جمعرات، 6 فروری، 2014

حوا زادی (نثری نظم)


حوا زادی 


سرما کی یخ پھینکتی ہوا
اور
گرما کی قہر برساتی لُو
روزِ ازل شاید
اِن دونوں کا انتساب
لڑکیوں کے نام کیا گیا تھا
جنہیں
دونوں میں سے ایک کی
زندگی بھر مہمانی کرنا ہوتی ہے 

فلک شیر


Related Posts:

  • خواب و تعبیر خواب و تعبیر**************** خواب سب دیکھتے ہیں، تعبیر بھی پاتے ہیں حسبِ قدردشمن ہونا لازم ہے، یوں ہی دوست بھی حریف سبھی بناتے ہیں اور حلیف بھی خزاں ہر زمین پہ اترتی ہے اور اس کے استقبال کو بہار ہر دفعہ موجود ہوتی ہےخریدار ہ… Read More
  • رات ****رات****درد اور درماں، دونوں کیرات ، یکساں پردہ پوشی فرماتی ہےاعلانات سے تھکی زمین کو  رات، خاموشی کی لوری سناتی ہےدھیمی دھنوں کی تال پہ رات وصال کا جال بنتی ہے فراق کے تاریک طاق میں رات دیا … Read More
  • حوا زادی (نثری نظم) حوا زادی  سرما کی یخ پھینکتی ہوا اور گرما کی قہر برساتی لُو روزِ ازل شاید اِن دونوں کا انتساب لڑکیوں کے نام کیا گیا تھا جنہیں دونوں میں سے ایک کی زندگی بھر مہمانی کرنا ہوتی ہے  فلک شیر … Read More
  • دریا کے اُس پار کیا ہے دریا کے اُس پار کیا ہے؟؟ آج دوست مجھ سے کہنے لگے​ تم جو بہت چرب زباں ہو​ اور روز تمہارے بستر پہ ​ نئی کتاب کی زلفیں پریشاں ہوتی ہیں​ تم بولو، تو لگتا ہے​  ادب،نقد،شعر،تصویر​ سُر،رقص،خواب اور تعبیر​ سب … Read More
  • نو برس ہوتے ہیں نو برس ہوتے ہیںہر کسی کے اپنے نو برس ہوتے ہیںسیرِ صحرا سے لبِ دریا تکعمر کوٹ سے بھٹ جو گوٹھ تکسسی کی پیاس سے خضر کے گھڑے تکبے انت بے سمتی سے یکسوئی کی مٹھاس تککانٹوں کے عرق سے ترتراتے پراٹھےسے....شکرگزاری کی سوکھی روٹی … Read More

3 تبصرے:

  1. احساس اوت استعاروں سے سلگتے الفاظ کو آپ نے نظم کا روپ دے کر مھتصر مگر
    جامع بات کو بیان کردیا ہے -

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. زبیر بھائی! آپ کی محبت ہے۔
      شکر گزار ہوں ۔۔۔۔۔ بے حد

      حذف کریں
  2. یہ تبصرہ بلاگ کے ایک منتظم کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔

    جواب دیںحذف کریں