جمعرات، 11 نومبر، 2021

تصویر



کینیڈا کے شہر اونٹاریو کی اورینٹل مارکیٹ میں شام کے دھندلکے ایک خاتون داخل ہوتی ہے، نقوش سے جنوبی ایشیائی لگتی ہے۔ وہ بازار میں بظاہر کوئی خاص چیز خریدنے نہیں آئی، شاید اسی لیے گھومتے پھرتے،بوڑھے ترک دکاندار لطف الدین لطیف اوغلو کے ہاں جا رکی ہے، جس کے پاس کرنے کو ڈھیروں باتیں اور بیچنے کے لیے چیزوں کی کوئی مخصوص فہرست اور ترتیب نہیں؛ پرانی کتابیں، نئی تصویریں، ہندوستانی بیڑی ، ہوانا کے سگار، مولوی رومی کے رقص کناں درویشوں والے چغے، سلجوقی خود کی نقول، بچوں کے کھیل کود کی تلواریں اور ہاں....قہوے کا فنجان بھی حاضر رہتا۔ مقامی ترک انہیں لطف عم جان کہتے اور کبھی کبھی تو ترک قہوے کے شوقین گورے گوریاں بھی انہیں چچا بنانے آ پہنچتے....

 لطف عم جان: خانم آفندی، آپ کی کیا خدمت بجا لا سکتے ہیں ہم؟

خاتون: وہ مصوری کا نمونہ دکھائیے گا لطفاً!

 لطف عم جان: جی ضرور...یہ تصویر.... ہاں جی.... اسے ایک پاکستانی نژاد نوجوان نے بنایا ہے، عمر تو زیادہ نہیں ہے مگر مشق اور تخیل خوب ہیں۔ کبھی کبھار اپنی چیزیں ہمارے گوشہ مصوری میں رکھنے آتا ہے۔ 

خاتون: آہاں.... میں بھی پاکستان سے ہوں

 لطف عم جان: تو کیسی لگی آپ کو یہ؟

خاتون: (لمحہ بھر کو مسکرا کر) تصویریں تو پیاری ہی ہوتی ہیں، بنانے والے نے اتنی محنت جو کی ہوتی ہے..

 لطف عم جان: (بوڑھے ترک کی آنکھیں دور کہیں دیکھتی ہیں) میری ماں میرے باپ کو میرے چہرے پہ نہیں مارنے دیتی تھیں، کہتی تھیں کہ یہ تصویریں اللہ نے بنائی ہیں، ان پہ سخت ہاتھ کیسے لگا سکتے ہو تم... 

خاتون: (چونک کر) ایسے ..... سب مائیں ایسے ہوتی ہیں

 لطف عم جان: یہ تصویر ویسے مجھے بھی پسند ہے....ایک پہیہ ہے وقت کا ، افق پہ ابر و طائر گویا مل رہے ہیں...پہیے کی گردش سے پہاڑی راستے پر کم زیادہ نقوش ثبت ہو رہے ہیں۔ بہار کا پتہ نہیں چلتا، آ رہی ہے کہ جا رہی ہے۔ کنارے کنارے رنگ شوخ بھی ہیں کہیں کہیں، مگر کینوس کا وسط مائل بہ بے رنگی سا ہے.... مگر ایک بات واضح ہے ، وہ یہ کہ رنگ ہیں ایک دوسرے سے پورے ممتاز ....پر جیسے ساتھ رہ کر بھی جدا ہونے کا اعلان کرتے ہوئے...

خاتون: ہمم....

 لطف عم جان: آپ کا ذوق عمدہ دکھائی دے رہا ہے، خرید لیجیے، ڈرائینگ روم میں آویزاں کیجیے گا.... نہیں تو بیڈروم میں بھی ٹھیک رہے گی

خاتون: تصویر اچھی ہے...وہ نا، مجھے گھومنے پھرنے کا بہت شوق ہے.... میرے میاں کو بھی.... ہم دونوں نے مل کر بہت دنیا گھومی ہے.... اور مجھے مصوری کا کچھ شوق بھی ہے.... پینٹنگز کی کلیکشن بھی ہے چھوٹی سی.... رہی یہ تصویر، تو یہ کام واقعی کسی سچے فنکار کا ہے....ماضی و مستقبل کے تھیمز اور مہارت دونوں ہیں اس میں ....پر پتا ، میری شادی کو کتنے ہی برس ہو گئے، پر بچہ نہیں ہے ابھی تک.....مجھے اپنے بیڈروم کے لیے ایک پیارے سے بچے کی پینٹنگ خریدنا ہے....آپ کے پاس ہے کوئی؟

 لطف عم جان: جی؟
اچھا اچھا!
ڈھونڈتے ہیں عزیزہ... ڈھونڈتے ہیں....

فلک شیر چیمہ
21 نومبر 2021ء


جمعرات، 16 ستمبر، 2021

رات

 ****رات****


درد اور درماں، دونوں کی

رات ، یکساں پردہ پوشی فرماتی ہے

اعلانات سے تھکی زمین کو 

 رات، خاموشی کی لوری سناتی ہے

دھیمی دھنوں کی تال پہ 

رات وصال کا جال بنتی ہے

 فراق کے تاریک طاق میں

 رات دیا بن کر جلتی ہے


صحرا کے تپتے دن پہ رات

 ٹھنڈی میٹھی پلکیں جھپکتی ہے

سکے جمع کرتے ہاتھوں اور

 کلید تختوں سے اٹی انگلیوں کو

رات ان کا حق دینے کا فرض نبھاتی ہے

لمبے دنوں کی تھکا دینے والی نامانوس صحبتوں

اور اکتا دینے والی مقدس روٹین کی ڈور کو

رات اپنی ریشمی تلوار سے قطع کرتی ہے


دوسروں کو نیا موقع دینے کی ہمت 

اور خود پہ طنز کی اجازت دینے

رات آتی ہے

نیستان سے کاٹ کر لائی نے 

گاہے رات کو وصلِ خویشد کے

طویل نظم جیسے سفر پہ نکلتی ہے

قریہ قریہ گریہ کرتے عشاق کے پیچھے

رات ہی کو سفید پوش صفیں باندھتے ہیں


اور یہ رات ہے، جس کے ہنگام

ادھر کہیں آسماں پہ 

حسنِ ازل ، لطیف سئیں

اپنے ہاتھ کے گھڑے

مٹی کے پتلوں کو 

آواز لگواتا ہے

اپنے نام کا مرہم لگاتا ہے


فلک شیر چیمہ



منگل، 7 ستمبر، 2021

الوداع سید علی گیلانی

 الوداع سید من!

آپ نے جبر کے سامنے ہمیشہ سینہ ہی رکھا، پشت دیکھنے کی اسے حسرت ہی رہی

آپ ہمارے قافلے کے سالاروں میں سے تھے، خود میدان میں استادہ و مقیم سالار

ہر صدی میں آپ جیسی دو چار نشانیاں ایمان والوں کے سینوں میں روشنی پھر سے بھڑکانے کو ربِ ذوالجلال والاکرام عطا فرماتے ہیں

ملا کی اذاں اور، مجاہد کی اذاں اور...یہ مصرعہ وادی کشمیر کے کوچوں بازاروں میں آپ کی دلیل اور جذبہ، دونوں میں گندھی للکار سن کر سمجھ آیا

آپ امید ، سر تا پا امید اور توکل و تیقن کی تجسیم تھے

جبر میں تو یہ تاب تھی ہی نہیں، آپ کے نفسِ گرم کا سامنا منصب و ثروت کے بل پہ کوئی منافق اور نام نہاد "اپنا" بھی نہ کر سکا

لکیریں، دیواریں، سرکاریں، بندوقیں اور غلاموں کی مجبوریاں...کچھ بھی آپ کے نظریہ حیات کی طاقت و صلابت کے سامنے کھڑا نہ رہ پایا

بہت سے لوگ آزادی کے اس کٹھن سفر پہ چلے تھے، کئی تھک گئے، کئی دنیا کی چکاچوند سے ہار گئے اور کئی تاویل کی زلفِ تصنع صفت کے اسیر ہو گئے... پر آپ قدیم چنار کی مانند سیدھے، اونچے اور دراز کھڑے رہے

حق آپ کی زبان پہ جاری تھا اور ہمہ دم اسی کا رعب لاکھوں گنا طاقتور دشمن پہ طاری تھا

پاکستانی آپ تھے، پاکستانی آپ ہیں اور پاکستانی آپ رہیں گے۔ پاکستان آپ کا تھا، پاکستان آپ کا ہے اور پاکستان آپ کا رہے گا۔ آپ کے پیغام کی گونج میں یہ فقیر کہتا ہے کہ ہم کشمیری ہیں اور کشمیر ہمارا ہے، ہم کشمیری ہیں اور کشمیر ہمارا ہے۔ اسلام کی نسبت سے، قرآن کی نسبت سے، سیدِ گیلان کی نسبت سے ہم کشمیری ہیں اور کشمیر ہمارا ہے۔

ڈل کی گہرائی اور جہلم کی تیزی، پیر پنجال کی اونچائی، وادی کے ہر شہداء قبرستان کی وسعت اور آپ کے اس محبوب کشمیر کے چپے چپے پہ فطرت کے انڈیلے حسن سے آپ کے پیغام کی خوشبو پھوٹتی اور صدا گونجتی رہے گی.... کہ یہ خوشبو دار صدا فطرت کی طرح سادہ، سچی اور عدل کی صدا تھی

کتنی خوش نصیب ہے کشمیر کی سرزمین، کہ اسے غلامی میں ایک "مرد آزاد" میسر آیا، رول ماڈل ملا اور پیچھے چلنے کو اس کے جمے ہوئے قدم ملے۔

آپ کا پاکستان آپ کے لیے اداس ہے، بلا تفریق رنگ و نسل، بلا تمیز مسلک و مشرب۔ ہم آپ کے بیٹے بھائی اور ہماری آنکھیں آپ کے لیے پرنم اور دل حزیں ۔

آرام سے سوئیں اب گیلانی صاحب، بہت تھکے ہوں گے آپ اس لمبے سفر سے۔ آپ نے اپنا حق ادا کر دیا، ہم گناہ گار بندے اپنے علم کی حد تک آپ کی بھلی گواہی دیتے ہیں، خالق سے مغفرت و رحمت کی دعا کرتے ہیں۔

بے شماررحمت ہو آپ پر اس پروردگار کی، جس کی رضا کے لیے آپ نے حیات مستعار کا لمحہ لمحہ بسر کیا۔

آمین یا رب العالمین

تصویر بشکریہ دنیا ٹی وی ویب گاہ


اتوار، 5 ستمبر، 2021

خواب و تعبیر



خواب و تعبیر

****************




خواب سب دیکھتے ہیں، تعبیر بھی پاتے ہیں حسبِ قدر

دشمن ہونا لازم ہے، یوں ہی دوست بھی

حریف سبھی بناتے ہیں اور حلیف بھی

خزاں ہر زمین پہ اترتی ہے اور اس کے استقبال کو بہار ہر دفعہ موجود ہوتی ہے

خریدار ہر جنس کو میسر آتا ہے، خواہ زنگ اور مٹی ہی سہی

کینوس پہ پہاڑ کو دوسرے پہاڑ سے وادی الگ کرتی ہے

گھاٹی کے ساتھ ہی ڈھلوان بچھی ہوتی ہے

ایک اور صفر کا ساتھ ہمیشہ سے ہے

اور مثل بھی تو ہے

چیزیں اپنی اضداد سے پہچانی جاتی ہیں

سو اپنی اضداد کا انکار اور انہیں اپنا عین کہنے پہ اصرار

یہ شتر مرغ کو روا ہے، یا احمقوں کو جائز

سو اے میرے گھونسلے کے ساتھیو!

تم سنہری شاموں میں

الگ الگ راگوں کے گیت ضرور گانا

اور شبنمی صبحوں میں

اپنی اپنی منفرد خوشبو ضرور ملانا

مگر اس دام ہمرنگِ زمیں سے ہوشیار رہنا

اپنی اصل مت بھلانا

اور

اندھیروں کے مقابل روشنی کے عرف پہ مصر رہنا

اس خواب کو ایک قدیم بودا قول بکتے

بے دیار کے چند آوارہ گرد

فصیل فصیل گھومتے مردار خوروں کی خاطر

تج نہ دینا

میں اس آدرش میں تمہارا ساجھی ہوں

جسے سودائیوں، پیادوں اور سواروں کی ایک پوری نسل نے اپنایا تھا

میں تمہارا ہم خواب ہوں

اور اس کی اسی پرانی تعبیر کو

اس قدیم آسمان کے نیچے

نئے یقین کے ساتھ

اوراق، اصحاب اور الواح کے زیتونی نور کی رہنمائی میں

میرے ہم نفسو!

پھر سے فاران و آسیا پہ ایک شفیق بادل کی طرح

برستے دیکھنے کا آرزو مند ہوں




فلک شیر چیمہ


بدھ، 6 جنوری، 2021

نو برس ہوتے ہیں

 نو برس ہوتے ہیں

ہر کسی کے اپنے نو برس ہوتے ہیں

سیرِ صحرا سے لبِ دریا تک

عمر کوٹ سے بھٹ جو گوٹھ تک

سسی کی پیاس سے خضر کے گھڑے تک

بے انت بے سمتی سے یکسوئی کی مٹھاس تک

کانٹوں کے عرق سے ترتراتے پراٹھےسے....

شکرگزاری کی سوکھی روٹی تک

بے مصرف بنجر دنوں سے موتیوں جیسے لمحوں کے ڈھیر تک

واقف انجانوں کی بھیڑ سے دل میں اترے اجنبیوں کی مجلس تک


اور


کسی بربادکوزہ گر، جو اپنے ہی کوزوں سے رنجور ہو....

کوپھر سے اپنے چاک پہ شرابور ہونے تک

نو برس درکار ہوتے ہیں


پر یہ نو برس ہمیشہ سو سے آٹھ زیادہ مہینوں کے نہیں ہوتے

یہ نو لمحوں سے نو دہائیوں کے ہو سکتے ہیں

کیونکہ

نو برس ہر کسی کے اپنے ہوتے ہیں


فلک شیر


پس نوشت: کل ن م راشد کا یوم پیدائش تھا، راشد کی حسن کوزہ گر کا ایک تھیمیٹک حوالہ مندرجہ بالا نثری نظم میں قارئین محسوس کر سکتے ہیں، یہ تکلفاً در نہیں آیا، یہی عرض کرنا کافی سمجھتا ہوں۔



اتوار، 5 جولائی، 2020

ہدیہ بر یومِ شہادت : کیپٹن کرنل شیر خان شہید ؒ



حکیم الامتؒ نے کہا تھا:
سرِ خاکِ شہیدے برگہائے لالہ می پاشم
کہ خونش با نہالِ مِلّتِ ما سازگار آمد
“بیا تا گُل بیفشانیم و مے در ساغر اندازیم
فلک را سقف بشگافیم و طرحِ دیگر اندازیم”

اور "آوازِ دوست" والے مختار مسعود صاحب نے لکھا تھا :

"میں نے تاریخ کی سب سے بڑی جنگ کو کئی برس بہت قریب سے دیکھا ہے۔ جتنی سیاہی جنگ کے بادلوں میں ہوتی ہے آپ اس کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔ جنگ کے اندھیرے گھپ اندھیرے ہوتے ہیں۔ لیکن جتنی تیز اور خیرہ کرنے والی سفید روشنی سخت آزمائش کے دنوں میں زندہ قوموں اور با کردار افراد کے طرزِ عمل سے پیدا ہوتی ہے آپ اس کی طرف آنکھ بھر کر بھی نہیں دیکھ سکتے۔ روشنی جب اتنی روشن ہو جائے کہ آپ اسے دیکھ بھی نہ سکیں تو اسے نور کہتے ہیں۔ ”"

یہ فقیر کیا عرض کر سکتا ہے ۔۔۔آج صبح لکھا تھا:

"دادا نے نام ہی کرنل شیر خان رکھا... کیپٹن اللہ کی توفیق سے خود بنے... ٹریننگ ہو یا فیصلے کا کارزار، یا عین معرکہ کا مقام... جہاں زن سے آتی آگ آر پار ہوتی ہے ــــــــــ کپتان نے اپنے دین، نام، روایت اور ان سب پہ قربان ہونے کے جذبے کو کہیں کمر نہیں دکھائی.... کارگل کا وہ محاذ، جہاں خدا جانے کس نے لفظ "بزدلی " کو نئے معنی بہم پہنچائے اور کس نے "شجاعت" کو یہ تمغے عطا کیے... بہت سے گمنام سپاہیوں کا یہ ابدی مسکن ، جن کے نام کے بس لوک گیت ہوں گے اور کارگل کی چوٹیوں پہ صدیوں سے ٹکراتی ہوا کے نغمے... اور ہاں، ان شاءاللہ ان کے رب کی رضا... جس کے لیے وہ نرم گرم بستروں سے نکل کر ایک شام چل دیے تھے ــــــــ انہی کے درمیان کپتان شیر خان کو بہادری کا استعارہ ہونا تھا.... جسے مثالیے کی تجسیمِ نو کرنا تھی.... اکیس سپاہیوں ، جن میں سے اکثر زخمی تھے اور پہاڑی کے نچلے حصے میں ، وہ خود پہ حملے کے صرف سات گھنٹۓ بعد جوابی حملے کے لیے پانچ سو کی نفری والی آٹھ سکھ رجمنٹ ، جسے بلندی کا فائدہ بھی حاصل تھا، حملہ آور ہوا ۔۔۔چیک پوسٹ واپس لی ۔۔۔پر رکا نہیں ، تن تنہا دشمن کا پیچھا کیا ، کہنے لگا ، رات کو تم للکارتے تھے کہ آخری دفعہ کلمہ پڑھ لو، یہ لو میں اکیلا تمہیں سکھانے آیا ہوں کہ میدان کیسے سجایا جاتا ہے اور چٹے دن آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کلمہ پڑھتے ہوئے دشمن کے مورچے میں، اس کا پیچھا کرتے ہوئے ، سینے پر گولی کھائی جاتی ہے ۔۔۔شیر خان ، جس کے داد ا بھی کشمیر کی سینتالیس والی تحریک آزادی کا حصہ رہے تھے ۔۔۔ دشمن نے اس کا جسدِ خاکی بعد از شہادت واپس کرتے ہوئے کہا کہ....یہ جوان دلاوروں کے لشکر سے ہے... اسے اس کا حق ملنا چاہیے... یقیناً اس کا اشارہ تمغہ و تحسین کی طرف تھا.... سو "نشان حیدر" عطا ہوا... مگر اسے کیا خبر تھی کہ یہ خون جس کے لیے گرا ہے، وہ کتنا یاد رکھنے والا قدردان ہے.... عمر رضی اللہ عنہ کو قاصد نے آ کر بتایا، فلاں بھی شہید ہوااور فلاں بھی.... اس کے علاوہ بہت سے ایسے ہیں، جنہیں امیر المومنین نہیں جانتے... جواب میں رہتی دنیا تک کے لیے نمونہ، زہد و حکم کے اس جامع حاکم نے کہا... کہ عمر کو خبر ہو یا نہ ہو، اس سے کیا فرق پڑتا ہے... جس کے لیے ان بے ناموں نے جان دی ہے.... وہ انہیں خوب خوب جانتا ہے.... تمغہ تو قوم نے دیا... مگر آسمان پہ ہونے والی تقریبِ پذیرائی کی قدروقیمت ظاہر بین دشمن کیا جانے ...!!

آج کپتان کا یوم شہادت ہے.... آئیے دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہیں:

کپتان پہ اللہ رب العزت بے شمار رحمتیں نازل فرمائیں

قبیلے کو ایسے دلاوروں کی صف کبھی خالی نہ ملے

اللہم انصر من نصر دین محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم واجعلنا منہم برحمتک یا ارحم الراحمین"


منگل، 2 جون، 2020

آخری کھلاڑی کے لیے تالی



زندگی کے سفر میں ،جب آپ وکٹری سٹینڈ پہ نہ ہوں ،ہاتھ میں کوئی بید کی چھڑی اور چھاتی پہ تمغے نہ ہوں ،لوگ آپ کا اٹھ اٹھ کر انتظار نہ کرتے ہوں اور ناموں کی فہرستوں میں آپ کا نام آخری آخری سلاٹس پہ جگہ پائے ۔۔۔ ایسے میں آپ کی چھوٹی سی چھلانگ کے لیے تالی بجانے والے ،انگوٹھا اوپر کو اٹھا کر بیسٹ آف لک کہنے والے اور حوصلہ بڑھانے والے کم ہوتے ہیں، بہت کم ، پر یاد رہنے والے ، دل میں رہ جانے والے اور بڑے لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں ، ہمارے اردگرد تلاش کرنے پہ ایسے چند ہی لوگ ملتے ہیں ، تلاش کر کے دیکھ لیں !

آج یاد آ رہا ہے، یہ انیس صد چھیانوے کا سن تھا، علی پور چٹھہ سے میٹرک کے لیے میں حافظ آباد کے علی گڑھ پائیلٹ سکول میں تھا ، یہ استادِ گرامی قدر سلیم صاحب کا پاؤں پاؤں رکھتا نو مولود ادارہ تھا ، جس کی سب سے بڑی کشش وہ خود تھے اور ہم جیسے پردیسیوں کے لیے سب سے بڑی پریشانی ہاسٹل کی رہائش تھی ۔

قصہ کوتاہ! غالباً یومِ قائد کا موقع تھا، جناح ہال میں ضلعی سطح کا ایک پروگرام تھا، جس میں ملی نغمے اور تقاریر وغیرہ کے ضلع بھر سے بچوں کے مقابلہ جات تھے ، میں گورنمنٹ ہائی سکول علی پور چٹھہ کی طرف سے ڈویژن سطح کے مقابلہ جات میں مختلف انعامات جیت چکا تھا اور اب سلیم صاحب نے بھی اپنے سکول کی طرف سے مقابلے کے لیے مجھے بھیجا۔ان دنوں عجیب بات تھی، کہ ایک دو بندوں سے بات کرنا مجھے قیامت ہوتی تھی ، لیکن مجمع سینکڑوں سے ہزاروں میں بڑھتا ، تو اعتماد ، گلا اور بدن مثل ربڑ کے کھلتا تھا بحمدہ تعالیٰ۔اچھی بات یہ تھی کہ اس دن ہال میں سینکڑوں بچے، اساتذہ اور دیگر مردوزن جمع تھے ۔

پہلے ملی نغموں کے مقابلے ہوئے ، ایک نہم دہم ہی کی لڑکی نے ، جو شاید حافظ آباد ہی کے کسی پرائیویٹ سکول سے تھی، غالباً "اے جذبہ دل گر تو چاہے " پڑھا۔ بہزاد لکھنوی کی یہ غزل عجیب چیز ہے ، کسی پہنچے ہوئےے بندے نے راجا عزیز بھٹی شہید ؒ پہ بننے والے پی ٹی وی ڈرامے میں یہ شامل کی ہے ، بس یہ محسوس کرنے کی چیز ہے اور بیت جانے کی بات ۔ سب نغمے سننے کے بعد مجھے لگا ، کہ اول انعام اسی لڑکی کو ملے گا ۔ خیر جب تقاریر کی باری آئی ، تو مجھے تقریباً آخری تین چار مقرروں میں بلایا گیا ، جیسا اللہ کو منظور تھا، میں بولا ۔جب تقریر مکمل کر کے میں وسیع سٹیج سے نیچے اترا، تو پورا ہال ضرور کھرا ہو گیا ، ظاہر ہے مجھے اچھا لگا اور امید بھی کہ اپنے ادارے اور خاص طور پہ سلیم صاحب کے لیے عزت کا سامان کروں گا ، سلیم صاحب کی شخصیت میں ایسی ہی کشش تھی، کہ یہ خواہش میرے اندر پیدا ہوئی تھی ۔ میری تقریر کے بعد باقی کے دو مقرر بھی بولے ، میں اتنی دیر میں ہال سے نکل کر لاشعوری سے انداز میں ہال کی عقبی اوپری بالکونی میں چلا گیا ، وہاں پہنچا اور ادھر ادھر پھرنے لگا ، شاید نتائج کے انتظار میں جو ذہنی دباؤ تھا، اسے کم کرنے کے لیے ۔مجھے اپنی تقریر کے ہنگام سامعین اور سٹیج پہ بیٹھے مقامی سیاست دان مہدی بھٹی اور ان کے اردگرد منصفین و منتظمین کے ردعمل اور دیگر مقررین کی تقاریر کے تقابلی تجزیہ سے کچھ نہ کچھ اندازہ تھا، کہ مجھے وکٹری سٹینڈ پہ اول پوزیشن مل ہی جائے گی بتوفیق الٰہی ۔

اب وقت ہوا نتائج کے اعلان کا ، تو ملی نغموں میں غالباً وہی لڑکی اول آئی ، انعام لے کر وہ اور اس کے سکول فیلوز اپنے ایک دو استاد کے ساتھ وہیں ہال کی پچھلی سیڑھیوں پہ کھڑے ہو گئے ۔ جب تقاریر کے انعامات کا اعلان ہوا، تو سوم کے بعد دوم کا بھی اعلان ہو گیا ، مجھے یقین ہو گیا کہ پہلی پوزیشن مجھے ہی ملے گی ، خون سارا سر کی طرف اور پسینہ پاؤں کی طرف رواں دواں تھا ، کہ اچانک پہلی پوزیشن کے لیے بھی کسی اور بچے کے نام کا اعلان ہو گیا ۔ مجھے سمجھ ہی نہ آئی کہ یہ کیا ہو گیا ہے ۔

بس پھر، گھر، ماں اور مزعومہ کامیابی سے دور بچہ بے اختیار رونے لگا. :)

ادھر ادھر دیکھا تو سب لوگ حیران کھڑے تھے اور وہ نغمے والی لڑکی رو رہی تھی ۔ میں خستہ و خجالت زدہ ہارے ہوئے جواری کی طرح باہر کی طرف نکلنےلگا ، کہ ہال میں بہت سے لوگ کھڑے ہو گئے اور شور مچانے لگے کہ فلاں فلاں لڑکے کی تقریر سب سے اچھی تھی اور اس کی کوئی پوزیشن نہیں ہے ، یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔ہال کافی بڑا ہے اور ہنگامہ و حیرت بھی اتنی ہی زیادہ تھی ۔پتہ نہیں کیا ہوا، کہ سٹیج سیکرٹری نے روسٹرم سے معذرت کی اور ایک منٹ بعد دوبارہ نتائج کا اعلان کیا ، شاید انہیں سہو ہوا تھا ۔ نئے نتائج کے مطابق میری پہلی پوزیشن تھی ، انعام وصول کرتے ہوئے ہال دوبارہ تالیوں سے گونج اٹھا ، اچھا لگا، شاید پہلے انعام جس طرح سے ملتا ، اس سے کافی زیادہ خوشی ہوئی ۔

باہر نکلتے ہوئے میں نے اسی لڑکی کو زور زور سے تالیاں بجاتے اور خوش ہوتے دیکھا ، ظاہر ہے وہیں سے ، دور سے شکریہ ادا کیا اور باہر نکل آیا ، کہ مصری شاہ محلہ متصل حافظ آباد ریلوے جنکشن ، علی گڑھ پائیلٹ سکول، جسے ابھی اپنی بقا اور قدم جمانے کے لیے ایسے کئی پر اپنے ماتھے پہ سجانے کی ضرورت تھی ، کی خدمت میں اپنی طرف سے ایک پر پیش کروں ۔

آج بھی اپنے لیے ہال میں کھڑے ہونے والے ان نامعلوم سامعین ، آنسو اور تالی والی اس لڑکی اور استاد کہلانے کا حق رکھنے والے سلیم صاحب مجھے یاد ہیں ، جو کچھ کروانے کا گُن اور اس کے لیے لازم اپنا کردار پیش کرنے کے اہل تھے ۔ میں عمر کے جس حصے میں تھا ، وہ اس لڑکی کے کسی "اور تاثر " والے نہ تھے ، کیونکہ یہ دن پچھلی صدی کے ختم ہونے سے تین برس قبل کےتھے ۔ یہ شاید شروع میں بیان کیے گیے جذبے کی وجہ سے یاد رہ جانے والی چیز ہے ۔

یار! نیچے گرے ہوئے کا ہاتھ تھامنے سے بندہ زندہ رہتا ہے ، دوسروں کی دعاؤں اور یادوں میں ۔ ریس میں آخری نمبر پہ آنے والے کے لیے بھی تالی بجانا ، سادے سپاہی اور بے تمغے کے دلاور کے لیے بھی نعرہ تحسین بلند کرنا ، بندوں اور خدا کے ہاں اس کی گواہی دینا ، یہ بڑا کام ہے ۔

خدا ان سب کو سلامت رکھے ، جنہیں اس "یاد گیری" میں اس فقیر نے یاد کیا ہے ، بہت آسانیاں اور بہت برکتیں ہوں ان سب آوازوں ، آنکھوں اور ہاتھوں کے لیے ۔

فلک شیر