تعارف· ویڈیوز· رابطہ

2017... اہداف و عزائم

نئے سال کے موقع پر اکثر لوگ اپنی ذات اور زندگی کو بہتر ڈھنگ پہ لانے کے لیے خود سے کچھ وعدے کرتے ہیں اور کچھ اہداف متعین کرتے ہیں. یہ وعدے اور اہداف ذات، صحت، تعلقات، پیشہ ورانہ ...

پاکستان، عرب اور ایران

زیر نظر واقعہ جناب مختار مسعود نے اپنی کتاب "لوح ایام" کے صفحہ انسٹھ اور ساٹھ پہ درج کیا ہے۔ کسی فرقہ وارانہ یا سیاسی مقصد کے لیے پوسٹ نہیں کیا جا رہا۔ رائے قائم کرنے کے لیے ذہن میں رہے کہ اس سے پہلے ایران بھی پینسٹھ کی جنگ میں ہماری مدد کر چکا تھا، البتہ شہنشاہ ایران کی امریکہ کے ساتھ محبت اور اندھی طاقت اور دولت کا خمار اس قدر بڑھ چکا تھا کہ ماڑے موٹے بھائی یا دوست اب اس کی ترجیح نہ رہے تھے۔گو کہ سعودی بھی امریکہ کے ساتھ تھے اور دولت بھی وہاں وافرآ رہی تھی یا کم از کم آنے والی تھی ، لیکن ان کا رویہ یکسر مختلف تھا، اسی کی نشاندہی اس واقعہ میں ہوتی ہے۔یہ تاریخی واقع ہماری خارجہ پالیسی کے سفر کی ایک جھلک  ہے ۔ تفصیلی تجزیے کے لیے بہرحال تصویر کو بڑے پس منظر میں دیکھنا ضروری ہے۔  فلک شیر جناب مختار مسعود لکھتے ہیں: "اکتوبر 1973ء میں تیل کا عالمی بحران آیا۔ قیمتوں میں جو مدت سے ایک ہی سطح پر ٹھہری ہوئی تھیں، یکایک پانچ گنا اضافہ ہو گیا۔ تیل درآمد کرنے والے ممالک زرمبادلہ کی کمی کا شکار ہو گئے اور تیل برآمد کرنے والے ممالک دیکھتے ہی دیکھتے بے حدوحساب دولت کے مال...

اوریا صاحب! کیا پنجابی ہونا قابل شرم ہے؟؟

کل ہمارے محترم شاہد اعوان صاحب نے اوریا مقبول جان صاحب کی ایک ویڈیو کی طرف توجہ دلائی، جس میں اوریا صاحب فرما رہے تھے کہ انہیں اپنے پنجابی ہونے پہ شرمندگی ہوتی ہے۔ویڈیو شئیر کرنے والے صاحب ایک لسانی جماعت کے ہمدرد تھے۔اس پہ جو پریشان سے خیالات پیش کیے ــــــــــــوہ  پیش خدمت ہیں: جن صاحب نے یہ ویڈیو شئیر کی ہے،   اسی نسل کے سید مودودی کو بالآخر نظر آیا تھا کہ اسلام کے لیے کام کرنے کے لیے جو حرارت درکار ہے، آج وہ پنجاب اور لاہور کے سوا کہیں دستیاب نہیں اور اقبال جیسا نابغہ وہیں ہے ــــــــــــ اور جس زمانے کی کہانی اوریا صاحب سنا رہے ہیں ، اس زمانے میں پنجاب میں مذہب اور دنیا کے ٹھیکیدار یہی گروہ تھے اور جن سپاہیوں نے اٹک سے چکوال اور رحیم یار خان تک انگریز کے جھنڈے تلے جان دی تھی ، انہیں یہ بتایا گیا تھا کہ انگریز عادل حاکم ہے ـــــــــــــــ روٹی سے مجبور وہ بے چارہ کسان زادہ اپنی ماں کی دعاؤں کے سائے میں انگریز بہادر کی فوج کی وردی پہن لیتا تھا ـــــــــــــــ اسے گالی دینا مجھے اچھا نہیں لگتا ـــــــــــــ آپ یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ سیاسی شعور ان میں نہیں تھا اتن...

کیہ جاناں میں کون....

نہ میں صافی ، نہ میں صوفی..... نہ میں جاناں رفض  نصب نوں نہ میں شامی ، نہ میں کوفی..... نہ میں جاناں قدر  کسب نوں نہ میں سبق فقہ دا پڑھیا........ نہ میں سانگ مذہب دا بھریا نہ میں جاناں شرق غرب نو...

کیا یہ صرف کارٹون ہیں؟؟

جب بچہ اس دنیا میں آتا ہے تو اس کی خوراک دودھ ہوتا ہے... وہ بھی کوئی عام دودھ نہیں... ایسا مخصوص قسم کی کمپوزیشن والا ہلکا اور پتلا سا دودھ جو بچے کو انرجی تو دیتا ہے مگر اس کے معدے پر بوجھ نہیں بنتا.... جیسے جیسے بچہ بڑا ہوتا جاتا ہے دودھ کی کمپوزیشن بھی بدلتی ہے... پھر آہستہ آہستہ آپ بچے کو ٹھوس غذا کی طرف لاتے ہو... پہلے بہت نرم، پھر ذرا سخت... غرض کم ازکم بچے کو اس دنیا میں موجود انواع و اقسام کے پکوان کھانے کے لئیے 4 یا 5 سال لگ جاتے ہیں... تب بھی ایک چیز پر غور کریں کہ بچہ ہر ذائقہ فورا ایکسپٹ نہیں کرتا... آہستہ آہستہ... وقت کے ساتھ ساتھ... اگر آپ بچے کو پیدائش پر ہی یا چلو ایک سال بعد کوئی انتہائی روغنی چیز مرچ مسالوں سے بھری ہوئی کوئی ایسی چیز کھلائیں گے، اور کھلاتے چلے جائیں گے تو کیا ہو گا؟ اول تو بچہ کھائے گا نہیں.... دوم، اگر کھائے گا بھی تو اس کا پیٹ خراب ہو جائے گا، طبیعت بگڑ جائے گی، معدے پر گراں گزرے گا... تین، ایسی صورت حال میں اس کی physical growth ہو پائے گی کیا؟ چار، چلو فرض کیا آپ کسی طرح قدرت کے قانون کو توڑنے میں کامیاب ہو گئے اور آپ کو دو ڈھائی سالہ بچہ انت...

صور من حیات الصحابہ اور سعید بن عامر جمحی رضی اللہ عنہ

ہمارے ننھیال کے گاؤں کی چھوٹی سی مسجد میں ایک الماری تھی... ایک دن اس میں سے پرانے مذہبی مجلے اور رسالے ڈھونڈتے ڈھونڈتے ایک عربی کتاب ہاتھ لگی.... عربی کی جو تھوڑی بہت شد بد تھی... اس ...

Dead Poets Society -------------- مجلسِ شعرائے رفتہ (ایک فلم پہ تاثرات)

Dead Poets Society ----------مجلسِ شعرائے رفتہ عزیزم عبدالسمیع ہمارے ارشد تلامذہ میں سے ہیں۔ سوال سے اُن کی محبت نے ان کے علم و معلومات کو یک رُخا نہیں رہنے دیا ۔علم کے تمام مصادر ومخارج تک رسائی کی وہ پیہم کوشش میں رہتے ہیں ۔ آج کل انجینیرنگ یونیورسٹی لاہور میں زیرِ تعلیم ہیں ۔ دو ایک روز قبل انہوں نے ایک فلم دیکھنے کی طرف توجہ دلائی اور ساتھ ہی یہ بھی ، کہ اس پہ کچھ تبصرہ بھی کروں۔ فلم کا نام “Dead Poets Society”ہے اور 1989ءمیں بنی تھی۔  فلم دیکھنا ایک مشکل کام ہے، یعنی اڑھائی تین گھنٹے جم کر بیٹھنا اور اس دوران فوکس ایک جگہ رکھنا ---الا یہ کہ کہانی اتنی جاندار اور موضوع اتنا لگ ہو،کہ آپکو باندھ لے اور ہلنے نہ دے۔ خیر -- یہ فلم ہم نے دیکھ ہی ڈالی اور ایک دفعہ ایک صفحہ لکھ لیا تھا، کہ بجلی چلی گئی اور لکھا ہوا ضائع ہو گیا ۔ عبدالسمیع سے معذرت کی ،لیکن آج دوبارہ موقع ملنے پر کچھ لکھا ہی گیا--اور وہ پیش خدمت ہے۔ فلم کے انگریزی نام کا ترجمہ ہم نے 'مجلسِ شعرائے رفتہ'کیا ہے –جو تاثر نام سے قائم ہوتا ہے، کہانی اس سے کچھ مختلف ہے ۔مرکزی موضوع، ذیلی موضوعات، پبلک سکول کی روا...

اے جذبہ دل گر میں چاہوں ــــــــــــ بہزاد لکھنوی

اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے منزل کے لیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے کشتی کو خدا پر چھوڑ بھی دے، کشتی کا خدا خود حافظ ہے مشکل تو نہیں ان موجوں میں بہتا ہوا ساحل آ جائے اے شمع! قسم پروانوں کی، اتنا تو مری خاطر کرنا اس وقت بھڑک کر گُل ہونا جب بانیِ محفل آ جائے اس جذبۂ دل کے بارے میں اک مشورہ تم سے لیتا ہوں اس وقت مجھے کیا لازم ہے جب تم پہ مرا دل آ جائے اے راہبرِ کامل! چلنے کو تیار تو ہوں بس یاد رہے اس وقت مجھے بھٹکا دینا جب سامنے منزل آ جائے اس عشق میں جاں کو کھونا ہے، ماتم کرنا ہے، رونا ہے میں جانتا ہوں جو ہونا ہے، پر کیا کروں جب دل آ جائے ہاں یاد مجھے تم کر لینا، آواز مجھے تم دے لینا اس راہِ محبت میں کوئی درپیش جو مشکل آ جائے اب کیوں ڈھونڈوں وہ چشمِ کرم، ہونے دے ستم بالائے ستم میں چاہتا ہوں اے جذبۂ غم، مشکل پسِ مشکل آ جائے اے برقِ تجلّی کیا تُو نے مجھ کو بھی موسیٰ سمجھا ہے؟ میں طُور نہیں جو جل جاؤں، جو چاہے مقابل آ جائے اے دل کی لگی! چل یونھی سہی، چلتا تو ہوں ان کی محفل میں اس وقت مجھے چونکا دینا جب رنگ ...