اے جذبہ دل گر میں چاہوں ــــــــــــ بہزاد لکھنوی
اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے منزل کے لیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے کشتی کو خدا پر چھوڑ بھی دے، کشتی کا خدا خود حافظ ہے مشکل تو نہیں ان موجوں میں بہتا ہوا ساحل آ جائے اے شمع! قسم پروانوں کی، اتنا تو مری خاطر کرنا اس وقت بھڑک کر گُل ہونا جب بانیِ محفل آ جائے اس جذبۂ دل کے بارے میں اک مشورہ تم سے لیتا ہوں اس وقت مجھے کیا لازم ہے جب تم پہ مرا دل آ جائے اے راہبرِ کامل! چلنے کو تیار تو ہوں بس یاد رہے اس وقت مجھے بھٹکا دینا جب سامنے منزل آ جائے اس عشق میں جاں کو کھونا ہے، ماتم کرنا ہے، رونا ہے میں جانتا ہوں جو ہونا ہے، پر کیا کروں جب دل آ جائے ہاں یاد مجھے تم کر لینا، آواز مجھے تم دے لینا اس راہِ محبت میں کوئی درپیش جو مشکل آ جائے اب کیوں ڈھونڈوں وہ چشمِ کرم، ہونے دے ستم بالائے ستم میں چاہتا ہوں اے جذبۂ غم، مشکل پسِ مشکل آ جائے اے برقِ تجلّی کیا تُو نے مجھ کو بھی موسیٰ سمجھا ہے؟ میں طُور نہیں جو جل جاؤں، جو چاہے مقابل آ جائے اے دل کی لگی! چل یونھی سہی، چلتا تو ہوں ان کی محفل میں اس وقت مجھے چونکا دینا جب رنگ ...