تعارف· ویڈیوز· رابطہ

بدلتی ہوئی دنیا میں مسجد کا کردار ــــــــــــــــــــچند معروضات (قسط اوّل)

مسجد قرون اولیٰ میں  : طلوع اسلام کے بعد مسلمانوں کے قدم جس جس زمین پہ بھی پڑے، وہاں انہوں نے سب سے پہلے جو عمارت کھڑی کی ، وہ ان کی سجدہ گاہ تھی۔ مسلم اورسجدہ میں جو تعلق  ہے ، اس سے کوئی ذی شعور غافل و جاہل نہیں ہے۔   مسجدکو اِس سے پہلے لوگوں کی عبادت گاہوں سے یہ امتیاز حاصل ہوا، کہ اُن کے برعکس یہ ایک  زندہ عمارت تھی ، معاشرے کے سینے میں دھڑکتی ہوئی   ـــــــــ صاف خون سے پورے جسم کو سیراب کرتی اور آلودہ کو صفائی کے لیے واپس کھینچتی ۔یہی وجہ ہے، کہ محسن انسانیت ، سید وُلد آدم ؑ سیدنا حضرت محمد ﷺاس چیز کا ازحد التزام فرماتے ، کہ جہاں جہاں مسلمان موجود ہوں، وہاں مسجد تعمیر ہو اور سب وہاں نماز کے لیے وقت مقررہ پہ آ موجود ہوں ــــــ چھوٹے بڑے،امیر غریب، مالک اورملازم، کسان اور سپاہی، غلام اور آقا،دور والے اور قریب والے ، مسافر اور مقیم، مصروف اور فارغ ــــــــــــ سب  ــــــ سب کلمہ گو کسی تفریق، رعایت اور سستی کے بغیر آوازہ صلاۃ اور ندائے فلاح بلند ہوتے ہی حاضر ہو جائیں ۔ اس امر سے سستی جناب پیغمبرﷺ کو کسی قیمت پہ گوارا نہ تھیــــــ وہ صحا...

نیویں لوک نے جنے ـــــــــــــــــــــپنجابی غزل

پنجابی غزل نیویں لوک نیں۔۔ جنے سارے اُچے کوٹھے ۔۔۔۔ پائی جاندے اندروں اندری ۔۔لُٹ کے حاکم باہرو باہر ۔۔ ۔۔ گھلائی جاندے کُھلیاں کرن نوں ۔۔محلاں اپنیاں ساڈی ڈھاری۔۔ ڈھائی جاندے کُرسی خاطر ۔۔مرگئے جیہڑے اوہ وی شہید ۔۔کہوائی جاندے آپ نے سُندے۔۔ آنند بھیرویں سانوں بِین ۔۔۔۔ سُنائی جاندے فلک شیر​

قصہ حاجی محمد ڈوگر کا (قسط دوم)

قصہ حاجی محمد  ڈوگر کا (قسط  دوم)  چوپالوں، بیٹھکوں، ڈیروں اور اوطاقوں کے رزق میں ازل سے "قصہ"لکھ دیا گیا تھا۔قصہ، جس میں بات سے بات نکلتی ہے اور انسانی زندگیوں کے ایسے ایسے گوشے سامنے آتے ہیں ،کہ کسی کتاب میں  کہاں لکھے ہوں گے۔فی زمانہ بدلتے حالات،مقامات اور وسائل نے قصہ خوانی کے رنگ ڈھنگ اور انداز بدل کر رکھ دیے ہیں ۔ یہ قصہ جو میں بطور راوی آپ کی خدمت میں پیش کرنے جا رہا ہوں، یہ ایک استاد  اور شاگرد کی کہانی ہے ، واقعہ پہلی قسط "قصہ حاجی محمد ڈوگر ـــ ــ قسط اول" میں مذکور سیکرٹری بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن لاہور،حاجی محمد ڈوگر سے متعلق ہے، آئیے اُنہی کی زبانی سنتے ہیں : "یہ آج سے کتنے ہی برس پہلے کی بات ہے، میں بھر پور زندگی گزار رہا تھا اور کسی قسم کی پریشانی مجھے لاحق نہ تھی۔ میٹھے پھلوں کے طباق کی طرح زندگی نے اپنی تمام مٹھاس میرے سامنے لا ڈھیر کی تھی۔ ایک سرکاری تعلیمی ادارے میں پڑھانے کے ساتھ ساتھ میں سوشل سرکلز میں ایک باہمت، توانا اور مستعد آدمی کے طور پر  بھی جانا جاتا تھا۔ ا یک دن میں سو کر اٹھا، تو مجھے محسوس ہوا ،...