تعارف· ویڈیوز· رابطہ

راشد:اپنی آگ میں جل اٹھا پرندہ

راشد کو لوگ " جنسی ناآسودہ" اور "جسم کا آدمی" کہتے ہیں اور اپنے ذہنی "تقوٰی" کی داد پاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شعرِ نو کو جنم دیتا راشد  ۔۔۔۔۔۔ انوکھے مضامین اور کھرےحرف برتنے  اور جمع  کرنے والاراشد۔۔۔۔۔۔فرد کے جسمانی و نفسانی تعلقات سے لے کر  انسانی نسلوں کو گدھوں کی مانند نوچتے ملوک کی کہانی کہتا راشد ۔۔۔۔اور خواہش کی تصویر بناتا اور مثالیے کی تڑپ کو مصور کرتا راشد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آخر کو  اپنی  ہی آگ میں جل اٹھنے والا راشد ۔۔۔۔۔ 1910ء میں راقم کے آبائی وطن علی پور چٹھہ، جسے تب اکال گڑھ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔۔۔پیدا ہوئے۔ والد  اور دادا دونوں ہی السنہ شرقیہ سے دلی لگاؤ رکھتے تھے اور انہی کی توجہ سے راشد کو ان دونو ںزبانوں  میں وہ درک حاصل ہوا کہ گورنمنٹ کالج جیسے نامی ادارے میں پہنچے اور اُس کے مؤقر مجلے  "راوی" کے مدیر بھی مقرر ہوئے ۔ بسلسلہ روزگار آل انڈیا ریڈیو سے ہوتے ہوئے اقوام متحدہ کی راہداریوں میں پہنچے اور پھر ریٹائر منٹ پا کر انگلستان میں ہی مقیم ہو گئے۔ راشد کی شاعری ایک مسلسل المیہ کا بیان ہے، گاہے جسے طربیہ سے مزین ک...

دریا کے اُس پار کیا ہے

دریا کے اُس پار کیا ہے؟؟ آج دوست مجھ سے کہنے لگے ​ تم جو بہت چرب زباں ہو ​ اور روز تمہارے بستر پہ   ​ نئی کتاب کی زلفیں پریشاں ہوتی ہیں ​ تم بولو، تو لگتا ہے ​  ادب،نقد،شعر،تصویر ​ سُر،رقص،خواب اور تعبیر ​ سب تمہارے لہجے میں ڈھلنے کو بے تاب ہوں ​ حرف اور عرفان گلے ملنے کو بے تاب ہوں ​ ​ ہماری بھی ایک مشکل حل کرو ​ یہ تو بتاؤ ​ آخر اِس محبت کا اسرار کیا ہے؟ ​ اِس دریا کے اُس پار کیا ہے؟ ​ معمہ یا بجھارت؟ ​ کرشمہ یا نعمت؟ ​ خطا یا عبادت؟ ​ اِس کی نمود کن زمینوں سے ہوتی ہے؟ ​ اور اِس کی وحی کن سینوں پہ اترتی ہے؟ ​ ​ میں جو مشہور ہوں اتنا ​ سات زبانیں بولنے میں ​ دلائل کے انبار لگانے میں ​ اورلوگوں کو نیچا دکھانے میں ​ ایک لمحے کو تو مجھے چپ سی لگی ​ مگر.......پھر میں ​ اپنی ناک بچانے اور ​ جولانی طبع دکھانے ​ کے لیے گویا ہوا ​ اور خوش بیان واعظ کی طرح لفظوں کے محل اُسارنے لگا ​ ​ میں نے کہا، دیکھو! محبت ایک پرندہ ہے ​ ہزار رنگ، ہفت خواں ​ جس شاخ پہ بھی اترتا ہے ​ اُس سے کونپل نہیں، نغمہ پھوٹتا ہے ​ او...

حوا زادی (نثری نظم)

حوا زادی   سرما کی یخ پھینکتی ہوا اور گرما کی قہر برساتی لُو روزِ ازل شاید اِن دونوں کا انتساب لڑکیوں کے نام کیا گیا تھا جنہیں دونوں میں سے ایک کی زندگی بھر مہمانی کرنا ہوتی ہے  فلک شیر