جمعرات، 16 ستمبر، 2021

رات

 ****رات****


درد اور درماں، دونوں کی

رات ، یکساں پردہ پوشی فرماتی ہے

اعلانات سے تھکی زمین کو 

 رات، خاموشی کی لوری سناتی ہے

دھیمی دھنوں کی تال پہ 

رات وصال کا جال بنتی ہے

 فراق کے تاریک طاق میں

 رات دیا بن کر جلتی ہے


صحرا کے تپتے دن پہ رات

 ٹھنڈی میٹھی پلکیں جھپکتی ہے

سکے جمع کرتے ہاتھوں اور

 کلید تختوں سے اٹی انگلیوں کو

رات ان کا حق دینے کا فرض نبھاتی ہے

لمبے دنوں کی تھکا دینے والی نامانوس صحبتوں

اور اکتا دینے والی مقدس روٹین کی ڈور کو

رات اپنی ریشمی تلوار سے قطع کرتی ہے


دوسروں کو نیا موقع دینے کی ہمت 

اور خود پہ طنز کی اجازت دینے

رات آتی ہے

نیستان سے کاٹ کر لائی نے 

گاہے رات کو وصلِ خویشد کے

طویل نظم جیسے سفر پہ نکلتی ہے

قریہ قریہ گریہ کرتے عشاق کے پیچھے

رات ہی کو سفید پوش صفیں باندھتے ہیں


اور یہ رات ہے، جس کے ہنگام

ادھر کہیں آسماں پہ 

حسنِ ازل ، لطیف سئیں

اپنے ہاتھ کے گھڑے

مٹی کے پتلوں کو 

آواز لگواتا ہے

اپنے نام کا مرہم لگاتا ہے


فلک شیر چیمہ



منگل، 7 ستمبر، 2021

الوداع سید علی گیلانی

 الوداع سید من!

آپ نے جبر کے سامنے ہمیشہ سینہ ہی رکھا، پشت دیکھنے کی اسے حسرت ہی رہی

آپ ہمارے قافلے کے سالاروں میں سے تھے، خود میدان میں استادہ و مقیم سالار

ہر صدی میں آپ جیسی دو چار نشانیاں ایمان والوں کے سینوں میں روشنی پھر سے بھڑکانے کو ربِ ذوالجلال والاکرام عطا فرماتے ہیں

ملا کی اذاں اور، مجاہد کی اذاں اور...یہ مصرعہ وادی کشمیر کے کوچوں بازاروں میں آپ کی دلیل اور جذبہ، دونوں میں گندھی للکار سن کر سمجھ آیا

آپ امید ، سر تا پا امید اور توکل و تیقن کی تجسیم تھے

جبر میں تو یہ تاب تھی ہی نہیں، آپ کے نفسِ گرم کا سامنا منصب و ثروت کے بل پہ کوئی منافق اور نام نہاد "اپنا" بھی نہ کر سکا

لکیریں، دیواریں، سرکاریں، بندوقیں اور غلاموں کی مجبوریاں...کچھ بھی آپ کے نظریہ حیات کی طاقت و صلابت کے سامنے کھڑا نہ رہ پایا

بہت سے لوگ آزادی کے اس کٹھن سفر پہ چلے تھے، کئی تھک گئے، کئی دنیا کی چکاچوند سے ہار گئے اور کئی تاویل کی زلفِ تصنع صفت کے اسیر ہو گئے... پر آپ قدیم چنار کی مانند سیدھے، اونچے اور دراز کھڑے رہے

حق آپ کی زبان پہ جاری تھا اور ہمہ دم اسی کا رعب لاکھوں گنا طاقتور دشمن پہ طاری تھا

پاکستانی آپ تھے، پاکستانی آپ ہیں اور پاکستانی آپ رہیں گے۔ پاکستان آپ کا تھا، پاکستان آپ کا ہے اور پاکستان آپ کا رہے گا۔ آپ کے پیغام کی گونج میں یہ فقیر کہتا ہے کہ ہم کشمیری ہیں اور کشمیر ہمارا ہے، ہم کشمیری ہیں اور کشمیر ہمارا ہے۔ اسلام کی نسبت سے، قرآن کی نسبت سے، سیدِ گیلان کی نسبت سے ہم کشمیری ہیں اور کشمیر ہمارا ہے۔

ڈل کی گہرائی اور جہلم کی تیزی، پیر پنجال کی اونچائی، وادی کے ہر شہداء قبرستان کی وسعت اور آپ کے اس محبوب کشمیر کے چپے چپے پہ فطرت کے انڈیلے حسن سے آپ کے پیغام کی خوشبو پھوٹتی اور صدا گونجتی رہے گی.... کہ یہ خوشبو دار صدا فطرت کی طرح سادہ، سچی اور عدل کی صدا تھی

کتنی خوش نصیب ہے کشمیر کی سرزمین، کہ اسے غلامی میں ایک "مرد آزاد" میسر آیا، رول ماڈل ملا اور پیچھے چلنے کو اس کے جمے ہوئے قدم ملے۔

آپ کا پاکستان آپ کے لیے اداس ہے، بلا تفریق رنگ و نسل، بلا تمیز مسلک و مشرب۔ ہم آپ کے بیٹے بھائی اور ہماری آنکھیں آپ کے لیے پرنم اور دل حزیں ۔

آرام سے سوئیں اب گیلانی صاحب، بہت تھکے ہوں گے آپ اس لمبے سفر سے۔ آپ نے اپنا حق ادا کر دیا، ہم گناہ گار بندے اپنے علم کی حد تک آپ کی بھلی گواہی دیتے ہیں، خالق سے مغفرت و رحمت کی دعا کرتے ہیں۔

بے شماررحمت ہو آپ پر اس پروردگار کی، جس کی رضا کے لیے آپ نے حیات مستعار کا لمحہ لمحہ بسر کیا۔

آمین یا رب العالمین

تصویر بشکریہ دنیا ٹی وی ویب گاہ


اتوار، 5 ستمبر، 2021

خواب و تعبیر



خواب و تعبیر

****************




خواب سب دیکھتے ہیں، تعبیر بھی پاتے ہیں حسبِ قدر

دشمن ہونا لازم ہے، یوں ہی دوست بھی

حریف سبھی بناتے ہیں اور حلیف بھی

خزاں ہر زمین پہ اترتی ہے اور اس کے استقبال کو بہار ہر دفعہ موجود ہوتی ہے

خریدار ہر جنس کو میسر آتا ہے، خواہ زنگ اور مٹی ہی سہی

کینوس پہ پہاڑ کو دوسرے پہاڑ سے وادی الگ کرتی ہے

گھاٹی کے ساتھ ہی ڈھلوان بچھی ہوتی ہے

ایک اور صفر کا ساتھ ہمیشہ سے ہے

اور مثل بھی تو ہے

چیزیں اپنی اضداد سے پہچانی جاتی ہیں

سو اپنی اضداد کا انکار اور انہیں اپنا عین کہنے پہ اصرار

یہ شتر مرغ کو روا ہے، یا احمقوں کو جائز

سو اے میرے گھونسلے کے ساتھیو!

تم سنہری شاموں میں

الگ الگ راگوں کے گیت ضرور گانا

اور شبنمی صبحوں میں

اپنی اپنی منفرد خوشبو ضرور ملانا

مگر اس دام ہمرنگِ زمیں سے ہوشیار رہنا

اپنی اصل مت بھلانا

اور

اندھیروں کے مقابل روشنی کے عرف پہ مصر رہنا

اس خواب کو ایک قدیم بودا قول بکتے

بے دیار کے چند آوارہ گرد

فصیل فصیل گھومتے مردار خوروں کی خاطر

تج نہ دینا

میں اس آدرش میں تمہارا ساجھی ہوں

جسے سودائیوں، پیادوں اور سواروں کی ایک پوری نسل نے اپنایا تھا

میں تمہارا ہم خواب ہوں

اور اس کی اسی پرانی تعبیر کو

اس قدیم آسمان کے نیچے

نئے یقین کے ساتھ

اوراق، اصحاب اور الواح کے زیتونی نور کی رہنمائی میں

میرے ہم نفسو!

پھر سے فاران و آسیا پہ ایک شفیق بادل کی طرح

برستے دیکھنے کا آرزو مند ہوں




فلک شیر چیمہ


بدھ، 6 جنوری، 2021

نو برس ہوتے ہیں

 نو برس ہوتے ہیں

ہر کسی کے اپنے نو برس ہوتے ہیں

سیرِ صحرا سے لبِ دریا تک

عمر کوٹ سے بھٹ جو گوٹھ تک

سسی کی پیاس سے خضر کے گھڑے تک

بے انت بے سمتی سے یکسوئی کی مٹھاس تک

کانٹوں کے عرق سے ترتراتے پراٹھےسے....

شکرگزاری کی سوکھی روٹی تک

بے مصرف بنجر دنوں سے موتیوں جیسے لمحوں کے ڈھیر تک

واقف انجانوں کی بھیڑ سے دل میں اترے اجنبیوں کی مجلس تک


اور


کسی بربادکوزہ گر، جو اپنے ہی کوزوں سے رنجور ہو....

کوپھر سے اپنے چاک پہ شرابور ہونے تک

نو برس درکار ہوتے ہیں


پر یہ نو برس ہمیشہ سو سے آٹھ زیادہ مہینوں کے نہیں ہوتے

یہ نو لمحوں سے نو دہائیوں کے ہو سکتے ہیں

کیونکہ

نو برس ہر کسی کے اپنے ہوتے ہیں


فلک شیر


پس نوشت: کل ن م راشد کا یوم پیدائش تھا، راشد کی حسن کوزہ گر کا ایک تھیمیٹک حوالہ مندرجہ بالا نثری نظم میں قارئین محسوس کر سکتے ہیں، یہ تکلفاً در نہیں آیا، یہی عرض کرنا کافی سمجھتا ہوں۔