جوگی نامہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خوشی محمد ناظر
جوگی نامہ کل صبح کے مطلعِ تاباں سے جب عالم بقعۂ نور ہوا سب چاند ستارے ماند ہوئے، خورشید کا نور ظہور ہوا مستانہ ہوائے گلشن تھی، جانانہ ادائے گلبن تھی ہر وادی وادیٔ ایمن تھی، ہر کوہ پہ جلوۂ طور ہوا جب بادِ صبا مضراب بنی، ہر شاخِ نہال رباب بنی شمشاد و چنار ستار ہوئے، ہر سرو و سمن طنبور ہوا سب طائر مل کر گانے لگے، مستانہ وہ تانیں اُڑانے لگے اشجار بھی وجد میں آنے لگے، گلزار بھی بزمِ سرُور ہوا سبزے نے بساط بچھائی تھی اور بزمِ نشاط سجائی تھی بن میں، گلشن میں، آنگن میں، فرشِ سنجاب و سمور ہوا تھا دل کش منظرِ باغِ جہاں اور چال صبا کی مستانہ اس حال میں ایک پہاڑی پر جا نکلا ناظر دیوانہ چیلوں نے جھنڈے گاڑے تھے، پربت پر چھاؤنی چھائی تھی تھے خیمے ڈیرے بادل کے، کُہرے نے قنات لگائی تھی یاں برف کے تودے گلتے تھے، چاندی کے فوارے چلتے تھے چشمے سیماب اگلتے تھے، نالوں نے دھوم مچائی تھی اک مست قلندر جوگی نے پربت پر ڈیرا ڈالا تھا تھی راکھ جٹا میں جوگی کی اور انگ بھبوت رمائی تھی تھا راکھ کا جوگی کا بستر اور راکھ کا پیراہن تن پر تھی ای...