منگل، 7 ستمبر، 2021

الوداع سید علی گیلانی

 الوداع سید من!

آپ نے جبر کے سامنے ہمیشہ سینہ ہی رکھا، پشت دیکھنے کی اسے حسرت ہی رہی

آپ ہمارے قافلے کے سالاروں میں سے تھے، خود میدان میں استادہ و مقیم سالار

ہر صدی میں آپ جیسی دو چار نشانیاں ایمان والوں کے سینوں میں روشنی پھر سے بھڑکانے کو ربِ ذوالجلال والاکرام عطا فرماتے ہیں

ملا کی اذاں اور، مجاہد کی اذاں اور...یہ مصرعہ وادی کشمیر کے کوچوں بازاروں میں آپ کی دلیل اور جذبہ، دونوں میں گندھی للکار سن کر سمجھ آیا

آپ امید ، سر تا پا امید اور توکل و تیقن کی تجسیم تھے

جبر میں تو یہ تاب تھی ہی نہیں، آپ کے نفسِ گرم کا سامنا منصب و ثروت کے بل پہ کوئی منافق اور نام نہاد "اپنا" بھی نہ کر سکا

لکیریں، دیواریں، سرکاریں، بندوقیں اور غلاموں کی مجبوریاں...کچھ بھی آپ کے نظریہ حیات کی طاقت و صلابت کے سامنے کھڑا نہ رہ پایا

بہت سے لوگ آزادی کے اس کٹھن سفر پہ چلے تھے، کئی تھک گئے، کئی دنیا کی چکاچوند سے ہار گئے اور کئی تاویل کی زلفِ تصنع صفت کے اسیر ہو گئے... پر آپ قدیم چنار کی مانند سیدھے، اونچے اور دراز کھڑے رہے

حق آپ کی زبان پہ جاری تھا اور ہمہ دم اسی کا رعب لاکھوں گنا طاقتور دشمن پہ طاری تھا

پاکستانی آپ تھے، پاکستانی آپ ہیں اور پاکستانی آپ رہیں گے۔ پاکستان آپ کا تھا، پاکستان آپ کا ہے اور پاکستان آپ کا رہے گا۔ آپ کے پیغام کی گونج میں یہ فقیر کہتا ہے کہ ہم کشمیری ہیں اور کشمیر ہمارا ہے، ہم کشمیری ہیں اور کشمیر ہمارا ہے۔ اسلام کی نسبت سے، قرآن کی نسبت سے، سیدِ گیلان کی نسبت سے ہم کشمیری ہیں اور کشمیر ہمارا ہے۔

ڈل کی گہرائی اور جہلم کی تیزی، پیر پنجال کی اونچائی، وادی کے ہر شہداء قبرستان کی وسعت اور آپ کے اس محبوب کشمیر کے چپے چپے پہ فطرت کے انڈیلے حسن سے آپ کے پیغام کی خوشبو پھوٹتی اور صدا گونجتی رہے گی.... کہ یہ خوشبو دار صدا فطرت کی طرح سادہ، سچی اور عدل کی صدا تھی

کتنی خوش نصیب ہے کشمیر کی سرزمین، کہ اسے غلامی میں ایک "مرد آزاد" میسر آیا، رول ماڈل ملا اور پیچھے چلنے کو اس کے جمے ہوئے قدم ملے۔

آپ کا پاکستان آپ کے لیے اداس ہے، بلا تفریق رنگ و نسل، بلا تمیز مسلک و مشرب۔ ہم آپ کے بیٹے بھائی اور ہماری آنکھیں آپ کے لیے پرنم اور دل حزیں ۔

آرام سے سوئیں اب گیلانی صاحب، بہت تھکے ہوں گے آپ اس لمبے سفر سے۔ آپ نے اپنا حق ادا کر دیا، ہم گناہ گار بندے اپنے علم کی حد تک آپ کی بھلی گواہی دیتے ہیں، خالق سے مغفرت و رحمت کی دعا کرتے ہیں۔

بے شماررحمت ہو آپ پر اس پروردگار کی، جس کی رضا کے لیے آپ نے حیات مستعار کا لمحہ لمحہ بسر کیا۔

آمین یا رب العالمین

تصویر بشکریہ دنیا ٹی وی ویب گاہ


Related Posts:

  • اوریا صاحب! کیا پنجابی ہونا قابل شرم ہے؟؟ کل ہمارے محترم شاہد اعوان صاحب نے اوریا مقبول جان صاحب کی ایک ویڈیو کی طرف توجہ دلائی، جس میں اوریا صاحب فرما رہے تھے کہ انہیں اپنے پنجابی ہونے پہ شرمندگی ہوتی ہے۔ویڈیو شئیر کرنے والے صاحب ایک لسانی جماعت کے ہمدرد تھے۔اس … Read More
  • وہ جو تاریک راہوں میں مارے گئے ایک قریبی عزیز فوج میں ڈاکٹر تھے ـــــــ اور جماعت اسلامی کے رکن بھی ـــــ انتہائی متقی اور بھلے آدمی ـــــــ نائن الیون کے بعد امریکہ نے افغانستان پہ حملہ کیا ـــ تو وہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے امریکہ کی مدد اور تعاون کے فیص… Read More
  • پاکستان، عرب اور ایران زیر نظر واقعہ جناب مختار مسعود نے اپنی کتاب "لوح ایام" کے صفحہ انسٹھ اور ساٹھ پہ درج کیا ہے۔ کسی فرقہ وارانہ یا سیاسی مقصد کے لیے پوسٹ نہیں کیا جا رہا۔ رائے قائم کرنے کے لیے ذہن میں رہے کہ اس سے پہلے ایران بھی پینسٹھ کی جن… Read More
  • افغانستان میں امریکہ کی نئی حکمت عملی نائن الیون کے بعد افغانستان پہ امریکہ کی چڑھائی کو ڈیڑھ دہائی ہونے کو آئی ہے، مگر جنگ زدہ افغانستان کے باسیوں کو چین کا سانس لینا نصیب نہیں ہو رہا۔ طالبان خود کو افغانستا ن کے جائز حکمران گردانتے ہیں اور بہت سے صوبوں میں ان… Read More
  • The Hour of Lynching ... بھارت میں گاؤ رکھشا کے نام پہ مسلم کشی (تصویر بشکریہ بی بی سی ویب سائٹ) شرلے ابراہام اور امیت مدھیشیا نامی دو بھارتی نوجوانوں کی بنائی اس ڈاکیومینٹری "دی آور آف لنچنگ"سے مذہبی نفرت کے گرد گھومتی بھارتی سیاست، مسلمانوں کی حالت زار، جدید و قدیم کی کشمکش میں ڈ… Read More

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں