تعارف· ویڈیوز· رابطہ

مارچ میں عورت مارچ

مجھے یاد پڑتا ہے کہ ابا جی بچپن لڑکپن میں ناراض ہوتے تو بعض اوقات دنوں تک وہ غصے اور میں ڈر سے بات نہ کرتا ، لیکن باجی (والدہ) ناراض ہو جاتیں تو نیند نہ آتی، معافی تلافی کر کے ہی سکون آتا ، تو بھائی ہمارے تو دل پہ عورت کا سکہ چلتا ہے، یہ موزوں والی بیبیاں بے چاری اپنے تئیں جس "جہاد فیمینزم" پہ نکلی ہیں، یہ قطعی کوئی نئی بات نہیں ، بس بات اتنی سی ہے کہ الگ طرح کی زبان میں کمپوز کی گئی یک سطری عبارتیں انہیں "عام عورت" کے طور پہ پیش کر کے ہمارے معاشرتی دھارے میں دھارے کے رخ بہتے عامی کو مزید کنفیوز اور مائل بہ "مساوات" کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ وہ دوست جو ان "مجاہدات" اور ان کے ہینڈلرز کو اس کمپین میں "جائیداد کے حق" اور "تعلیم کے موقع" جیسے "جائز نعرے" استعمال کرنے کی تلقین کر رہے ہیں، ہمیں ان کی نیت پہ قطعی کوئی شک نہیں ، البتہ یہ ضرور سمجھتے ہیں کہ انہیں پوری بصیرت سے یہ جان لینا چاہیے کہ اس گروہ کا مقصد خواتین کے حقوق وغیرہ نہیں ہیں، ان کا مقصد گھر کے قلعے کو مسمار کرنا ہے، گھر نام کا یہ قلعہ ابھی تک کسی نہ کسی ...