مرد کا سوال اور عورت کا جواب تمہیں خبر بھی ہے، کہ تم نے کیسے اوپر والے کی سب مصنوعات میں سے سب سے قیمتی چیز کا سوال کر ڈالا ہے؟ عورت سے اُسی کو مانگ بیٹھے اُس کی معجزے دکھانے والی محبت چاہی اور یوں اُس سے اس کی زندگی مانگ لی ارے تم نے تو یہ بے مُول شے ایسے مانگ لی جیسے بچے کھلونا مانگتے ہیں جس کی چاہ میں دوسرے زندگیاں گنوا گئے تم نے بالکل بانکوں کی طرح لاپرواہی سے اُس کا سوال کر دیا تم نے مرد کی طرح مجھے میرا فرض یاد دلایا ہے اور مجھ سے اسی کی طرح سوالات کیے ہیں اب ذرا تم مجھ عورت کی روح کے تار پہ بیٹھو تاکہ کچھ سوال میں بھی تم سے پوچھ سکوں تم چاہو گے کہ تمہیں دسترخوان ہمیشہ دھواں دیتا ہوا ملے تمہاری جرابیں اور قمیصیں ٹھیک سے تیار ہوں اور میں تم سے کیا چاہوں گی، جانتے ہو؟ یہ کہ تمہارا دل ہمیشہ آسمان کے تاروں کی طرح سچا رہے اور روح خود آسمان کی مانند نتھری اور کھری رہے تمہیں سبزی بگھارنے کو ایک باورچی کی ضرورت ہے اور مجھے !!........... تمہیں قمیصیں پتلونیں سنبھالنے والی ایک ملازمہ کی ضرورت ہے اور مجھے اپنے لیے ایک ’مرد‘ اور شہنشاہ کی حاجت ........