بدھ، 6 جنوری، 2021

نو برس ہوتے ہیں

 نو برس ہوتے ہیں

ہر کسی کے اپنے نو برس ہوتے ہیں

سیرِ صحرا سے لبِ دریا تک

عمر کوٹ سے بھٹ جو گوٹھ تک

سسی کی پیاس سے خضر کے گھڑے تک

بے انت بے سمتی سے یکسوئی کی مٹھاس تک

کانٹوں کے عرق سے ترتراتے پراٹھےسے....

شکرگزاری کی سوکھی روٹی تک

بے مصرف بنجر دنوں سے موتیوں جیسے لمحوں کے ڈھیر تک

واقف انجانوں کی بھیڑ سے دل میں اترے اجنبیوں کی مجلس تک


اور


کسی بربادکوزہ گر، جو اپنے ہی کوزوں سے رنجور ہو....

کوپھر سے اپنے چاک پہ شرابور ہونے تک

نو برس درکار ہوتے ہیں


پر یہ نو برس ہمیشہ سو سے آٹھ زیادہ مہینوں کے نہیں ہوتے

یہ نو لمحوں سے نو دہائیوں کے ہو سکتے ہیں

کیونکہ

نو برس ہر کسی کے اپنے ہوتے ہیں


فلک شیر


پس نوشت: کل ن م راشد کا یوم پیدائش تھا، راشد کی حسن کوزہ گر کا ایک تھیمیٹک حوالہ مندرجہ بالا نثری نظم میں قارئین محسوس کر سکتے ہیں، یہ تکلفاً در نہیں آیا، یہی عرض کرنا کافی سمجھتا ہوں۔



اتوار، 5 جولائی، 2020

ہدیہ بر یومِ شہادت : کیپٹن کرنل شیر خان شہید ؒ



حکیم الامتؒ نے کہا تھا:
سرِ خاکِ شہیدے برگہائے لالہ می پاشم
کہ خونش با نہالِ مِلّتِ ما سازگار آمد
“بیا تا گُل بیفشانیم و مے در ساغر اندازیم
فلک را سقف بشگافیم و طرحِ دیگر اندازیم”

اور "آوازِ دوست" والے مختار مسعود صاحب نے لکھا تھا :

"میں نے تاریخ کی سب سے بڑی جنگ کو کئی برس بہت قریب سے دیکھا ہے۔ جتنی سیاہی جنگ کے بادلوں میں ہوتی ہے آپ اس کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔ جنگ کے اندھیرے گھپ اندھیرے ہوتے ہیں۔ لیکن جتنی تیز اور خیرہ کرنے والی سفید روشنی سخت آزمائش کے دنوں میں زندہ قوموں اور با کردار افراد کے طرزِ عمل سے پیدا ہوتی ہے آپ اس کی طرف آنکھ بھر کر بھی نہیں دیکھ سکتے۔ روشنی جب اتنی روشن ہو جائے کہ آپ اسے دیکھ بھی نہ سکیں تو اسے نور کہتے ہیں۔ ”"

یہ فقیر کیا عرض کر سکتا ہے ۔۔۔آج صبح لکھا تھا:

"دادا نے نام ہی کرنل شیر خان رکھا... کیپٹن اللہ کی توفیق سے خود بنے... ٹریننگ ہو یا فیصلے کا کارزار، یا عین معرکہ کا مقام... جہاں زن سے آتی آگ آر پار ہوتی ہے ــــــــــ کپتان نے اپنے دین، نام، روایت اور ان سب پہ قربان ہونے کے جذبے کو کہیں کمر نہیں دکھائی.... کارگل کا وہ محاذ، جہاں خدا جانے کس نے لفظ "بزدلی " کو نئے معنی بہم پہنچائے اور کس نے "شجاعت" کو یہ تمغے عطا کیے... بہت سے گمنام سپاہیوں کا یہ ابدی مسکن ، جن کے نام کے بس لوک گیت ہوں گے اور کارگل کی چوٹیوں پہ صدیوں سے ٹکراتی ہوا کے نغمے... اور ہاں، ان شاءاللہ ان کے رب کی رضا... جس کے لیے وہ نرم گرم بستروں سے نکل کر ایک شام چل دیے تھے ــــــــ انہی کے درمیان کپتان شیر خان کو بہادری کا استعارہ ہونا تھا.... جسے مثالیے کی تجسیمِ نو کرنا تھی.... اکیس سپاہیوں ، جن میں سے اکثر زخمی تھے اور پہاڑی کے نچلے حصے میں ، وہ خود پہ حملے کے صرف سات گھنٹۓ بعد جوابی حملے کے لیے پانچ سو کی نفری والی آٹھ سکھ رجمنٹ ، جسے بلندی کا فائدہ بھی حاصل تھا، حملہ آور ہوا ۔۔۔چیک پوسٹ واپس لی ۔۔۔پر رکا نہیں ، تن تنہا دشمن کا پیچھا کیا ، کہنے لگا ، رات کو تم للکارتے تھے کہ آخری دفعہ کلمہ پڑھ لو، یہ لو میں اکیلا تمہیں سکھانے آیا ہوں کہ میدان کیسے سجایا جاتا ہے اور چٹے دن آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کلمہ پڑھتے ہوئے دشمن کے مورچے میں، اس کا پیچھا کرتے ہوئے ، سینے پر گولی کھائی جاتی ہے ۔۔۔شیر خان ، جس کے داد ا بھی کشمیر کی سینتالیس والی تحریک آزادی کا حصہ رہے تھے ۔۔۔ دشمن نے اس کا جسدِ خاکی بعد از شہادت واپس کرتے ہوئے کہا کہ....یہ جوان دلاوروں کے لشکر سے ہے... اسے اس کا حق ملنا چاہیے... یقیناً اس کا اشارہ تمغہ و تحسین کی طرف تھا.... سو "نشان حیدر" عطا ہوا... مگر اسے کیا خبر تھی کہ یہ خون جس کے لیے گرا ہے، وہ کتنا یاد رکھنے والا قدردان ہے.... عمر رضی اللہ عنہ کو قاصد نے آ کر بتایا، فلاں بھی شہید ہوااور فلاں بھی.... اس کے علاوہ بہت سے ایسے ہیں، جنہیں امیر المومنین نہیں جانتے... جواب میں رہتی دنیا تک کے لیے نمونہ، زہد و حکم کے اس جامع حاکم نے کہا... کہ عمر کو خبر ہو یا نہ ہو، اس سے کیا فرق پڑتا ہے... جس کے لیے ان بے ناموں نے جان دی ہے.... وہ انہیں خوب خوب جانتا ہے.... تمغہ تو قوم نے دیا... مگر آسمان پہ ہونے والی تقریبِ پذیرائی کی قدروقیمت ظاہر بین دشمن کیا جانے ...!!

آج کپتان کا یوم شہادت ہے.... آئیے دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہیں:

کپتان پہ اللہ رب العزت بے شمار رحمتیں نازل فرمائیں

قبیلے کو ایسے دلاوروں کی صف کبھی خالی نہ ملے

اللہم انصر من نصر دین محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم واجعلنا منہم برحمتک یا ارحم الراحمین"


منگل، 2 جون، 2020

آخری کھلاڑی کے لیے تالی



زندگی کے سفر میں ،جب آپ وکٹری سٹینڈ پہ نہ ہوں ،ہاتھ میں کوئی بید کی چھڑی اور چھاتی پہ تمغے نہ ہوں ،لوگ آپ کا اٹھ اٹھ کر انتظار نہ کرتے ہوں اور ناموں کی فہرستوں میں آپ کا نام آخری آخری سلاٹس پہ جگہ پائے ۔۔۔ ایسے میں آپ کی چھوٹی سی چھلانگ کے لیے تالی بجانے والے ،انگوٹھا اوپر کو اٹھا کر بیسٹ آف لک کہنے والے اور حوصلہ بڑھانے والے کم ہوتے ہیں، بہت کم ، پر یاد رہنے والے ، دل میں رہ جانے والے اور بڑے لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں ، ہمارے اردگرد تلاش کرنے پہ ایسے چند ہی لوگ ملتے ہیں ، تلاش کر کے دیکھ لیں !

آج یاد آ رہا ہے، یہ انیس صد چھیانوے کا سن تھا، علی پور چٹھہ سے میٹرک کے لیے میں حافظ آباد کے علی گڑھ پائیلٹ سکول میں تھا ، یہ استادِ گرامی قدر سلیم صاحب کا پاؤں پاؤں رکھتا نو مولود ادارہ تھا ، جس کی سب سے بڑی کشش وہ خود تھے اور ہم جیسے پردیسیوں کے لیے سب سے بڑی پریشانی ہاسٹل کی رہائش تھی ۔

قصہ کوتاہ! غالباً یومِ قائد کا موقع تھا، جناح ہال میں ضلعی سطح کا ایک پروگرام تھا، جس میں ملی نغمے اور تقاریر وغیرہ کے ضلع بھر سے بچوں کے مقابلہ جات تھے ، میں گورنمنٹ ہائی سکول علی پور چٹھہ کی طرف سے ڈویژن سطح کے مقابلہ جات میں مختلف انعامات جیت چکا تھا اور اب سلیم صاحب نے بھی اپنے سکول کی طرف سے مقابلے کے لیے مجھے بھیجا۔ان دنوں عجیب بات تھی، کہ ایک دو بندوں سے بات کرنا مجھے قیامت ہوتی تھی ، لیکن مجمع سینکڑوں سے ہزاروں میں بڑھتا ، تو اعتماد ، گلا اور بدن مثل ربڑ کے کھلتا تھا بحمدہ تعالیٰ۔اچھی بات یہ تھی کہ اس دن ہال میں سینکڑوں بچے، اساتذہ اور دیگر مردوزن جمع تھے ۔

پہلے ملی نغموں کے مقابلے ہوئے ، ایک نہم دہم ہی کی لڑکی نے ، جو شاید حافظ آباد ہی کے کسی پرائیویٹ سکول سے تھی، غالباً "اے جذبہ دل گر تو چاہے " پڑھا۔ بہزاد لکھنوی کی یہ غزل عجیب چیز ہے ، کسی پہنچے ہوئےے بندے نے راجا عزیز بھٹی شہید ؒ پہ بننے والے پی ٹی وی ڈرامے میں یہ شامل کی ہے ، بس یہ محسوس کرنے کی چیز ہے اور بیت جانے کی بات ۔ سب نغمے سننے کے بعد مجھے لگا ، کہ اول انعام اسی لڑکی کو ملے گا ۔ خیر جب تقاریر کی باری آئی ، تو مجھے تقریباً آخری تین چار مقرروں میں بلایا گیا ، جیسا اللہ کو منظور تھا، میں بولا ۔جب تقریر مکمل کر کے میں وسیع سٹیج سے نیچے اترا، تو پورا ہال ضرور کھرا ہو گیا ، ظاہر ہے مجھے اچھا لگا اور امید بھی کہ اپنے ادارے اور خاص طور پہ سلیم صاحب کے لیے عزت کا سامان کروں گا ، سلیم صاحب کی شخصیت میں ایسی ہی کشش تھی، کہ یہ خواہش میرے اندر پیدا ہوئی تھی ۔ میری تقریر کے بعد باقی کے دو مقرر بھی بولے ، میں اتنی دیر میں ہال سے نکل کر لاشعوری سے انداز میں ہال کی عقبی اوپری بالکونی میں چلا گیا ، وہاں پہنچا اور ادھر ادھر پھرنے لگا ، شاید نتائج کے انتظار میں جو ذہنی دباؤ تھا، اسے کم کرنے کے لیے ۔مجھے اپنی تقریر کے ہنگام سامعین اور سٹیج پہ بیٹھے مقامی سیاست دان مہدی بھٹی اور ان کے اردگرد منصفین و منتظمین کے ردعمل اور دیگر مقررین کی تقاریر کے تقابلی تجزیہ سے کچھ نہ کچھ اندازہ تھا، کہ مجھے وکٹری سٹینڈ پہ اول پوزیشن مل ہی جائے گی بتوفیق الٰہی ۔

اب وقت ہوا نتائج کے اعلان کا ، تو ملی نغموں میں غالباً وہی لڑکی اول آئی ، انعام لے کر وہ اور اس کے سکول فیلوز اپنے ایک دو استاد کے ساتھ وہیں ہال کی پچھلی سیڑھیوں پہ کھڑے ہو گئے ۔ جب تقاریر کے انعامات کا اعلان ہوا، تو سوم کے بعد دوم کا بھی اعلان ہو گیا ، مجھے یقین ہو گیا کہ پہلی پوزیشن مجھے ہی ملے گی ، خون سارا سر کی طرف اور پسینہ پاؤں کی طرف رواں دواں تھا ، کہ اچانک پہلی پوزیشن کے لیے بھی کسی اور بچے کے نام کا اعلان ہو گیا ۔ مجھے سمجھ ہی نہ آئی کہ یہ کیا ہو گیا ہے ۔

بس پھر، گھر، ماں اور مزعومہ کامیابی سے دور بچہ بے اختیار رونے لگا. :)

ادھر ادھر دیکھا تو سب لوگ حیران کھڑے تھے اور وہ نغمے والی لڑکی رو رہی تھی ۔ میں خستہ و خجالت زدہ ہارے ہوئے جواری کی طرح باہر کی طرف نکلنےلگا ، کہ ہال میں بہت سے لوگ کھڑے ہو گئے اور شور مچانے لگے کہ فلاں فلاں لڑکے کی تقریر سب سے اچھی تھی اور اس کی کوئی پوزیشن نہیں ہے ، یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔ہال کافی بڑا ہے اور ہنگامہ و حیرت بھی اتنی ہی زیادہ تھی ۔پتہ نہیں کیا ہوا، کہ سٹیج سیکرٹری نے روسٹرم سے معذرت کی اور ایک منٹ بعد دوبارہ نتائج کا اعلان کیا ، شاید انہیں سہو ہوا تھا ۔ نئے نتائج کے مطابق میری پہلی پوزیشن تھی ، انعام وصول کرتے ہوئے ہال دوبارہ تالیوں سے گونج اٹھا ، اچھا لگا، شاید پہلے انعام جس طرح سے ملتا ، اس سے کافی زیادہ خوشی ہوئی ۔

باہر نکلتے ہوئے میں نے اسی لڑکی کو زور زور سے تالیاں بجاتے اور خوش ہوتے دیکھا ، ظاہر ہے وہیں سے ، دور سے شکریہ ادا کیا اور باہر نکل آیا ، کہ مصری شاہ محلہ متصل حافظ آباد ریلوے جنکشن ، علی گڑھ پائیلٹ سکول، جسے ابھی اپنی بقا اور قدم جمانے کے لیے ایسے کئی پر اپنے ماتھے پہ سجانے کی ضرورت تھی ، کی خدمت میں اپنی طرف سے ایک پر پیش کروں ۔

آج بھی اپنے لیے ہال میں کھڑے ہونے والے ان نامعلوم سامعین ، آنسو اور تالی والی اس لڑکی اور استاد کہلانے کا حق رکھنے والے سلیم صاحب مجھے یاد ہیں ، جو کچھ کروانے کا گُن اور اس کے لیے لازم اپنا کردار پیش کرنے کے اہل تھے ۔ میں عمر کے جس حصے میں تھا ، وہ اس لڑکی کے کسی "اور تاثر " والے نہ تھے ، کیونکہ یہ دن پچھلی صدی کے ختم ہونے سے تین برس قبل کےتھے ۔ یہ شاید شروع میں بیان کیے گیے جذبے کی وجہ سے یاد رہ جانے والی چیز ہے ۔

یار! نیچے گرے ہوئے کا ہاتھ تھامنے سے بندہ زندہ رہتا ہے ، دوسروں کی دعاؤں اور یادوں میں ۔ ریس میں آخری نمبر پہ آنے والے کے لیے بھی تالی بجانا ، سادے سپاہی اور بے تمغے کے دلاور کے لیے بھی نعرہ تحسین بلند کرنا ، بندوں اور خدا کے ہاں اس کی گواہی دینا ، یہ بڑا کام ہے ۔

خدا ان سب کو سلامت رکھے ، جنہیں اس "یاد گیری" میں اس فقیر نے یاد کیا ہے ، بہت آسانیاں اور بہت برکتیں ہوں ان سب آوازوں ، آنکھوں اور ہاتھوں کے لیے ۔

فلک شیر


پیر، 11 مئی، 2020

میرے شہاب صاحب

شیخوپورہ میرے ننھیال کے ننھیال کا شہر ہے ، اور بعد میں اس سے مٹی کا رشتہ بھی استوار ہوا ، کہ میری بڑی بیٹی وہاں دفن ہے ۔میٹرک کے بعد گریجوایشن تک کئی سال وہاں میں نے گزارے ہیں ، بے ربط اور رستے کی تلاش میں ۔ کتاب سے تعلق ویسے تو بچپن سے تھا ، لیکن یہاں آ کر لائبریری تک رسائی ہوئی، شیخوپورہ کمپنی باغ میں بڑی وسیع لائبریری ہے ، صاف ستھری پرسکون اور نتھری نکھری سی۔ انگریز بہادر کے دور کےکمپنی باغ نے اپنی وسعتوں کے وسط میں اس جزیرے کو پھول کی مثل کھلنے کی اجازت دی ہے اور اس کے لیے میں اس کا شکرگزار ہوں ۔ عجیب بات ہے کہ میں سبزے کا عاشق ہونے کے باوجود ان دنوں لائبریری کے چہار طرف پھیلے قطعات کی طرف زیادہ متوجہ نہ ہو سکا ۔ کمپنی باغ آنا اور سیدھے لائبریری ، وہاں سے واپس جاوید سندھو صاحب کے سخت ڈسپلن والے کالج میں بھاگم دوڑ جا پہنچنا۔

خیر لائبریری سے کافی کچھ استفادہ کا موقع ملا، لیکن جس شخصیت اور ان کی کتاب کا آج تذکرہ چھیڑنے چلا ہوں ، اتفاق ایسا ہے کہ وہ لائبریری میں نہ دیکھی اور نہ ایشو کروائی ، حالانکہ لائف ممبرشپ لینے کی وجہ سے ایک ہی وقت میں متعدد کتابیں ایشو کروانا اور چند دنوں میں واپس کرنا میرا معمول تھا، پھر جس genre کی یہ کتاب تھی ، وہ تو میری پسندیدہ ترین تھا، یعنی احوال و آثار ِ کبار ۔
ہوا یوں کہ میرے بعد میں ہم زلف اور قریبی عزیز عبدالوحید صاحب ، جو کہ زرعی ادویات کا کاروبار کرتے تھے ، کے ایک سیلز مینیجر دوست زاہد صاحب نے ان کے گھر کے ساتھ ہی ایک گھر کرایہ پہ لیا ۔ زاہد صاحب غیرشادی شدہ آدمی تھے اور ہم کافی لڑکے ان کے گھر میچ وغیرہ دیکھنے آیا جایا کرتے تھے ۔ ایسے ہی ایک دن ان کے گھر میں نے ایک موٹی سی کتاب "شہاب نامہ " دیکھی ۔مصنف کا نام قدرت اللہ شہاب لکھا ہوا تھا ، نام معمول کے ناموں سے کچھ ہٹ کر تھا اور پہلا باب بھی ۔

کتاب میں نے شروع کی اور چند ہی دنوں میں مکمل کر لی ، اس کے بعد اب تک مجھے یاد نہیں کہ اسے کتنی دفعہ پڑھ چکا ہوں ۔ پہلی قرات میں پتا نہیں کیا بات تھی کہ اب سے کچھ عرصہ قبل تک ، یعنی جب تک بانو آپا زندہ تھیں ، میں اسے ہر تھوڑی دیر بعد پڑھا کرتا تھا ۔ چندراوتی ، راج کرو گا خالصہ ،کشمیر کا مقدمہ ، سرینگر کے اسلامیات پڑھاتے مولوی صاحب ، دوپٹے رنگتے للاری ، نندہ بس سروس ، شہاب صاحب کی اددی کے ملازم کا اجیپھا ، نائینٹی ، سلسلہ اویسیہ ، شریعت کی سیدھی سڑک اور طریقت کی مانٹیسریاں ، برف میں میلوں پیدل چلتے شہاب صاحب ، گول مٹول ثاقب یا عفت شہاب۔۔۔مجھے آج تک نہیں پتا کہ اس کتاب میں کیا تھا ، جس نے مجھے آج تک جکڑا ہوا ہے ۔ شاید ماں جی کا فرمانبردار ملک کا سب سے بڑا افسر ، شاید اس سے بھی بڑھ کر اپنی ماں کے فرمانبردار عبداللہ صاحب ۔۔ سچ بتاؤں ، میں نے سرسید کو بہت برا بھلا کہا ، جب میں نے پڑھا کہ انہوں نے عبداللہ صاحب کو اپنی ماں کی بات مان کر بیرون ملک نہ جانے پہ مارا تھا ۔۔مجھے پتا ہے کہ شہاب صاحب کا نام بہت سے لوگوں کے ماتھوں پہ بل چڑھانے کے لیے کافی ہوتا ہے ، لیکن دل تو مجبور ہے نا بچپن کی ہر اس جھیل کے ہاتھوں ، جس میں پتھر پھینکے گئے تھے اور اٹھنے والی لہروں اور بننے والے دائروں کے ساتھ اپنا آپ بہتا اور گھومتا تھا ۔

شہاب صاحب شاید ایوب خان کو جمہوریہ پاکستان سے اسلامی جمہوریہ پاکستان بتانے پہ دل میں کھبے تھے ، بھاگل پور کے بے چارے مسلمانوں کے لیے نوکری داؤ پہ لگانے یا فلسطینی نصاب سے اسرائیلی خرافات نکلوانے کی وجہ سے ، خواب دیکھنے میں ایک جیسا ہونے کی وجہ سے یا سفرِ حجاز والی نزیہہ کی آنسوؤں کے طفیل ، وہ آنسو جو کبھی ہم جیسے گناہ گاروں کو نصیب نہ ہوئے ، شاید بانو آپا کی وجہ سے ، پتا نہیں ان سے کچھ نسبت ہے ، انجان سی ، نامعلوم سی ۔۔۔جس رات انہوں نے اپنی سرکاری کوٹھی میں آسیب سے بچنے کے لیے لا الہ الا اللہ کی پرچی گراموفون پہ رکھی ہے ، مانو میں نے بھی جانا یہ ہر مصیبت سے بچنے کی شاہ کلید ہے "لا الہ الا اللہ " ۔۔۔جس رات خواب میں شہاب صاحب کو سرکارﷺ کا دیدار ہوتا ہے اور انجائنا پیکٹورس ہمیشہ کے لیے اس کی یاد بن کے رہ جاتا ہے ، جانو اسی رات میں نے یہ جانا کہ اس کاروبارِ حیات کے بازار سے اگر کسی کو "سُچا مال" چاہیے ، تو وہ اپنا بستہ اٹھائے اور مدینے جا کر خود بِک جائے اور سمجھ لے کہ سب کچھ خرید لیا ۔۔

بھائی! یہ دل کا معاملہ عجیب ہے ، گاہے خار پہ آ جائے اور گلاب منتظر پڑا رہے ، پر یہاں تو شہاب صاحب ہیں ، گلاب سے گلاب ، لطافت سی لطافت ، گول گول سے ، گم صم سے ، چپ چپ سے اور پھر بھی بولتے ہوئے ، محبت کی زباں !

آئی لو یو سر!!

اللہ تعالیٰ آپ سے بہت سا پیار فرمائیں اور آپ کو اپنے پیارے بندوں میں اعلیٰ مقام عطا فرمائیں ۔

آمین !

فلک شیر چیمہ
بارہ مئی 2020

بدھ، 12 جون، 2019

کاٹالونیا کے انسانی معیار اور اعلیٰ جمالیاتی تجربات کا مابعدالطبیعاتی پہلو

(تصویر بشکریہ گارجین ویب گاہ)

 اونچائی، حیرانی ،وجدان، شدت جذبات،حتی کہ حسی تلذذ کاہر انتہائی نوعیت تجربہ اپنی اصل میں مابعدالطبیعاتی ہی ہے ۔۔سپین کا ایک صوبہ ہے کاٹالونیا، جہاں کے رہائشی پچھلے کچھ عرصہ سے سپین سے علیحدگی چاہ رہے ہیں ، اپنی تہذیب اور دیگر مختلف اسباب کی وجہ سے، انہوں نے حکومت سازی بھی کی ، لیکن سپین کی حکومت نے اسے تسلیم نہیں کیا، ان کے ہاں ایک روایت ہے کہ ہزاروں لوگ ایک دوسرے کے کندھوں پہ سوار ہو کر انسانی مینار سا بناتے ہیں ، اسی سے ملتی جلتی روایت ہندوستان میں بھی ہے ۔ بچوں، عورتوں اور بڑوں کا اس حوالے سے جذباتی تعلق اور کامیابی سے مینار بنا پانے پہ خوشی کا اظہار محض ثقافت سے تعلق کی کہانی نہیں سناتا، بلکہ انسانی تجربات میں سے اعلیٰ جذبات اور تسکین کے بالاتر مصادر کا مابعدالطبیعاتی ہونا ہی بتاتا ہے ۔

The Hour of Lynching ... بھارت میں گاؤ رکھشا کے نام پہ مسلم کشی

(تصویر بشکریہ بی بی سی ویب سائٹ)

شرلے ابراہام اور امیت مدھیشیا نامی دو بھارتی نوجوانوں کی بنائی اس ڈاکیومینٹری "دی آور آف لنچنگ"سے مذہبی نفرت کے گرد گھومتی بھارتی سیاست، مسلمانوں کی حالت زار، جدید و قدیم کی کشمکش میں ڈولتی اور متزلزل مسلم نوجوان آبادی، ماضی قریب میں مذاہب سے بیزاری کی عالمی لہر کے نتیجے میں سوشلسٹ پارٹیوں اور نظریات کی طرف جھکاؤ ۔۔۔سب آشکارا ہو جاتا ہے ۔

ایک نوجوان دیہاتی مسلمان بھارتی حکمران پارٹی بی جے پی کے لاٹھیالوں اور تلوار بردار غنڈوں کے ہاتھوں قتل ہوتا ہے اور وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ وہ ایک گائے اسمگل کرنے کی کوشش کر رہا تھا، جبکہ بی جے پی کے غنڈے گائے امی کی حفاظت کا دینی فریضہ سرانجام دے رہے تھے۔ بی جے پی کا مقامی ایم پی اے اور کونسلر ٹائپ لوگ ان کے ساتھ کھڑے ہیں ، جبکہ راکبر خان نامی مسمل نوجوان کی بیوہ، جوان بچی اور چھوٹے نوعمر بچوں کی حالت زار ۔۔۔سب اس مختصر ڈاکیومنٹری میں دکھایا گیا ہے۔۔بنانے والے بھی ہندو ہیں ، غالباً یہ نوجوان کنہیا کمار جیسے یونیورسٹی سوشلسٹوں سے متاثر ہیں۔ 
درج ذیل لنک پہ ویڈیو دیکھی جا سکتی ہے ۔

اتوار، 10 مارچ، 2019

مارچ میں عورت مارچ

مجھے یاد پڑتا ہے کہ ابا جی بچپن لڑکپن میں ناراض ہوتے تو بعض اوقات دنوں تک وہ غصے اور میں ڈر سے بات نہ کرتا ، لیکن باجی (والدہ) ناراض ہو جاتیں تو نیند نہ آتی، معافی تلافی کر کے ہی سکون آتا ، تو بھائی ہمارے تو دل پہ عورت کا سکہ چلتا ہے، یہ موزوں والی بیبیاں بے چاری اپنے تئیں جس "جہاد فیمینزم" پہ نکلی ہیں، یہ قطعی کوئی نئی بات نہیں ، بس بات اتنی سی ہے کہ الگ طرح کی زبان میں کمپوز کی گئی یک سطری عبارتیں انہیں "عام عورت" کے طور پہ پیش کر کے ہمارے معاشرتی دھارے میں دھارے کے رخ بہتے عامی کو مزید کنفیوز اور مائل بہ "مساوات" کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ وہ دوست جو ان "مجاہدات" اور ان کے ہینڈلرز کو اس کمپین میں "جائیداد کے حق" اور "تعلیم کے موقع" جیسے "جائز نعرے" استعمال کرنے کی تلقین کر رہے ہیں، ہمیں ان کی نیت پہ قطعی کوئی شک نہیں ، البتہ یہ ضرور سمجھتے ہیں کہ انہیں پوری بصیرت سے یہ جان لینا چاہیے کہ اس گروہ کا مقصد خواتین کے حقوق وغیرہ نہیں ہیں، ان کا مقصد گھر کے قلعے کو مسمار کرنا ہے، گھر نام کا یہ قلعہ ابھی تک کسی نہ کسی حد تک موجود ہے، گہ کہ اس کی موجودہ استعداد و کارکردگی محدود ہے، مگر یہ ابھی کھڑا ہے، روایت سے جڑت اور خدائی سکیم میں مرد اور عورت کے درمیان تعلق کی آماجگاہ، جہاں سے آئیڈیلز مثل روح کی پھونکے جاتے ہیں ، دودھ میں پلائے جاتے ہیں، لقموں کے ساتھ خون کا حصہ بنائے جاتے ہیں ، حرام حلال کا درس ملتا ہے، اچھے برے کی تمیز سکھائی جاتی ہے، عدل اور ظلم کا فرق سکھایا جاتا ہے، الہی اور شیطانی طرز حیات کا فرق کسی نہ کسی حد تک شعور کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ اس قلعے کو اباحیت سے فتح کرنے کی کوشش کی گئی، جس نے بنیادیں کمزور ترین کر دی ہیں ، مگر ابھی مسمار نہیں ہوا، ہاں اس طرح کے مظاہرے اور ایسی عبارتیں اور ان پہ ہمارے "عام آدمی"، جو یہ بھی سمجھتا ہے کہ وہ پڑھا لکھا ہے اور چیزوں کو "خوب سمجھتا" ہے، کا اندر ہی اندر اور گاہے اظہار کے ساتھ خوش ہونا یہ بتاتا ہے کہ جسم کی روح کو جسم کے خلاف احتجاج و بیزاری پہ قائل کر کے کوچہ و بازار میں لا کھڑا کیا ہے
کتنی ہی احادیث رسولﷺ ہیں ، جن میں گھر کو بندے کا ایمان بچانے والا ٹول اور راحت کدہ اور دنیا و آخرت کی خیر کا مرکز بتایا گیا ہے، یہ ظالم ہم سے ہمارے گھر چھییننا چاہتے ہیں ، ہماری ماؤں بہنوں بیٹیوں ، عزت ماب و عفت ماب گروہ کو اپنے بھائیوں بیٹوں اور خاوندوں کے خلاف کھڑا کر کے
نصیحت بڑے لوگوں کا کام ہے ، انہیں ہی زیبا ہے ، میں تو محمدیوں میں سے ایک عام آدمی ہوں، جسے پورے شعور اور بصیرت سے قطعی یقین ہے کہ گھر ایک ہی صورت میں بچیں گے ، ورنہ سیلابِ بلا کس کس کا در نہ اکھاڑے گا، یہ شبِ سیاہ کون کون سے سورج آنکھوں کے سامنے ہوتے ہوئے بھی انہیں اوجھل نہ کرے گی، یہ سرخ ہوا کس کس قتل گاہ کا پتہ نہ دے گی اور ہم بس دیکھتے ہی رہیں گے، سنتے ہی رہیں گے، ہل بھی نہ پائیں گے ــــ اور بچنے کا وہ رستہ محمد ﷺ کا ہی رستہ ہے، محبت اخلاق اور اخلاص کا رستہ ـــــــ گھر محبت سے بنتے ہیں، وقت دینے بنتے ہیں ، محبت کا پودا روز آبیاری چاہتا ہے، صرف نصیحتوں کے ڈھیر اور ٹائم ٹیبل کے مطابق خاندان کو اپنی مرضی کا پابند دیکھنے کی مشینی انا کی خواہش محمدﷺ کا طریقہ نہیں، عائشہ و خدیجہ و فاطمہ و زینب رضی اللہ عنہما سے پیغمبر آفندی علیہ الصلوۃ والسلام کا برتاؤ، اٹھنا بیٹھنا، وقت دینا، ناز اٹھانا ، تعلیم کرنا اور اس سب کے ساتھ ، اس سب کے ذیعے اللہ، آخرت اور حقیقت سے متعلق راست فکری و عملی پہ ابھارنا، قائل و فاعل کرنا
اس کا کوئی نعم البدل نہیں ، سکول کا ناظرہ، قاری صاحب کی یاد کروای گئی سورتیں، دن میں درجن بھر نصیحتیں، اس کا نعم البدل نہیں ہیں
تھوڑے کو بہت جانیے ، اپنا حساب ہم خود کر سکتے ہیں ، چاہیں تو
یہ عرضداشت ان لوگوں کے لیے نہیں ، جو اسے حقوق اور آزادی کا معاملہ بتاتے ہیں، ان میں سے بہت سوں کو ہم نے سکولوں سے لے کر یونیورسٹیوں تک میں پڑھتے پڑھاتے دیکھا ہے اور ان کے "فیمینزم" سے بخوبی واقف ہیں
نہ ہی ان کے لیے، جو اسے دل سے "انسانیت" کا تقاضا سمھجتے ہیں ، ان کے لیے ہم دعا گو ہیں کہ اللہ رب العزت انہیں بصیرت عطا فرمائے
فلک شیر