تعارف· ویڈیوز· رابطہ

Africa and colonizers

 Perhaps Africa is the continent which suffered the most on the hands of colonizers in the previous centuries. Distribution of resources fairly among the masses, whether they are mineral, agricultural or even human ones, had always been a real issue for the collective conscious of any society/civilization. We have heard many scholars saying that a society can be judged by its treatment of its poor people or low income classes or those people who have lesser access to the power structure. We can say, this is very much same for the nations across the globe. It is very clear that at any point of time in the history there are some superpowers and others who are their allies and then there are those who stay on the borders of the pages of history; the downtrodden ones, the forgotten ones. We also know that nations and civilizations don't stay always at the top slots, things keep changing for the nations just like the powerful individuals. History is just the registering agent of all the...

الوداع سید علی گیلانی

 الوداع سید من! آپ نے جبر کے سامنے ہمیشہ سینہ ہی رکھا، پشت دیکھنے کی اسے حسرت ہی رہی آپ ہمارے قافلے کے سالاروں میں سے تھے، خود میدان میں استادہ و مقیم سالار ہر صدی میں آپ جیسی دو چار نشانیاں ایمان والوں کے سینوں میں روشنی پھر سے بھڑکانے کو ربِ ذوالجلال والاکرام عطا فرماتے ہیں ملا کی اذاں اور، مجاہد کی اذاں اور...یہ مصرعہ وادی کشمیر کے کوچوں بازاروں میں آپ کی دلیل اور جذبہ، دونوں میں گندھی للکار سن کر سمجھ آیا آپ امید ، سر تا پا امید اور توکل و تیقن کی تجسیم تھے جبر میں تو یہ تاب تھی ہی نہیں، آپ کے نفسِ گرم کا سامنا منصب و ثروت کے بل پہ کوئی منافق اور نام نہاد "اپنا" بھی نہ کر سکا لکیریں، دیواریں، سرکاریں، بندوقیں اور غلاموں کی مجبوریاں...کچھ بھی آپ کے نظریہ حیات کی طاقت و صلابت کے سامنے کھڑا نہ رہ پایا بہت سے لوگ آزادی کے اس کٹھن سفر پہ چلے تھے، کئی تھک گئے، کئی دنیا کی چکاچوند سے ہار گئے اور کئی تاویل کی زلفِ تصنع صفت کے اسیر ہو گئے... پر آپ قدیم چنار کی مانند سیدھے، اونچے اور دراز کھڑے رہے حق آپ کی زبان پہ جاری تھا اور ہمہ دم اسی کا رعب لاکھوں گنا طاقتور دشمن پہ طاری تھا پا...

The Hour of Lynching ... بھارت میں گاؤ رکھشا کے نام پہ مسلم کشی

(تصویر بشکریہ بی بی سی ویب سائٹ) شرلے ابراہام اور امیت مدھیشیا نامی دو بھارتی نوجوانوں کی بنائی اس ڈاکیومینٹری "دی آور آف لنچنگ"سے مذہبی نفرت کے گرد گھومتی بھارتی سیاست، مسلمانوں کی حالت زار، جدید و قدیم کی کشمکش میں ڈولتی اور متزلزل مسلم نوجوان آبادی، ماضی قریب میں مذاہب سے بیزاری کی عالمی لہر کے نتیجے میں سوشلسٹ پارٹیوں اور نظریات کی طرف جھکاؤ ۔۔۔سب آشکارا ہو جاتا ہے ۔ ایک نوجوان دیہاتی مسلمان بھارتی حکمران پارٹی بی جے پی کے لاٹھیالوں اور تلوار بردار غنڈوں کے ہاتھوں قتل ہوتا ہے اور وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ وہ ایک گائے اسمگل کرنے کی کوشش کر رہا تھا، جبکہ بی جے پی کے غنڈے گائے امی کی حفاظت کا دینی فریضہ سرانجام دے رہے تھے۔ بی جے پی کا مقامی ایم پی اے اور کونسلر ٹائپ لوگ ان کے ساتھ کھڑے ہیں ، جبکہ راکبر خان نامی مسمل نوجوان کی بیوہ، جوان بچی اور چھوٹے نوعمر بچوں کی حالت زار ۔۔۔سب اس مختصر ڈاکیومنٹری میں دکھایا گیا ہے۔۔بنانے والے بھی ہندو ہیں ، غالباً یہ نوجوان کنہیا کمار جیسے یونیورسٹی سوشلسٹوں سے متاثر ہیں۔  درج ذیل لنک پہ ویڈیو دیکھی جا سکتی ہے ۔ The Hour of L...

جماعت الدعوۃ سیاست میں : کیوں، کب اور کیسے

افغانستان میں امریکہ کی نئی حکمت عملی

نائن الیون کے بعد افغانستان پہ امریکہ کی چڑھائی کو ڈیڑھ دہائی ہونے کو آئی ہے، مگر جنگ زدہ افغانستان کے باسیوں کو چین کا سانس لینا نصیب نہیں ہو رہا۔ طالبان خود کو افغانستا ن کے جائز حکمران گردانتے ہیں اور بہت سے صوبوں میں ان کی غیر اعلانیہ حکومت بھی موجود ہے۔ دوسری طرف شمالی اتحاد ، سابق مجاہدین رہنماؤں  اور کچھ پختون سرداروں، جنہیں امریکہ کی مدد حاصل ہے، کابل کے تخت پہ بیٹھے ہیں۔ گو کہ یہ حکومت اکثر و بیشتر کابل تک ہی محدود دکھائی دیتی ہے۔  دو سابق امریکی صدور ، بش جونیر اور بارک اوباما کے ادوار میں اس حوالے سے مختلف سٹریٹجیز اپنائی جا تی رہیں، جو کہ ابھی تک افگانستان میں امن لانے میں قریب قریب ناکام رہی ہے۔ بہت سے تجزیہ کار کہتے ہیں کہ امن کی کنجی طالبان کے ہاتھ میں ہے ۔ ماضی میں امریکہ اور طالبان کے درمیان بات چیت کے کچھ ادوار قطر وغیرہ میں ہوئے ہیں ۔ حال ہی میں چین اور روس بھی اس حوالے سے متحرک کردار ادا کرنے کے خواہشمند نظر آئے ہیں۔ اس پیچیدہ صورتحال میں نومنتخب امریکی صدر کی افغانستان سے متعلق پالیسی کا سب کو انتظار ہے۔ الجزیرہ کی اس مختصر رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ...

پاکستان، عرب اور ایران

زیر نظر واقعہ جناب مختار مسعود نے اپنی کتاب "لوح ایام" کے صفحہ انسٹھ اور ساٹھ پہ درج کیا ہے۔ کسی فرقہ وارانہ یا سیاسی مقصد کے لیے پوسٹ نہیں کیا جا رہا۔ رائے قائم کرنے کے لیے ذہن میں رہے کہ اس سے پہلے ایران بھی پینسٹھ کی جنگ میں ہماری مدد کر چکا تھا، البتہ شہنشاہ ایران کی امریکہ کے ساتھ محبت اور اندھی طاقت اور دولت کا خمار اس قدر بڑھ چکا تھا کہ ماڑے موٹے بھائی یا دوست اب اس کی ترجیح نہ رہے تھے۔گو کہ سعودی بھی امریکہ کے ساتھ تھے اور دولت بھی وہاں وافرآ رہی تھی یا کم از کم آنے والی تھی ، لیکن ان کا رویہ یکسر مختلف تھا، اسی کی نشاندہی اس واقعہ میں ہوتی ہے۔یہ تاریخی واقع ہماری خارجہ پالیسی کے سفر کی ایک جھلک  ہے ۔ تفصیلی تجزیے کے لیے بہرحال تصویر کو بڑے پس منظر میں دیکھنا ضروری ہے۔  فلک شیر جناب مختار مسعود لکھتے ہیں: "اکتوبر 1973ء میں تیل کا عالمی بحران آیا۔ قیمتوں میں جو مدت سے ایک ہی سطح پر ٹھہری ہوئی تھیں، یکایک پانچ گنا اضافہ ہو گیا۔ تیل درآمد کرنے والے ممالک زرمبادلہ کی کمی کا شکار ہو گئے اور تیل برآمد کرنے والے ممالک دیکھتے ہی دیکھتے بے حدوحساب دولت کے مال...

اوریا صاحب! کیا پنجابی ہونا قابل شرم ہے؟؟

کل ہمارے محترم شاہد اعوان صاحب نے اوریا مقبول جان صاحب کی ایک ویڈیو کی طرف توجہ دلائی، جس میں اوریا صاحب فرما رہے تھے کہ انہیں اپنے پنجابی ہونے پہ شرمندگی ہوتی ہے۔ویڈیو شئیر کرنے والے صاحب ایک لسانی جماعت کے ہمدرد تھے۔اس پہ جو پریشان سے خیالات پیش کیے ــــــــــــوہ  پیش خدمت ہیں: جن صاحب نے یہ ویڈیو شئیر کی ہے،   اسی نسل کے سید مودودی کو بالآخر نظر آیا تھا کہ اسلام کے لیے کام کرنے کے لیے جو حرارت درکار ہے، آج وہ پنجاب اور لاہور کے سوا کہیں دستیاب نہیں اور اقبال جیسا نابغہ وہیں ہے ــــــــــــ اور جس زمانے کی کہانی اوریا صاحب سنا رہے ہیں ، اس زمانے میں پنجاب میں مذہب اور دنیا کے ٹھیکیدار یہی گروہ تھے اور جن سپاہیوں نے اٹک سے چکوال اور رحیم یار خان تک انگریز کے جھنڈے تلے جان دی تھی ، انہیں یہ بتایا گیا تھا کہ انگریز عادل حاکم ہے ـــــــــــــــ روٹی سے مجبور وہ بے چارہ کسان زادہ اپنی ماں کی دعاؤں کے سائے میں انگریز بہادر کی فوج کی وردی پہن لیتا تھا ـــــــــــــــ اسے گالی دینا مجھے اچھا نہیں لگتا ـــــــــــــ آپ یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ سیاسی شعور ان میں نہیں تھا اتن...

وہ جو تاریک راہوں میں مارے گئے

ایک قریبی عزیز فوج میں ڈاکٹر تھے ـــــــ اور جماعت اسلامی کے رکن بھی ـــــ انتہائی متقی اور بھلے آدمی ـــــــ نائن الیون کے بعد امریکہ نے افغانستان پہ حملہ کیا ـــ تو وہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے امریکہ کی مدد اور تعاون کے فیصلہ سے دلبرداشتہ ہوئے اور افواج سے استعفا دے دیا ـــــــــــ بعد ازاں غالباً وہ اسی جذبہ کے تحت ایسے لوگوں کے قریب ہوتے گئے ، جو شریعت اسلامی کی عملی تنفیذ و قیام کے داعی تھے ــــــ اور اس سلسلہ میں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں افواج سے برسر پیکار تھے ـــــــــ اسی شک میں ایک دن ڈاکٹر صاحب اور ان کے بڑے بیٹے کو خفیہ اداروں نے اٹھا لیا ـــــــــ بہت کوششوں کے باوجود ان کی رہائی ممکن نہ ہو سکی ــــــــــــ آج قید ہی میں انہوں نے جاں جانِ آفریں کے سپرد کی ـــــــــ اللہ اکبر سمجھ نہیں آتی ــــــــ اس بیوہ کا سامنا کیسے کروں گا ــــــــــ اسے یہ کیسے سمجھا پاؤں گا ، کہ ان کے خاوند کے قاتل کون ہیں ! 1) وہ سب علماء، سکالرز اور دانشور ، جنہوں نے اپنے کچے پکے نظریات کو جذبات کو تڑکا لگا کر نوجوانوں کے سامنے پیش کیا اور پھر اس کے لیے جان قربان کرنے کا درس دیا ۔ 2) وہ ش...

ارشادات غامدیہ ـــــــــــــــــــایک جائزہ

ارشادات غامدیہ ـــــــــــــــــــایک جائزہ جناب جاوید احمد غامدی صاحب نے اس ویڈیو میں "اسلامی دہشت گردی"سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے ، اس پہ  اس طالب علم نے چند سطریں لکھیں ہیں ، جو پیش خدمت ہیں۔ غامدی صاحب فرما رہے ہیں ، کہ مسلمانوں کی طرف سے دہشت گردیکے جو واقعات سامنے آ رہے ہیں ، یہ فکری گمراہی  کا نتیجہ ہیں اور اس کی وجہ مدارس اور مذہبی شخصیات کی طرف سے سکھائی پڑھائی جانے والی چار باتیں ہیں : 1)دنیا بھر میں جہاں شرک اور ارتداد ہے، اس کی سزا قتل ہےــــــــــــ اور اس سزا کا نفاذ ہمارے ذمہ ہے 2)حکومت کا حق صرف مسلمانوں کو ہے ـــــــــــاور غیر مسلموں کی کوئی بھی حکومت جائز حکومت نہیں ہے ــــــــہمیں  جب بھی موقع ملے گا، ہم اسے ان سے چھین لیں گے 3)نیشن سٹیٹس (پاکستان ، سعودی عرب، ترکی ،انڈونیشیا وغیرہ) کفریہ ریاستیں ہیں ۔ ان کو شرعی بنیاد فراہم نہیں ہے 4)خلافت اسلامیہ کا قیام فرض ہے اور مسلمانوں کی الگ الگ ریاستیں اور حکومتیں مطلوب و مستحسن نہیں ہیں ۔ اب ذرا نمبر وار ان پہ مختصر ترین الفاظ میں تبصرہ ہو جائے۔ 1)غامدی صا...