تعارف· ویڈیوز· رابطہ

قصہ ابو ظاہر و ابوباطن ۔۔۔۔۔۔۔۔

ابو ظاہر ابو باطن سے گویا ہوا:   " حضور قبلہ عالم! ہم بندگانِ نفس، کشتگانِ حرص و ہوس آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے ہیں ، کہ اُس آزار اور اِ ن امراض ...........دونوں کا علاج پائیں " ابو باطن نے کہا : " یا اباظاہر!! دونوں کا علاج ایک ہی ہے ..............صرف ایک " وہ کیا؟ کند ذہن ، خطا نے تیرے حواس کو مختل اور بصیرت کو مثل ایک نومولود کے کر دیا ہے .............تو ڈھونڈتا اِسے ہے اور "تلاش"اُس کی کرتا ہے.......تیری ہنسی میں خلا ہے اور گریہ محض آبِ عُجلت ..........تیرا نام صرف "نام"سے عبارت اور عبارت بس چار حرف...........ترے کلام سے سکوت بہتر اور سکوت سے بہتوں کا کلام..........تیرا قدم اُدھر اُٹھتا نہیں، جدھر کا تو ارادہ کرے .....تو جسے سننا چاہے، اُسے اذنِ گویائی کیونکر ملے........اور جنہیں تم سنتے ہو، وہ بولتے ہی کیا ہیں ،سوا شور کے.........جہات میں تم قید ہو اور ذائقے کے اسیر.......محبت کیا کرو گے کہ وحشت کے بھی حقدار نہ ہو.....لامتناہی ہونا چاہتے ہواور چوتھی کھونٹ جانے کا حوصلہ تم میں نہیں .......لفظ کو غلام کرنے کی خواہش باطل ہے اور ت...