تعارف· ویڈیوز· رابطہ

سیلاب کی دلہن ۔۔۔۔۔۔۔۔ ترجمہ Wedding in the Flood

سیلاب کی دلہن شہنائی دھنیں بکھیر رہی ہے اور باراتی واپسی کے لیے اٹھ رہے ہیں دلہن کی ماں سسکیاں بھرتی ہوئی کہتی ہے "میری رانی کو یہ لوگ ہمیشہ کے لیے لے چلے۔۔۔ ان اجنبی چہروں کے ساتھ اُس بیگانےگھر تک میری شرمیلی بچی کیسے سفر کرے گی" آج کا دن کتنا کٹھن تھا تمام دن آسمان سے پانی برستا رہا ہاں، بارات کو کھانا کھلانے کے وقت ضرور رکا تھا دلہن کو پالکی میں بٹھایا جا رہا ہے اور بوندیں پھر سے گرنے لگی ہیں شاید لڑکی برتن بہت زیادہ چاٹتی تھی دو تکڑے جوان جہیز کا سامان، جس میں ایک چارپائی،شیشہ، نیلا اور زرد رنگ کیا ہوا ایک صندوق اٹھائے چل رہے ہیں اور ان سے پیچھے چار کہار ڈولی کو کندھوں پہ اٹھائے ہیں بارات کو رخصت کرنے والے اب تو بہت پیچھے رہ چکے ہیں دلہا چوری آنکھ سے پالکی پکڑے ہوئے حنائی ہاتھ دیکھتاہے "اگر اس کا چہرہ بھی ان ہاتھوں جیسا خوبصورت ہوا اور اس نے گھر میں کوئی فساد کھڑا نہ کیا تو!!! تھوڑے جہیز کی خیر ہے جی۔۔ یہ بارش کب رکے گی بھئی؟ میری قسمت میں یہ برتن چاٹنے والی ہی لکھی تھی!!! اب ساری بات ملاح پہ ہے" پالکی میں دلہن خود سے...

یوسف کا مصر ........

الله غایتنا ..... الرسول قدوتنا...... القرآن دستورنا........ الجهاد سبيلنا ........ الموت فى سبيل الله أسمى أمانينا..........اخوان کا تو  اپنے خالق سے وعدہ ہے............موت تو ان کو بھی آنا ہے جو آج چونا گچ محلات میں چھپے ہیں............مصر کے منافقوں کو کوئی جا کے بتائے کہ اس زمین پہ کبھی فراعین بھی بسا کرتے تھے..............اور وہ آج محض عبرت بہم پہنچاتے ہیں.......... مصری فوج ،جعلی لبرل اور امریکیوں اسرائیلیوں کے پِلے منافق سیاستدان باطل کے ساتھ کھڑے ہیں .........اور وقت تو کھرے کو آسانی سے آسانی سے کھرا نہیں مانتا......کجا یہ کہ باطل کو ......... حق پہ کھڑا اکیلا آدمی بھی مثل ایک لشکر کے ہوتا ہے...........چراغ تنہا جلتا ہے اور تاریکی کا سارا قبیلہ اُس کے آگے بھاگتا ہے........ پانچ سو انتیس لوگوں کو پھانسی کا حکم دینے والی عدالت کی کرسی پہ انسان نہیں، انسان نما حیوان بیٹھے تھے۔۔۔۔۔۔۔نہیں کچھ غلط کہہ گیا میں ، جانور بھی شاید ایسا نہ سوچ سکیں ۔ موت ان کو نہیں آئی ، جو حق کی راہ میں ظالموں کے ہاتھوں مارے جا رہے ہیں............وہ تو اپنے قاتلوں کویہ کہہ کے اپنے رب ...