تعارف· ویڈیوز· رابطہ

معاتبہ نفس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ استفادہ از کلامِ امام غزالیؒ

حیف تجھ پر اے نفس؛ یومِ حساب پر گویا تیرا ایمان ہی نہیں! مر کر گویا تُو خدا کے ہاتھ سے نکل جائے گا اور یونہی چھٹکارا ہو جائے گا! کہاں بہکا پھرتا ہے!؟ یعنی تجھے پیدا کیا گیا، اتنا عرصہ تجھے پالا پوسا گیا اور تیری خدمت تواضع میں زمین آسمان کو لگا دیا گیا، اِس لئے کہ آخر میں تجھے چھوڑ دیا جائے!!!کیا تُو محض ایک گھٹیا بوند نہ تھی جو کہ بس ٹپکا دی گئی تھی؟ پھر اسی بوند سے پیدا کرلینے والی ذات نے تجھےلوتھڑانہیں بنایا؟ اور پھر اسی لوتھڑے سے ایک پورا انسان برآمد نہیں کر ڈالا؟ بس اب وہ اِس ایک بات سے عاجز ہے کہ وہ تجھے مردوں میں زندہ کھڑا کر لے!؟اگر تیرے دل کے کسی گوشے میں یہ گمان بیٹھ گیا ہے تو تیرے کفر اور تیری جہالت میں کیا شک ہے؟ پھر کیا یہ بھی کبھی غور کیا کہ تجھے اُس نے پیدا کس چیز سے کیا؟ مِن نُّطْفَةٍ خَلَقَهُ فَقَدَّرَهُ۔ ثُمَّ السَّبِيلَ يَسَّرَه۔ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ۔ ثُمَّ إِذَا شَاء أَنشَرَهُ۔ (عبس 80: 19- 22) ایک پانی کی ٹپک سے اس نے تجھے پیدا کرلیا۔ پھر آگے کے کتنے مراحل تھے جو اُس نے تیرے لئے آسان کردیے۔  پھر اُس نے تجھے موت دی اور قبر دی۔ پھر وہ جب چاہے تجھے اٹ...

غزل : جتھے تیرے پَیر او بیلی

 غزل جتھے تیرے پیر او بیلی اوتھے شالا خیر او بیلی لیڈر کردے مِٹھیاں گلّاں مینوں لگن زہر او بیلی ہووے گا کدی راوی دریا ہُن وچارا ۔۔۔ نہر او بیلی لمّے سوکے ۔۔ مارُو پانی وَنّ سَوَ نّے ۔۔ قہر او بیلی راہ میری وِچ وِچھے پینڈا نالے آکھے ۔۔۔ ٹھہر او بیلی وِچ چَناں جنے سوہنی روڑھی دل وچ اُٹھی ، لہر او بیلی شیراں دے ہُن ہرن شکاری جنگل ہویا ۔۔ شہر او بیلی فلک شیر

جوگی نامہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خوشی محمد ناظر

جوگی نامہ​ کل صبح کے مطلعِ تاباں سے جب عالم بقعۂ نور ہوا​ سب چاند ستارے ماند ہوئے، خورشید کا نور ظہور ہوا​ مستانہ ہوائے گلشن تھی، جانانہ ادائے گلبن تھی​ ہر وادی وادیٔ ایمن تھی، ہر کوہ پہ جلوۂ طور ہوا​ جب بادِ صبا مضراب بنی، ہر شاخِ نہال رباب بنی​ شمشاد و چنار ستار ہوئے، ہر سرو و سمن طنبور ہوا​ سب طائر مل کر گانے لگے، مستانہ وہ تانیں اُڑانے لگے​ اشجار بھی وجد میں آنے لگے، گلزار بھی بزمِ سرُور ہوا​ سبزے نے بساط بچھائی تھی اور بزمِ نشاط سجائی تھی​ بن میں، گلشن میں، آنگن میں، فرشِ سنجاب و سمور ہوا​ ​ تھا دل کش منظرِ باغِ جہاں اور چال صبا کی مستانہ​ اس حال میں ایک پہاڑی پر جا نکلا ناظر دیوانہ​ ​ چیلوں نے جھنڈے گاڑے تھے، پربت پر چھاؤنی چھائی تھی​ تھے خیمے ڈیرے بادل کے، کُہرے نے قنات لگائی تھی​ یاں برف کے تودے گلتے تھے، چاندی کے فوارے چلتے تھے​ چشمے سیماب اگلتے تھے، نالوں نے دھوم مچائی تھی​ اک مست قلندر جوگی نے پربت پر ڈیرا ڈالا تھا​ تھی راکھ جٹا میں جوگی کی اور انگ بھبوت رمائی تھی​ تھا راکھ کا جوگی کا بستر اور راکھ کا پیراہن تن پر​ تھی ای...

مجھے جینے دے!!!

مجھے جینے دے!!! فصیلِ جاں سے ذرا اُدھر خبرگاہ سے ذرا  اِدھر ایک اور دنیا ہے اعراف والوں کی ہمہ دم طواف والوں کی کم اطراف والوں کی دنیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ جس میں بجتا ہے  ایک ساتھ   تمنا کا  نقارہ اور نفس کا ساز بے چاری دنیا!!! اے حُسنِ ازل!! اس دنیا کے باسی ہزار جاں سے تجھ پہ فدا بھی  گھٹتی ہوئی  اک صدا بھی تیرے ساتھ بھی، آس پاس بھی اور تجھ سے دور بھی۔۔۔ تیرے لشکر کے ہراول بھی اُس کے رستے میں  سرِ راہ بیٹھے مسافر بھی وہ چاہیں۔۔۔اے حسنِ ازل! کہ خود کو۔۔۔تجھ پہ دان کریں اپنے جسم و جاں سے تیرے اسم گرامی کا اعلان کریں جو کچھ ہے۔۔۔۔اُن کے پاس سب۔۔۔سب تیرے نام کریں ہاں یاد آیا ۔۔۔۔۔کبھی کبھی ایک خیال کا آسیب انہیں آن لیتا ہے کہ تو! اے حسنِ ہرطرف۔۔۔۔تو!!! اُنہیں اپنے سایوں سے بات کرنے دے اُن کے ساتھ بھی کبھی دن رات کرنے دے خود اپنے ساتھ بھی کبھی ملاقات کرنے دے الگ جزیرے بسانے دے اپنی دنیا آپ سجانے دے جِن سے اُنہیں اُنس ہے صرف انہی سے  ایک ہو جانے دے خداوند!۔۔۔۔بس...

قصہ ہشت درویش

آٹھویں درویش نے پہلے درویش سے کہا........اتنی طول طویل خرافات سُن کر سر میں درد سا ہونے لگا ہے...... پہلے مجھے اونٹ مارکہ بیڑی پلا ،کہ حواس قائم ہوں.......تاکہ پھر اپنی دلدوز داستاں سنا کر تیرے بھی سر میں درد لگا سکوں......پہلے درویش نے دوسرے درویش کی جیب سے بیڑی نکال کے پیش کی.....دو کش لگانے کے بعد یہ بزرگ یوں گویا ہوا ........... بچپن تھا.......نیرنگی زمانہ دیکھیے کہ خبر ہی نہ ہوئی اور جوانی آن ٹپکی......ایک عفیفہ کہ نام اُس کا اب ذہن میں نہیں........البتہ اس کے والد گرامی شہرکے سب بڑے کھمبوں پہ رات کو لالٹین باندھ کر ثواب دارین کمایا کرتے تھے، تاکہ اللہ کے وہ بندے جو رات کو دوسروں کے گھروں میں روزی روٹی کے سلسلہ میں نقب لگاتے ہیں ، اُن کو مشکل نہ ہو(لوگ ایویں بکواس کرتے ہیں، کہ ڈاکو ان کو باقاعدہ حصہ دیا کرتے تھے)........اور دن میں سود پہ پیسہ دے کر خدمت خلق کیا کرتے تھے.......ایسے لوگ اب جہاں میں کہاں ملیں گے ......... تو ایک روز اس عفیفہ نے مجھے رستہ میں گزرتے ہوئے کہا، اے بھلے آدمی! مدت سے تو مجھے روزن دیوار سے دیکھا کرتا ہے..........کیوں نہ تو مستقل ہمارے گھر میں ہی منتق...

ساز و مغنٌی ........ایک مکالمہ

مغنی نے گود میں لیے ساز کے تاروں کو سرسری چھیڑا ....... منہ بسورتے طفل کی سی صدا اُن میں سے برآمد ہوئی ........گویا ناراض ہوں.....اور رخصت کے طلب گار ہوں......مغنی مسکرایا اور سوال کیا ....... م:خفا کیوں ہو......تمہارا اور میرا کیا پردہ......کیا ہوا............بولو ! س:گاہے تمہاری انگلی مجھ پہ یوں پڑتی ہے.......جیسے ہجر کے بعد وصال میسر آنے والےباہم ملیں......اور گاہے یہی انگلیاں اجنبی لگتی ہیں.....کیوں؟ م: ارے بھئی تمہارا وہم ہے ؟ س:تمہارے لیے تو میں محض تار کے چند ٹکڑوں کا مجموعہ ہوں.........آواز جس کے پہاڑ پچھم سے نکلتی اور تمہارے اُتر دکھن کو آسودہ کرتی ہے........ایک آلہ، جو بولتا ہے......ہنساتا ، رُلاتا اور رقص پہ آمادہ کرتا ہے........اوربس ....... م :ارے ارے نہیں.............تم تو سچ میں خفا ہونے لگے..........تم !............تو وہ ہو............دور والوں کوجو پاس بلاتا اور......پاس والوں کو دور لے جاتا ہے ........وادیوں، چراگاہوں، جھیلوں اور اونچی نیچی چھتوں والے مکانوں سے بہت دور ......آگے ، جہاں صرف خیال پہنچتا ہے........اُس سے بھی آگے، اُس چشمے تک......جہاں خود خی...