حوا زادی (نثری نظم) حوا زادی سرما کی یخ پھینکتی ہوا اور گرما کی قہر برساتی لُو روزِ ازل شاید اِن دونوں کا انتساب لڑکیوں کے نام کیا گیا تھا جنہیں دونوں میں سے ایک کی زندگی بھر مہمانی کرنا ہوتی ہے فلک شیر تبصرے شہرخیال6 فروری، 2014 کو 6:00 PMاحساس اوت استعاروں سے سلگتے الفاظ کو آپ نے نظم کا روپ دے کر مھتصر مگرجامع بات کو بیان کردیا ہے -جواب دیںحذف کریںجواباتفلک شیر7 فروری، 2014 کو 5:18 AMزبیر بھائی! آپ کی محبت ہے۔شکر گزار ہوں ۔۔۔۔۔ بے حدحذف کریںجواباتجواب دیںجواب دیںگمنام19 فروری، 2014 کو 6:18 AMیہ تبصرہ بلاگ کے ایک منتظم کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔جواب دیںحذف کریںجواباتجواب دیںتبصرہ شامل کریںمزید لوڈ کریں... ایک تبصرہ شائع کریں
احساس اوت استعاروں سے سلگتے الفاظ کو آپ نے نظم کا روپ دے کر مھتصر مگر
جواب دیںحذف کریںجامع بات کو بیان کردیا ہے -
زبیر بھائی! آپ کی محبت ہے۔
حذف کریںشکر گزار ہوں ۔۔۔۔۔ بے حد
یہ تبصرہ بلاگ کے ایک منتظم کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔
جواب دیںحذف کریں