تعارف· ویڈیوز· رابطہ

کاٹالونیا کے انسانی معیار اور اعلیٰ جمالیاتی تجربات کا مابعدالطبیعاتی پہلو

(تصویر بشکریہ گارجین ویب گاہ)  اونچائی، حیرانی ،وجدان، شدت جذبات،حتی کہ حسی تلذذ کاہر انتہائی نوعیت تجربہ اپنی اصل میں مابعدالطبیعاتی ہی ہے ۔۔سپین کا ایک صوبہ ہے کاٹالونیا، جہاں کے رہائشی پچھلے کچھ عرصہ سے سپین سے علیحدگی چاہ رہے ہیں ، اپنی تہذیب اور دیگر مختلف اسباب کی وجہ سے، انہوں نے حکومت سازی بھی کی ، لیکن سپین کی حکومت نے اسے تسلیم نہیں کیا، ان کے ہاں ایک روایت ہے کہ ہزاروں لوگ ایک دوسرے کے کندھوں پہ سوار ہو کر انسانی مینار سا بناتے ہیں ، اسی سے ملتی جلتی روایت ہندوستان میں بھی ہے ۔ بچوں، عورتوں اور بڑوں کا اس حوالے سے جذباتی تعلق اور کامیابی سے مینار بنا پانے پہ خوشی کا اظہار محض ثقافت سے تعلق کی کہانی نہیں سناتا، بلکہ انسانی تجربات میں سے اعلیٰ جذبات اور تسکین کے بالاتر مصادر کا مابعدالطبیعاتی ہونا ہی بتاتا ہے ۔ اس ربط پہ اس حوالہ سے ڈاکیومینٹری دیکھی جا سکتی ہے۔

The Hour of Lynching ... بھارت میں گاؤ رکھشا کے نام پہ مسلم کشی

(تصویر بشکریہ بی بی سی ویب سائٹ) شرلے ابراہام اور امیت مدھیشیا نامی دو بھارتی نوجوانوں کی بنائی اس ڈاکیومینٹری "دی آور آف لنچنگ"سے مذہبی نفرت کے گرد گھومتی بھارتی سیاست، مسلمانوں کی حالت زار، جدید و قدیم کی کشمکش میں ڈولتی اور متزلزل مسلم نوجوان آبادی، ماضی قریب میں مذاہب سے بیزاری کی عالمی لہر کے نتیجے میں سوشلسٹ پارٹیوں اور نظریات کی طرف جھکاؤ ۔۔۔سب آشکارا ہو جاتا ہے ۔ ایک نوجوان دیہاتی مسلمان بھارتی حکمران پارٹی بی جے پی کے لاٹھیالوں اور تلوار بردار غنڈوں کے ہاتھوں قتل ہوتا ہے اور وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ وہ ایک گائے اسمگل کرنے کی کوشش کر رہا تھا، جبکہ بی جے پی کے غنڈے گائے امی کی حفاظت کا دینی فریضہ سرانجام دے رہے تھے۔ بی جے پی کا مقامی ایم پی اے اور کونسلر ٹائپ لوگ ان کے ساتھ کھڑے ہیں ، جبکہ راکبر خان نامی مسمل نوجوان کی بیوہ، جوان بچی اور چھوٹے نوعمر بچوں کی حالت زار ۔۔۔سب اس مختصر ڈاکیومنٹری میں دکھایا گیا ہے۔۔بنانے والے بھی ہندو ہیں ، غالباً یہ نوجوان کنہیا کمار جیسے یونیورسٹی سوشلسٹوں سے متاثر ہیں۔  درج ذیل لنک پہ ویڈیو دیکھی جا سکتی ہے ۔ The Hour of L...

مارچ میں عورت مارچ

مجھے یاد پڑتا ہے کہ ابا جی بچپن لڑکپن میں ناراض ہوتے تو بعض اوقات دنوں تک وہ غصے اور میں ڈر سے بات نہ کرتا ، لیکن باجی (والدہ) ناراض ہو جاتیں تو نیند نہ آتی، معافی تلافی کر کے ہی سکون آتا ، تو بھائی ہمارے تو دل پہ عورت کا سکہ چلتا ہے، یہ موزوں والی بیبیاں بے چاری اپنے تئیں جس "جہاد فیمینزم" پہ نکلی ہیں، یہ قطعی کوئی نئی بات نہیں ، بس بات اتنی سی ہے کہ الگ طرح کی زبان میں کمپوز کی گئی یک سطری عبارتیں انہیں "عام عورت" کے طور پہ پیش کر کے ہمارے معاشرتی دھارے میں دھارے کے رخ بہتے عامی کو مزید کنفیوز اور مائل بہ "مساوات" کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ وہ دوست جو ان "مجاہدات" اور ان کے ہینڈلرز کو اس کمپین میں "جائیداد کے حق" اور "تعلیم کے موقع" جیسے "جائز نعرے" استعمال کرنے کی تلقین کر رہے ہیں، ہمیں ان کی نیت پہ قطعی کوئی شک نہیں ، البتہ یہ ضرور سمجھتے ہیں کہ انہیں پوری بصیرت سے یہ جان لینا چاہیے کہ اس گروہ کا مقصد خواتین کے حقوق وغیرہ نہیں ہیں، ان کا مقصد گھر کے قلعے کو مسمار کرنا ہے، گھر نام کا یہ قلعہ ابھی تک کسی نہ کسی ...