تعارف· ویڈیوز· رابطہ

تصویر

کینیڈا کے شہر اونٹاریو کی اورینٹل مارکیٹ میں شام کے دھندلکے ایک خاتون داخل ہوتی ہے، نقوش سے جنوبی ایشیائی لگتی ہے۔ وہ بازار میں بظاہر کوئی خاص چیز خریدنے نہیں آئی، شاید اسی لیے گھومتے پھرتے،بوڑھے ترک دکاندار لطف الدین لطیف اوغلو کے ہاں جا رکی ہے، جس کے پاس کرنے کو ڈھیروں باتیں اور بیچنے کے لیے چیزوں کی کوئی مخصوص فہرست اور ترتیب نہیں؛ پرانی کتابیں، نئی تصویریں، ہندوستانی بیڑی ، ہوانا کے سگار، مولوی رومی کے رقص کناں درویشوں والے چغے، سلجوقی خود کی نقول، بچوں کے کھیل کود کی تلواریں اور ہاں....قہوے کا فنجان بھی حاضر رہتا۔ مقامی ترک انہیں لطف عم جان کہتے اور کبھی کبھی تو ترک قہوے کے شوقین گورے گوریاں بھی انہیں چچا بنانے آ پہنچتے....  لطف عم جان: خانم آفندی، آپ کی کیا خدمت بجا لا سکتے ہیں ہم؟ خاتون: وہ مصوری کا نمونہ دکھائیے گا لطفاً!  لطف عم جان: جی ضرور...یہ تصویر.... ہاں جی.... اسے ایک پاکستانی نژاد نوجوان نے بنایا ہے، عمر تو زیادہ نہیں ہے مگر مشق اور تخیل خوب ہیں۔ کبھی کبھار اپنی چیزیں ہمارے گوشہ مصوری میں رکھنے آتا ہے۔  خاتون: آہاں.... میں بھی پاکستان سے ہوں  لطف ع...

رات

 ****رات**** درد اور درماں، دونوں کی رات ، یکساں پردہ پوشی فرماتی ہے اعلانات سے تھکی زمین کو   رات، خاموشی کی لوری سناتی ہے دھیمی دھنوں کی تال پہ  رات وصال کا جال بنتی ہے  فراق کے تاریک طاق میں  رات دیا بن کر جلتی ہے صحرا کے تپتے دن پہ رات  ٹھنڈی میٹھی پلکیں جھپکتی ہے سکے جمع کرتے ہاتھوں اور  کلید تختوں سے اٹی انگلیوں کو رات ان کا حق دینے کا فرض نبھاتی ہے لمبے دنوں کی تھکا دینے والی نامانوس صحبتوں اور اکتا دینے والی مقدس روٹین کی ڈور کو رات اپنی ریشمی تلوار سے قطع کرتی ہے دوسروں کو نیا موقع دینے کی ہمت  اور خود پہ طنز کی اجازت دینے رات آتی ہے نیستان سے کاٹ کر لائی نے  گاہے رات کو وصلِ خویشد کے طویل نظم جیسے سفر پہ نکلتی ہے قریہ قریہ گریہ کرتے عشاق کے پیچھے رات ہی کو سفید پوش صفیں باندھتے ہیں اور یہ رات ہے، جس کے ہنگام ادھر کہیں آسماں پہ  حسنِ ازل ، لطیف سئیں اپنے ہاتھ کے گھڑے مٹی کے پتلوں کو  آواز لگواتا ہے اپنے نام کا مرہم لگاتا ہے فلک شیر چیمہ

الوداع سید علی گیلانی

 الوداع سید من! آپ نے جبر کے سامنے ہمیشہ سینہ ہی رکھا، پشت دیکھنے کی اسے حسرت ہی رہی آپ ہمارے قافلے کے سالاروں میں سے تھے، خود میدان میں استادہ و مقیم سالار ہر صدی میں آپ جیسی دو چار نشانیاں ایمان والوں کے سینوں میں روشنی پھر سے بھڑکانے کو ربِ ذوالجلال والاکرام عطا فرماتے ہیں ملا کی اذاں اور، مجاہد کی اذاں اور...یہ مصرعہ وادی کشمیر کے کوچوں بازاروں میں آپ کی دلیل اور جذبہ، دونوں میں گندھی للکار سن کر سمجھ آیا آپ امید ، سر تا پا امید اور توکل و تیقن کی تجسیم تھے جبر میں تو یہ تاب تھی ہی نہیں، آپ کے نفسِ گرم کا سامنا منصب و ثروت کے بل پہ کوئی منافق اور نام نہاد "اپنا" بھی نہ کر سکا لکیریں، دیواریں، سرکاریں، بندوقیں اور غلاموں کی مجبوریاں...کچھ بھی آپ کے نظریہ حیات کی طاقت و صلابت کے سامنے کھڑا نہ رہ پایا بہت سے لوگ آزادی کے اس کٹھن سفر پہ چلے تھے، کئی تھک گئے، کئی دنیا کی چکاچوند سے ہار گئے اور کئی تاویل کی زلفِ تصنع صفت کے اسیر ہو گئے... پر آپ قدیم چنار کی مانند سیدھے، اونچے اور دراز کھڑے رہے حق آپ کی زبان پہ جاری تھا اور ہمہ دم اسی کا رعب لاکھوں گنا طاقتور دشمن پہ طاری تھا پا...

خواب و تعبیر

خواب و تعبیر **************** خواب سب دیکھتے ہیں، تعبیر بھی پاتے ہیں حسبِ قدر دشمن ہونا لازم ہے، یوں ہی دوست بھی حریف سبھی بناتے ہیں اور حلیف بھی خزاں ہر زمین پہ اترتی ہے اور اس کے استقبال کو بہار ہر دفعہ موجود ہوتی ہے خریدار ہر جنس کو میسر آتا ہے، خواہ زنگ اور مٹی ہی سہی کینوس پہ پہاڑ کو دوسرے پہاڑ سے وادی الگ کرتی ہے گھاٹی کے ساتھ ہی ڈھلوان بچھی ہوتی ہے ایک اور صفر کا ساتھ ہمیشہ سے ہے اور مثل بھی تو ہے چیزیں اپنی اضداد سے پہچانی جاتی ہیں سو اپنی اضداد کا انکار اور انہیں اپنا عین کہنے پہ اصرار یہ شتر مرغ کو روا ہے، یا احمقوں کو جائز سو اے میرے گھونسلے کے ساتھیو! تم سنہری شاموں میں الگ الگ راگوں کے گیت ضرور گانا اور شبنمی صبحوں میں اپنی اپنی منفرد خوشبو ضرور ملانا مگر اس دام ہمرنگِ زمیں سے ہوشیار رہنا اپنی اصل مت بھلانا اور اندھیروں کے مقابل روشنی کے عرف پہ مصر رہنا اس خواب کو ایک قدیم بودا قول بکتے بے دیار کے چند آوارہ گرد فصیل فصیل گھومتے مردار خوروں کی خاطر تج نہ دینا میں اس آدرش میں تمہارا ساجھی ہوں جسے سودائیوں، پیادوں اور سواروں کی ایک پوری نسل نے اپنایا تھا میں تمہارا ہم خوا...

نو برس ہوتے ہیں

 نو برس ہوتے ہیں ہر کسی کے اپنے نو برس ہوتے ہیں سیرِ صحرا سے لبِ دریا تک عمر کوٹ سے بھٹ جو گوٹھ تک سسی کی پیاس سے خضر کے گھڑے تک بے انت بے سمتی سے یکسوئی کی مٹھاس تک کانٹوں کے عرق سے ترتراتے پراٹھےسے.... شکرگزاری کی سوکھی روٹی تک بے مصرف بنجر دنوں سے موتیوں جیسے لمحوں کے ڈھیر تک واقف انجانوں کی بھیڑ سے دل میں اترے اجنبیوں کی مجلس تک اور کسی بربادکوزہ گر، جو اپنے ہی کوزوں سے رنجور ہو.... کوپھر سے اپنے چاک پہ شرابور ہونے تک نو برس درکار ہوتے ہیں پر یہ نو برس ہمیشہ سو سے آٹھ زیادہ مہینوں کے نہیں ہوتے یہ نو لمحوں سے نو دہائیوں کے ہو سکتے ہیں کیونکہ نو برس ہر کسی کے اپنے ہوتے ہیں فلک شیر پس نوشت: کل ن م راشد کا یوم پیدائش تھا، راشد کی حسن کوزہ گر کا ایک تھیمیٹک حوالہ مندرجہ بالا نثری نظم میں قارئین محسوس کر سکتے ہیں، یہ تکلفاً در نہیں آیا، یہی عرض کرنا کافی سمجھتا ہوں۔