تصویر
کینیڈا کے شہر اونٹاریو کی اورینٹل مارکیٹ میں شام کے دھندلکے ایک خاتون داخل ہوتی ہے، نقوش سے جنوبی ایشیائی لگتی ہے۔ وہ بازار میں بظاہر کوئی خاص چیز خریدنے نہیں آئی، شاید اسی لیے گھومتے پھرتے،بوڑھے ترک دکاندار لطف الدین لطیف اوغلو کے ہاں جا رکی ہے، جس کے پاس کرنے کو ڈھیروں باتیں اور بیچنے کے لیے چیزوں کی کوئی مخصوص فہرست اور ترتیب نہیں؛ پرانی کتابیں، نئی تصویریں، ہندوستانی بیڑی ، ہوانا کے سگار، مولوی رومی کے رقص کناں درویشوں والے چغے، سلجوقی خود کی نقول، بچوں کے کھیل کود کی تلواریں اور ہاں....قہوے کا فنجان بھی حاضر رہتا۔ مقامی ترک انہیں لطف عم جان کہتے اور کبھی کبھی تو ترک قہوے کے شوقین گورے گوریاں بھی انہیں چچا بنانے آ پہنچتے.... لطف عم جان: خانم آفندی، آپ کی کیا خدمت بجا لا سکتے ہیں ہم؟ خاتون: وہ مصوری کا نمونہ دکھائیے گا لطفاً! لطف عم جان: جی ضرور...یہ تصویر.... ہاں جی.... اسے ایک پاکستانی نژاد نوجوان نے بنایا ہے، عمر تو زیادہ نہیں ہے مگر مشق اور تخیل خوب ہیں۔ کبھی کبھار اپنی چیزیں ہمارے گوشہ مصوری میں رکھنے آتا ہے۔ خاتون: آہاں.... میں بھی پاکستان سے ہوں لطف ع...