راشد:اپنی آگ میں جل اٹھا پرندہ
راشد کو لوگ " جنسی ناآسودہ" اور "جسم کا آدمی" کہتے ہیں اور اپنے ذہنی "تقوٰی" کی داد پاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شعرِ نو کو جنم دیتا راشد ۔۔۔۔۔۔ انوکھے مضامین اور کھرےحرف برتنے اور جمع کرنے والاراشد۔۔۔۔۔۔فرد کے جسمانی و نفسانی تعلقات سے لے کر انسانی نسلوں کو گدھوں کی مانند نوچتے ملوک کی کہانی کہتا راشد ۔۔۔۔اور خواہش کی تصویر بناتا اور مثالیے کی تڑپ کو مصور کرتا راشد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آخر کو اپنی ہی آگ میں جل اٹھنے والا راشد ۔۔۔۔۔ 1910ء میں راقم کے آبائی وطن علی پور چٹھہ، جسے تب اکال گڑھ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔۔۔پیدا ہوئے۔ والد اور دادا دونوں ہی السنہ شرقیہ سے دلی لگاؤ رکھتے تھے اور انہی کی توجہ سے راشد کو ان دونو ںزبانوں میں وہ درک حاصل ہوا کہ گورنمنٹ کالج جیسے نامی ادارے میں پہنچے اور اُس کے مؤقر مجلے "راوی" کے مدیر بھی مقرر ہوئے ۔ بسلسلہ روزگار آل انڈیا ریڈیو سے ہوتے ہوئے اقوام متحدہ کی راہداریوں میں پہنچے اور پھر ریٹائر منٹ پا کر انگلستان میں ہی مقیم ہو گئے۔ راشد کی شاعری ایک مسلسل المیہ کا بیان ہے، گاہے جسے طربیہ سے مزین ک...