبہ کے عنوان سے کارروائیاں شروع کیں ، جبکہ تنظیمی لحاظ سے پاکستان میں یہ تنظیم، مرکز الدعوۃ والارشاد کے بینر تلے ،نوجوانوں کو کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں حصہ لینے کے لیے ابھارتی تھی۔ مرکز الدعوۃ والارشاد ابتدا سے ان تمام آئیڈیلز اور کلچرل مظاہر کی داعی تھی، جو قرون اولیٰ میں اسلامی معاشروں کی پہچان ہوا کرتے تھے۔ان کا کہنا تھا، کہ وہ ایک ایسے معاشرے کی تشکیل چاہتے ہیں، جو اسلامی اصولوں کے مطابق ہو ۔ مرکزا الدعوۃ والارشاد کی قیادت ابتدا ہی سے انجینیرنگ یونیورسٹی لاہور کے ایک سابق پروفیسر ، حافظ محمد سعید کر رہے تھے۔

اگلے بارہ تیرہ سالہ میں مرکزا لدعوۃ والارشاد نے مرید کے میں بہت بڑے بڑے اجتماعات منعقد کیے اور نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنی طرف کھینچا۔ روایتی اہل حدیث جماعتوں میں ان نوجوانوں کے لیے وہ کشش اس لیے نہیں رہی تھی، کہ مرکزالدعوۃ والارشاد کا 'نظام امارت' انہیں قرون اولیٰ کے زیادہ قریب معلوم ہوتا تھا۔جمہوری سیاست اور اقتدار کی کشمکش میں مصروف سیاسی جماعتیں بالعموم اور مذہبی سیاسی جماعتیں بالخصوص مرکز کے قائدین اور علماء کا ہدف تنقید رہتے تھے۔گو کہ اس سب کے دوران بھی مرکز کے زعماء اور دیگر جماعتوں کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ کسی نہ کسی حد تک قائم ضرور رہا۔ مرکز اور لشکر طیبہ سے متعلق پاکستانی حکومت پہ امریکہ اور بھارت کا شدید دباؤ رہا۔ ہزاروں نوجوان وادی کشمیر میں لشکر طیبہ کی طرف سے پہنچے اور اپنی جانوں کو کشمیریوں کی جدوجہد آزادی پہ وار دیا۔ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کا یہ انتہائی اہم مرحلہ تھا اور پاکستانی نوجوانوں کے تازہ خون نے بین الاقوامی اصولوں کے مطابق اس جائز جدوجہد کو عالمی منظرنامے پہ نمایاں کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

نائن الیون کے بعد جہادی تنظیموں کے لیے جیسے سب کچھ بدل گیا اور کشمیر کے محاذ پہ بھی پرویز مشرف نے یوٹرن لیا۔ ایسے میں مرکز الدعوۃ والارشاد کو جماعت الدعوۃ کے نام سے بدل دیا گیا۔ دو ہزارپانچ کے زلزلے کے بعد جماعت الدعوۃ کے رضاکاروں کی ریسکیو، ریلیف اور بحالی کے کاموں نے پوری قوم کی نظریں اپنی طرف مبذول کروا لیں اور یوں جماعت ایک منظم ، مخلص اور سنجیدہ ورک فورس کے طور پہ ابھر کر سامنے آئی۔ فلاح انسانیت فاؤنڈیشن (FIF)کے نام سے جماعت الدعوۃ نے تب سے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ تھر کے صحرا، گلگت بلتستان کے کہسار، بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقے ، پنجاب کے میدان، سری لنکا کے سونامی زدہ ساحل، شام فلسطین اور ایتھوپیا کے جنگ اور قحط زدہ لوگ، ان سب تک کسی نہ کسی شکل میں پہنچ کر انسانیت کی خدمت کے لیے جماعت الدعوۃ اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ جماعت کی خدمت خلق کی ان سرگرمیوں کا ،عالمی میڈیا، باخبر صحافی اور تما م انصاف پسند حلقے ، سب اعتراف کرتے ہیں۔

ڈکٹیٹر کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے جب پاکستان میں ریاست مخالف گروہوں نے سر اٹھایا اور اسے جہاد کا نام دیا، تو جماعت الدعوۃ اس فتنے کی علمی سرکوبی کے لیے شاید سب سے پہلے آگے بڑھی تھی۔ ان گروہوں کی پراپیگنڈہ مہم بڑی مضبوط تھی اور وہ یہی ظاہر کر رہے تھے کہ انہیں صرف 'اسلام کی سربلندی'سے دلچسپی ہے ، گو کہ حقیقت بعد میں واضح ہو گئی ، کہ ان کی سربلندی سے کن کن ہمسایہ اور بزعم خود 'ہر ایک کی ہمسایہ ہونے کی دعویدار ریاست' کو دلچسپی تھی۔ ایسے میں جماعت الدعوۃ کے کیڈرز میں دوسری جہادی جماعتوں کی نسبت سب سے کم ٹوٹ پھوٹ ہوئی۔ چونکہ سلفی سکول آف تھاٹ کے مطابق ریاست کے حکام کے خلاف خروج انتہائی ناپسندیدہ ہے ، اسی وجہ سے انتہائی نامساعد حالات اور طعن و تشنیع سے لے کر جانی نقصان اٹھانے تک کے باوجود بھی جماعت الدعوۃ نے پاکستان میں حملوں اور ریاستی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کی سخت مزاحمت کی ۔ ان کا کہنا تھا ، کہ کسی مسلمان کا دوسرے مسلمان پہ ہتھیار اٹھانا حرام ہے ۔انہیں اس مؤقف کی وجہ سے 'سرکاری جہادی'، 'کنٹرولڈ جہادی'اور 'جی ایچ کیو کے بندے' کہا جاتا رہا ہے ۔ بہرحال اس سب کے باوجود ہم یہ کہنے پہ مجبور ہیں ، کہ جماعت الدعوۃ نے پاکستان میں ریاست یا عوام ، مخالف یا موافق، مسلم یا غیر مسلم، کسی کے خلاف کوئی مسلح یا غیر مسلح کارروائی نہیں کی۔ جہاں تک کشمیر میں لشکر طیبہ کی کارروائیوں کا تعلق ہے، تو وہ کشمیر کی جدوجہد آزادی سے متعلق وہی مؤقف رکھتے ہیں ، جو ایک عام پاکستانی اور ریاست پاکستان رکھتی ہے۔ ہم دیکھتے رہہے ہیں ، کہ ان کے اجتماعات میں اسٹیبلشمنٹ مخالف لوگ بھی اتنے ہی جوش و جذبے اور عقیدت سے شامل ہوتے رہے ہیں اور ہوتے ہیں ، جس سے پرو اسٹیبلشمنٹ شامل ہوتے ہیں ۔ تمام مسالک کے نمائندگان، صاحبان جبہ و دستار، سیاسی جماعتوں کے نمائندے ، این جی اوز کے لوگ اور پروفیشنلز ، سب ان کے اسٹیج پہ اکٹھے بیٹھے نظر آتے ہیں۔

جماعت الدعوۃ کے نظریات کسی بھی دائیں بازہ کی دیگر جماعت کے نظریات جیسے ہی ہیں اور اس نے دعوت کے میدان میں ارتقائی منازل طے کی ہیں ۔ ایک وقت تھا، کہ کہ جماعت کے جلسوں میں تصویر کی اجازت تھی اور نہ مووی بن سکتی تھی۔ابتدائی ایام میں تو کچھ کارکنان اس قدر شدت اختیار کرتے تھے کہ مخالف مسلک کی مسجد میں نماز پڑھنا بھی پسند نہ کرتے تھے ۔ لیکن امت مسلمہ کے اجتماعی حالات اور دعوت کے میدان میں نرم گرم برداشت کرتے کرتے ، گرتے سنبھلتے، دیکھتے بھالتے اور اتفاق و اختلاف کے فلسفہ کی عملی تشریھات و تطبیقات یعنی مختصر لفظوں میں فقہ الدعوۃ کو میدان میں پڑھنے کے بعد آج جماعت الدعوۃ اس جگہ پہنچی ہے، کہ اس کے دو تین بڑے امتیازات میں سے ایک، امت کے مختلف مسالک کو ایک جگہ جمع کرنا اور اختلاف کو ختم کرنے کی عملی کوششیں کرنا ہے۔

اب آتے ہیں اس مسئلہ کی طرف جس سے ہمیں بالخصوص گفتگو کرنا ہے ، یعنی جماعت الدعوۃ کا مستقبل قریب میں ایک سیاسی جماعت کے طور پہ انتخابی سیاست میں داخل ہونا۔ شنید ہے کہ ہفتہ عشرہ میں "ملی مسلم لیگ پاکستان " کے نام سے ایک سیاسی جماعت کا اعلان ہونے والا ہے، جس کے چیرمین ، جماعت الدعوۃ کے ذیلی ادارے 'فلاح انسانیت فاؤنڈیشن' کے موجودہ صدر حافظ عبدالرؤف ہوں گے۔

جماعت الدعوۃ چونکہ انتہائی سختی سے جمہوری سیاست کی مخالفت کرتی رہی ہے، اس لیے بار بار کی پابندیوں اور پکڑ دھکڑ کے باوجود اسے ایک کور کے طور پہ بھی خود کو ایک سیاسی جماعت کے طور پہ سامنے لانا آسان نہیں رہا۔ جماعت کے سامنے یہ چیلنج کچھ عرصہ سے تھا، کہ اندریں حالات، جب اس کے تعلیمی، فلاحی اور مذہبی سیٹ اپ کو بار بار بیرونی دباؤ کے باعث اکھاڑ پچھاڑ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ کیسے خود کو ایک جمہوری جماعت کے طور پہ پیش کرے اور اس دباؤ سے جان چھڑانے کی کچھ سبیل کرے، جب کہ وہ اس طرز حکومت اور سیاست کی شدید ترین ناقد رہی ہے ۔ البتہ اس سب کے دوران دوسری مذہبی سیاسی جماعات نے جماعت الدعوہ کی قیادت کو اس طرف قائل و مائل کرنے کی کوشش جاری رکھی۔2013ء کے انتخابات سے پہلے بھی ایسی ایک کوشش کی گئی، جو بہرحال کامیاب نہ ہو سکی۔ ایک ایشو یہ بھی تھا، کہ کارکنان کی ایک بڑی تعداد کے بددل ہونے کا خدشہ تھا۔ پھر یہ بھی کہ ہمعصر مذہبی سیاسی جماعتیں ، بالخصوص اہل حدیث فکر کی حامل اور ذہنی طور پہ القاعدہ کی فکر کے قریب نوجوانوں کی طرفف سے استہزاء و تضحیک کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ، جیسا کہ ہم اسے سوشل میڈیا میں شروع ہوا دیکھ بھی چکے ہیں ۔ اس سب کے باوجود میری دانست میں جماعت کی قیادت نے ایک عمدہ فیصلہ کیا ہے ۔ اسلام کو بطور نظام ریاست کے تمام شعبوں میں فائق اور معمول بہ دیکھنے کے خواہش مند ہر گروہ اور فرد کو سمجھنا چاہیے کہ جماعت الدعوۃ کے فکری ارتقاء کی یہ ایک اہم منزل ہے۔ انہوں نے بالغ نظری کا ثبوت دیتے ہوئے یہ سمجھ لیا ہے کہ منزل واضح ہو، تو سٹریٹیجی تبدیل کی جا سکتی ہے۔ سٹریٹجی کو مائع (Fluid)رکھنا ویسے بھی زندہ تحاریک کی نشانی ہے ۔ جمہوریت کے اندر بہت سی خامیاں ہیں اور ان خامیوں کی نشاندہی صرف جماعت الدعوۃ ہی نہیں کرتی چلی آ رہی ، خود مغرب کے علمی حلقوں سے ایسی توانا آوازیں اٹھتی رہتی ہیں ۔جماعت الدعوۃ کی قیادت اگر ان کی طرف اشارہ کرتی رہی ہے اور حق جان کر کرتی رہی ہے، تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ اب جماعت الدعوۃ نے اگر یہ سمجھ لیا ہے، کہ معاشرے کی اجتماعی صورت گری کے لیے تحریکی حلقوں کا سیاسی ہونا آج کی سب سے بڑی ضرورت ہے ، تو اس سے بہتر بات اور کیا ہو گی۔ وہ لاکھوں نوجوان، جو جماعت کے حلقوں سے وابستہ ہیں ، انہیں مثبت سیاسی سرگرمی کے ذریعے اپنے وطن کی فلاح و بہبود میں ہاتھ بٹانے کا موقع ملے، اس سے بہتر کیا ہو گا۔اسلامی تحاریک کے کارکنان خلا میں نہیں رہ سکتے، انہیں جس پراڈکٹ کو تیار کرنا ہے، اگر اسے میدان عمل ہی نہ مل پائے، تو ڈیپریشن دور کرنے کے جو متبادل میدان میسر ہیں ، ان کے تعمیری یا تخریبی ہونے کا فیصلہ اصحابِ دانش بخوبی کر سکتے ہیں۔

حافظ عبدالرؤف صاحب شب زندہ دار آدمی ہیں ، خوبصورت اور انتہائی متحرک، صالحیت و صلاحیت کا بہترین متوازن نمونہ۔ فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کو ایک عالمی سطح کی این جی او بنانے میں حافظ عبدالرؤف کی بصیرت اور انتطامی صلاحیتوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ دن رات سفر میں رہنے والا یہ آدمی آواران میں ناراض بلوچوں کے ہاتھوں رسیوں میں بندھا رہا، کہ وہ سیلاب کے بعد ریلیف کا کام کرنے نہیں دینا چاہ رہے تھے۔ اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے دل پلٹے اور حافظ صاحب کو چند شرائط کے ساتھ کام کی اجازت دی، آج ان تمام علاقوں میں ، جہاں پاکستانی پرچم تک نہیں لہراتا تھا، فلاح انسانیت فاؤنڈیشن اور اس کے توسط سے پاکستان کا پھریرا لہراتا ہے ۔ خدمت تو گویا ان کی گھٹی میں ہے اور عاجزی طرہ امتیاز۔ جماعت الدعوۃ کی قیادت نے ایک عمدہ آدمی اس اہم مہم کے لیے منتخب کیا ہے ۔

اب کچھ باتیں دیگر مذہبی اور مذہبی سیاسی جماعتوں کی قیادت اور کارکنان کے ردعمل کی ،۔ مجھے امید ہے، کہ جس رستے کو وہ امت مسلمہ اور مسلمانان پاکستان کی اجتماعی فلاح کے لیے درست سمجھتے تھے ، اب جب کہ علی وجہ البصیرت جماعت الدعوۃ اس رستے پہ آئی ہے، تو وہ ان کا کھلے دل سے استقبال کریں گے اور رہنمائی بھی۔ اگر ان کا مشن حق تھا اور اس پہ ان کے ساتھ چلنے ایک اور گروہ آن پہنچا ہے، تو ان کا کردار طے کرے گا کہ وہ پہلے اپنی تنقید میں سچے تھے یانہیں۔ مجھے علم ہے کہ دیگر جماعتوں کی قیادت نے جماعت الدعوۃ کو اس طرف لانے اور اس مشکل فیصلہ تک پہنچنے میں کس قدر کمک پہنچائی ہے ۔ مستقبل قریب کی سیاسی صف بندی اس پہ مہر تصدیق ثابت کر دے گی ان شاءاللہ ۔جماعت الدعوۃ کے کارکنان کے لیے شاید یہ ایک بڑا دھچکا ہو، لیکن انہیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان حالات میں اس سے بہتر فیصلہ شاید ممکن نہ تھا۔


جماعت الدعوۃ کے لیے یہ ایک لمبے اور مشکل سفر کا آغاز ہے، اس کا سٹرکچر، نظم اور تربیتی نظام نئے سرے سے ترتیب دینا ہو گا۔کارکنان، ارکان اور محبت کرنے والوں کو باقاعدہ تنظیم سازی کے عمل سے گزار کر جدید سیاسی مشین کے طور پہ کامیاب کرنے کا عمل انتہائی لازمی ہے۔میرے خیال میں جماعت الدعوۃ کی سینیر قیادت نے اگلی نسل کو اختیارات منتقل کرنے کا باقاعدہ سلسلہ شروع کر دیا ہے ۔ایسے transitory مرحلے میں انتہائی احتیاط سے پرانے کارکنان کو جمع رکھنے اور نئے والوں کو قریب کرنے کے لیے سائنسی بنیادوں پہ تنظیم سازی کی ضرورت ہے ۔ پہلے سے موجود ڈھیلے ڈھالے سٹرکچر سے پرانا کام تو چل سکتا تھا، نیا کام بالکل مختلف اور الگ حرکیات کا متقاضی ہے ۔ سوشل میڈیا کی اہمیت اور آزاد فیصلہ سازی اور پالیسی سازی کی صلاحیت کی حامل جماعت ، جسے تمام شعبہ ہائے زندگی میں اہل اور قابل افراد کو اپنی طرف راغب کرنا ہے۔ جماعت اسلامی اور اخوان المسلمون سے سیکھنے میں کوئی باق نہیں ہونا چاہیے ۔ رہے حزب النور بننے کے طعنے اور اسٹیبلشمنٹ کی مسلم لیگ کا ٹیگ لگانے والے دوست، تو یاد رکھیے ، ان بھائیوں سے آپ کو محبت سے پیش آنے کے علاوہ کوئی آپشن ہی نہیں ہے ۔ ردعمل کی سیاست کرنے والے سیاسی رہنما اور جماعتیں زیادہ وقت تک منظر پہ نہیں رہ پاتیں۔
 ​
آخر میں ملخص یہی کہ جماعت الدعوۃ کی قیادت نے بالغ نظری کا مظاہری کرتے ہوئے اپنے زیر اثر حلقوں کو تخریب کی بجائے تعمیر کے کاموں میں مشغول کرنے کے لیے "ملی مسلم لیگ" کے قیام کا جو فیصلہ کیا ہے، وہ ہماری نظر میں انتہائی درست، مبنی بر بصیرت اور ملک و ملت کے لیے مفید ہے ۔ ہم تمام سیاسی حلقوں ، بالخصوص مذہبی جماعتوں کے قائدین و کارکنان سے امید رکھتے ہیں ، کہ وہ کھلے دل اور باہوں سے ان کا استقبال کریں گے اور سرحدوں پہ چھائے خطرات اور اندرونی خلفشار کو ختم کرنے ، ملک کو جدید اسلامی فلاحی ریست بنانے میں ان بھائیوں کو مثبت کردار کرنے کے اس نئے سفر پہ خوش آمدید کہیں گے اور رہنمائی کریں گے۔

فلک شیر چیمہ

بدھ، 2 اگست، 2017

افغانستان میں امریکہ کی نئی حکمت عملی

نائن الیون کے بعد افغانستان پہ امریکہ کی چڑھائی کو ڈیڑھ دہائی ہونے کو آئی ہے، مگر جنگ زدہ افغانستان کے باسیوں کو چین کا سانس لینا نصیب نہیں ہو رہا۔ طالبان خود کو افغانستا ن کے جائز حکمران گردانتے ہیں اور بہت سے صوبوں میں ان کی غیر اعلانیہ حکومت بھی موجود ہے۔ دوسری طرف شمالی اتحاد ، سابق مجاہدین رہنماؤں 
اور کچھ پختون سرداروں، جنہیں امریکہ کی مدد حاصل ہے، کابل کے تخت پہ بیٹھے ہیں۔ گو کہ یہ حکومت اکثر و بیشتر کابل تک ہی محدود دکھائی دیتی ہے۔ 
دو سابق امریکی صدور ، بش جونیر اور بارک اوباما کے ادوار میں اس حوالے سے مختلف سٹریٹجیز اپنائی جا تی رہیں، جو کہ ابھی تک افگانستان میں امن لانے میں قریب قریب ناکام رہی ہے۔ بہت سے تجزیہ کار کہتے ہیں کہ امن کی کنجی طالبان کے ہاتھ میں ہے ۔ ماضی میں امریکہ اور طالبان کے درمیان بات چیت کے کچھ ادوار قطر وغیرہ میں ہوئے ہیں ۔ حال ہی میں چین اور روس بھی اس حوالے سے متحرک کردار ادا کرنے کے خواہشمند نظر آئے ہیں۔ اس پیچیدہ صورتحال میں نومنتخب امریکی صدر کی افغانستان سے متعلق پالیسی کا سب کو انتظار ہے۔ الجزیرہ کی اس مختصر رپورٹ کے مطابق امریکی صدر کے سامنے تین آپشنز ہیں۔
 امن عمل کو آگے بڑھانا
 فوجیوں کی تعداد آگے بڑھانا
افغانستان سے فوری انخلاء
دیکھنا یہ ہے، کہ افغان حکومت، طالبان اور ہمسایہ طاقتوں کے درمیان یہ مشکل گیم کیا رخ اختیار کرتی ہے۔
فلک شیر

جمعہ، 28 جولائی، 2017

شہباز شریف، شجرکاری اور ہم



چونکہ ہمارے اگلے متوقع وزیراعظم جناب میاں محمد شہباز شریف ہیں... تو ابھی سے ان کے استقبال کی تیاری کے سلسلہ

میں پوسٹوں کا آغاز کیا جا رہا ہے... تمام احباب،خواتین و حضرات و دیگر جات جوش و خروش سے مہم میں شرکت فرمائیں

😃

تفنن برطرف... پچھلے سال علی پور چٹھہ سے وزیر آباد جانے والے رستے پر سرکار کی طرف سے شجرکاری کی گئی

تھی.... آج عرصہ بعد انہیں دیکھا تو وہ جو کبھی ہوا کے جھونکے سے بھی گر جاتے تھے... آج قد آدم سے اوپر چلے گئے

ہیں... سنا ہے یہ سڑک ایک نو متعین اے سی نے اپنے گاؤں کے لیے بنوائی ہے... شاید درخت بھی اسی نے لگوائے ہوں....

بہرحال جس کسی نے بھی لگوائے ہوں... بتانا یہ مقصود ہے کہ تھوڑی سی محنت دہائیوں صدیوں تک کے لیے صدقہ جاریہ

اور خیر کا سبب بن جاتی ہے

اگست آن پہنچا ہے، بھائی نور الہدی شاہین کی گرین ٹیم کی مہم نے سوشل میڈیا پہ سب کو شجرکاری کا شوق دلایا.... اب 

بلاگر رمضان رفیق صاحب نے بھی بالخصوص اگست کے حوالے سے مہم شروع کی ہے ــــــــــــ آئیے خود کو اس خالص 

خوشی کا حقدار بنائیں.....حقیقی مسرت کے حصول کا وہ تجربہ جو کروڑوں لگا کر بھی نہیں ملتی....وہ مسرت جو اگلے 

اگست میں ان پودوں کو جوان دیکھ کر آپ کو ہو گی ان شاءاللہ.... اللہ تعالٰی توفیق دیں اور قبول کریں 

کراچی سے ہمارے مرشد، کمال کے شاعر اور بلاگر محمد احمد بھائی کے تازہ شعر ہیں، کہ :


دھوپ ہے تو کیسا شکوہ، آپ خود سایہ بنیں
بے غرض کرتے ہیں سب سرو و سمن حُسنِ سلوک 


مسکرائیں، رنج بانٹیں، اور شجر کاری کریں
چاہتے ہیں آپ سے کوہ و دمن حُسنِ سُلُوک

آپ بھی احمدؔ فقط ناصح نہ بنیے، کیجے کچھ!
ہر ادا حُسنِ ادا ہو، ہر سخن حُسنِ سُلُوک



منگل، 25 جولائی، 2017

مجھے میرے جنگل میں جانے دو

مجھے جنگل سے یہ کہہ کر شہر لایا گیا.... کہ وہاں روشنیاں ہیں... پکے رستے ہیں.... کتابیں ہیں... ان کتابوں میں کہانیاں 

ہیں... پریوں کی.....وہاں جنگل کا قانون نہیں.... عدل و انصاف کا بول بالا ہے....وہاں صاف مقطر پانی نلوں میں بہتا ہے اور 

طبیب کسی بھی دکھ درد کی دوا کرنے ہر وقت حاضر و موجود ہوتے ہیں... مخالف قبیلہ آن کی آن میں میرے گھر بار اجاڑ 

کے نہ رکھ پائے گا.... یہاں جنگلی جانوروں کا ہر وقت کا خوف اور گھاس پھونس کے گھروندے...... 

پر تم نے مجھے دیا کیا..... وہی خوف، بے امنی، اندھیرے..... میرا جنگل تم نے مجھ سے چھین لیا اور میری زندگی سے تم 

نے خوشی کے وعدے پر خوشی ہی نکال پھینکی ... وہ مسرت جو نیم برہنہ، ادھ بھرے پیٹ، مگر آزاد حیات میں تھی.... اس 

کے تم قاتل ہو..... تم نے مجنوں کو صحرا اور مچھلی کو پانی سے باہر نکال کر اسے رنگا رنگ نیون سائنز اور شیشے کے 

ڈبوں میں بند کر کے کیا بھلا کیا...... تم نے مجھ سے میری تازہ ہوا اور قناعت کی خو چھین لی..... میری سچی مسکراہٹ 

کہاں گئی.... اب تو میں نفرت اور محبت بھی خود پہ طاری کرتا ہوں.... ہاں ہوس ہے کہ خالص ہے تمہارے ان سیمنٹ سریے 

کے جنگلوں میں..... لطافت اور نرمی کا یہاں کیا کام.... تم نے مجھے کہاں لا پھینکا، جہاں تتلی اور گلہری کو دیکھتے رہنے 

جیسی لطیف تفریح پاگل پن ہے.... 

تمہیں شاید پتا ہی نہیں. کہ تم نے مجھے اشرف سے اسفل بنا ڈالا..... 

مجھے اپنے جنگل میں واپس جانے دو..... یہ روشنیاں،رستے اور ریاستیں.... تمہاری ہیں.... تم رکھو.... مجھے اپنے جنگل 

میں واپس جانے دو اور ان نوعمروں کی طرح ایک بار کھلکھلا کر ہنسنے دو....... 


فلک شیر


منگل، 11 اپریل، 2017

آپ کیوں لکھتے ہیں؟؟


مقصدیت ادیب کے لیے بنیادی تحریک بنتی ہے یا محض اپنے اندر چھپے متن کا وفور اسے مجبور کرتا ہے، کہ وہ لکھے اور اس پہ کوئی خاص رنگ نہ چھڑکے، اس کا بازو نہ مروڑے، یہ بحث پتا نہیں کب سے ہو رہی ہے اور امید ہے، جب تک لکھا جاتا رہے گا، یہ جاری رہے گی۔مجھے تو اس مختصر اظہاریے میں بلا کم و کاست اس حوالہ سے اپنا مشاہدہ اور نکتہ نظر بیان کرنا ہے۔

بچپن سے میں نے جو کچھ پڑھا، عمرو عیار سے لے کر ایکسٹو تک، نعیم اور عبداللہ کی تگ و تاز  سے لے کر راشد منہاس شہید کی قربانی تک، مسلکی لٹریچر سے سید مودودی تک، منڈیلا سے لے کر شیخ الحدیث ذکریا کی سوانح تک، البریلویہ سے لے کر بریلویوں کے جواب تک، خوابوں کی سائنسی حقیقت سے لے کر خواب دکھاتے شفیق الرحمان تک، کیمیا گر سے لے دریائے پیڈرا کے کنارے بیٹھ کر روتی دوشیزہ تک، توفیق رفعت سے لے کر ولی اور عباس تابش سے لے کر میر تک، خروج و ارجاء اور تسنن و تجدد سے تصوف اور طریقت تک۔اس سب میں چند ہی چیزیں مشترک تھیں ، جو ہر متن کی تہ میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہوتی تھیں ۔

1)تخلیقیت کی عطا شدہ صلاحیت کا اظہار۔مادہ خلق، جو القاء و الہام سے عبارت ہے ۔یہ سب کو عطا نہیں ہوتا، خواہ کوئی کسی نظریے سے کس قدر متاثر کیوں نہ ہو اور کسی منظر ، واقعے سے کسی مقدر اثر قبول کیوں نہ کرے۔ یہ جس کو ملتا ہے، وہی اس قابل ہوتا ہے ، کہ اسے چمکا لے ، اسے عدم سے وجود میں لانا میرے خیال میں کسی کے بس میں نہیں ۔ آپ شاعر، ادیب یا تخلیق کار ہیں یا نہیں ہیں ، درمیانی کوئی صورت نہیں ہوتی۔تو میرے خیال میں کوئی شخص تب ہی لکھ پاتا ہے، جب وہ اس مادہ سے کچھ نہ کچھ حصہ منطقہ غیب سے پاتا ہے ، جیسا کہ بہت سے ادباء و شعراء نے اس حوالہ سے اپنے تجربات اور خیالات کو پیش کیا ہے ۔ 

2)مقصدیت، یعنی کسی نظریے سے متاثر ہونا ۔جو حق سمجھنا، اس کی تبلیغ ۔ اس حوالے سے کس قدر لکھا گیا ہے ، ہم سب بخوبی واقف ہیں ۔ تمام مذہبی ، اصلاحی ، انقلابی لٹریچر اسی قبیل سے ہے۔ بلکہ وہ تمام لتریچر بھی ، جو یہ دعوا رکھتا ہے، کہ وہ محض تفریح کے لیے لکھا گیا ہے اور کسی خاص نظریہ کا پرچارک نہیں ہے ، وہ بھی کسی نہ کسی نظریہ حیات کے تابع ہی ہوتا ہے اور اس کا بے نظریہ بتایا جانا محض ایک غلط فہمی ہوتا ہے اور کچھ بھی نہیں ۔ سو ادب برائے ادب اور ادب برائے زندگی کے دونوں مدارس فکر دراصل ایک نطریے کے پیروکار ہیں ۔ایک کے ہاں مقصدیت کسی مذہب، نظریہ اخلاق یا روحانی تجربہ و اظہار سے پھوٹتی ہے ، تو دوسرے کے ہاں زندگی کے مادی پہلو کو زیادہ اہمیت دینے کا نظریہ طاقتور ہوتا ہے۔ ویسے صرف شہرت کا حصول بھی ایک مقصد ہے اور ایک نظریہ حیات کے تابع ہے اور اس کے لیے لکھنے والے بھی کم نہیں ہیں۔

3)مالی یافت۔ایک وقت تھا، میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا، کہ کوئی شخص اپنا لفط بیچ سکتا ہے۔ لفظ ایک اونچی علامت تھی میرے ذہن میں ، جس کی حرمت اور تحریک پہ جان دی جا سکتی ہے ۔ جو سامنے کی حقیقتوں سے ماورا ، اعلیٰ اورخالص و لطیف حقیقتوں کے در کھولتا ہے ۔پھر پتہ چلا کہ روٹی کے دولقمے بہت بڑی حقیقت ہیں، جو آنکھ بند کرنے پہ مجبور بھی کر سکتے ہیں ۔پھر سمجھ آئی ہے، کہ یہ تو پیشہ بھی ہے ، سو حق لکھ کر بیچا بھی سکتا ہے، گو کم ہی کا حق بکتا ہے ، زیادہ اس سے "حق" ہی وصول کرتے ہیں۔ خیر لکھنے کی ایک وجہ یہ بھی ہوتا ہے اور جب یہ ہوتا ہے، تو پھر بہت دفعہ قلم صرف وہ نہیں لکھتا، جو لکھنے والا کا ایمان و مقصد اور نظریہ ہوتا ہے ۔

4)معلوم انسانی مسائل، تعلقات، خدشات سے لے کر غیب کی پر کشش یا ڈرانے والے مظاہر کے درمیان پیش قدمی یا رجعت کا مسلسل سفر۔ لتریچر اسی سے عبارت ہے۔ 

تو کوئی کیوں لکھتا ہے ، مجھے لگتا ہے، کہ انہی مندرجہ بالا تحاریک کی انگیخت سے لکھا جاتا ہے۔اگر ہر تحریر کے پیچھے موجود مقاصد کی وین ڈایا گرام بنائی جائے ، تو ہر تحریر میں ان کی فیصد مختلف ہو گی، لیکن ہو گی یہی۔ یہ سب وجوہات بالعموم ان لوگوں کے لکھنے کی ہیں، کہ لکھنا جن کا مسئلہ ہے ۔

فلک شیر