تعارف· ویڈیوز· رابطہ

معاتبہ نفس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ استفادہ از کلامِ امام غزالیؒ

حیف تجھ پر اے نفس؛ یومِ حساب پر گویا تیرا ایمان ہی نہیں! مر کر گویا تُو خدا کے ہاتھ سے نکل جائے گا اور یونہی چھٹکارا ہو جائے گا! کہاں بہکا پھرتا ہے!؟ یعنی تجھے پیدا کیا گیا، اتنا عرصہ تجھے پالا پوسا گیا اور تیری خدمت تواضع میں زمین آسمان کو لگا دیا گیا، اِس لئے کہ آخر میں تجھے چھوڑ دیا جائے!!!کیا تُو محض ایک گھٹیا بوند نہ تھی جو کہ بس ٹپکا دی گئی تھی؟ پھر اسی بوند سے پیدا کرلینے والی ذات نے تجھےلوتھڑانہیں بنایا؟ اور پھر اسی لوتھڑے سے ایک پورا انسان برآمد نہیں کر ڈالا؟ بس اب وہ اِس ایک بات سے عاجز ہے کہ وہ تجھے مردوں میں زندہ کھڑا کر لے!؟اگر تیرے دل کے کسی گوشے میں یہ گمان بیٹھ گیا ہے تو تیرے کفر اور تیری جہالت میں کیا شک ہے؟ پھر کیا یہ بھی کبھی غور کیا کہ تجھے اُس نے پیدا کس چیز سے کیا؟ مِن نُّطْفَةٍ خَلَقَهُ فَقَدَّرَهُ۔ ثُمَّ السَّبِيلَ يَسَّرَه۔ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ۔ ثُمَّ إِذَا شَاء أَنشَرَهُ۔ (عبس 80: 19- 22) ایک پانی کی ٹپک سے اس نے تجھے پیدا کرلیا۔ پھر آگے کے کتنے مراحل تھے جو اُس نے تیرے لئے آسان کردیے۔  پھر اُس نے تجھے موت دی اور قبر دی۔ پھر وہ جب چاہے تجھے اٹ...