تعارف· ویڈیوز· رابطہ

حمدیہ ..... نصیر ترابی

 رہا قصّۂ بیش و کم سِوا، تو خیال تیری طرف گیا کہیں بے رسَد جو ہدف ملا، تو خیال تیری طرف گیا کسی رنگ سے جو مہک اُڑی، دل الجھ گیا کسی شاخ میں کسی گُل کا رزقِ نمو کُھلا، تو خیال تیری ظرف گیا کسی چشمِ نم کے سُکوت سے کوئی حرفِ خشک چمک اُٹھا کوئی صدمہ جب ہُوا لَب کُشا، تو خیال تیری طرف گیا رُخِ صبح جب ہُوا آئینہ، سبھی غم کے عکس تھے رُوبرو ہُوا شدّتوں کا جو سامنا،تو خیال تیری طرف گیا ہُوا جبر کوئی ادَا ادَا تو عجب عجب سے گُماں ہوئے اُٹھا صبر کوئی پئے دعا، تو خیال تیری طرف گیا رہی وہ حکایتِ دل بہ دل کہ خود اپنا دھیان نہیں رہا ہوئے بے خیال سب آشنا، تو خیال تیری طرف گیا وہی روز و شب کی قیامتیں وہی آئے دن کی ضرورتیں جو ضرورتوں نے تھکا دیا، تو خیال تیری طرف گیا وہی سَو گواہیاں سُو بہ سُو، وہی کم پناہیاں کُو بہ کُو جو بہت بہت مِرا دل دُکھا، تو خیال تیری طرف گیا مرے حوصلے تھے کمال کےنہ بنے قرینے سوال کے میں کسی سے حال نہ کہ سکا، تو خیال تیری طرف گیا چلے ایسے اپنی ترنگ میں کہ گیا نہ دل تری سَمت بھی ہوئی ہر اُمید شکستہ پا، تو خیاک تیری طرف گیا نصیر ترابی

اے جذبہ دل گر میں چاہوں ــــــــــــ بہزاد لکھنوی

اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے منزل کے لیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے کشتی کو خدا پر چھوڑ بھی دے، کشتی کا خدا خود حافظ ہے مشکل تو نہیں ان موجوں میں بہتا ہوا ساحل آ جائے اے شمع! قسم پروانوں کی، اتنا تو مری خاطر کرنا اس وقت بھڑک کر گُل ہونا جب بانیِ محفل آ جائے اس جذبۂ دل کے بارے میں اک مشورہ تم سے لیتا ہوں اس وقت مجھے کیا لازم ہے جب تم پہ مرا دل آ جائے اے راہبرِ کامل! چلنے کو تیار تو ہوں بس یاد رہے اس وقت مجھے بھٹکا دینا جب سامنے منزل آ جائے اس عشق میں جاں کو کھونا ہے، ماتم کرنا ہے، رونا ہے میں جانتا ہوں جو ہونا ہے، پر کیا کروں جب دل آ جائے ہاں یاد مجھے تم کر لینا، آواز مجھے تم دے لینا اس راہِ محبت میں کوئی درپیش جو مشکل آ جائے اب کیوں ڈھونڈوں وہ چشمِ کرم، ہونے دے ستم بالائے ستم میں چاہتا ہوں اے جذبۂ غم، مشکل پسِ مشکل آ جائے اے برقِ تجلّی کیا تُو نے مجھ کو بھی موسیٰ سمجھا ہے؟ میں طُور نہیں جو جل جاؤں، جو چاہے مقابل آ جائے اے دل کی لگی! چل یونھی سہی، چلتا تو ہوں ان کی محفل میں اس وقت مجھے چونکا دینا جب رنگ ...

معاتبہ نفس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ استفادہ از کلامِ امام غزالیؒ

حیف تجھ پر اے نفس؛ یومِ حساب پر گویا تیرا ایمان ہی نہیں! مر کر گویا تُو خدا کے ہاتھ سے نکل جائے گا اور یونہی چھٹکارا ہو جائے گا! کہاں بہکا پھرتا ہے!؟ یعنی تجھے پیدا کیا گیا، اتنا عرصہ تجھے پالا پوسا گیا اور تیری خدمت تواضع میں زمین آسمان کو لگا دیا گیا، اِس لئے کہ آخر میں تجھے چھوڑ دیا جائے!!!کیا تُو محض ایک گھٹیا بوند نہ تھی جو کہ بس ٹپکا دی گئی تھی؟ پھر اسی بوند سے پیدا کرلینے والی ذات نے تجھےلوتھڑانہیں بنایا؟ اور پھر اسی لوتھڑے سے ایک پورا انسان برآمد نہیں کر ڈالا؟ بس اب وہ اِس ایک بات سے عاجز ہے کہ وہ تجھے مردوں میں زندہ کھڑا کر لے!؟اگر تیرے دل کے کسی گوشے میں یہ گمان بیٹھ گیا ہے تو تیرے کفر اور تیری جہالت میں کیا شک ہے؟ پھر کیا یہ بھی کبھی غور کیا کہ تجھے اُس نے پیدا کس چیز سے کیا؟ مِن نُّطْفَةٍ خَلَقَهُ فَقَدَّرَهُ۔ ثُمَّ السَّبِيلَ يَسَّرَه۔ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ۔ ثُمَّ إِذَا شَاء أَنشَرَهُ۔ (عبس 80: 19- 22) ایک پانی کی ٹپک سے اس نے تجھے پیدا کرلیا۔ پھر آگے کے کتنے مراحل تھے جو اُس نے تیرے لئے آسان کردیے۔  پھر اُس نے تجھے موت دی اور قبر دی۔ پھر وہ جب چاہے تجھے اٹ...

جوگی نامہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خوشی محمد ناظر

جوگی نامہ​ کل صبح کے مطلعِ تاباں سے جب عالم بقعۂ نور ہوا​ سب چاند ستارے ماند ہوئے، خورشید کا نور ظہور ہوا​ مستانہ ہوائے گلشن تھی، جانانہ ادائے گلبن تھی​ ہر وادی وادیٔ ایمن تھی، ہر کوہ پہ جلوۂ طور ہوا​ جب بادِ صبا مضراب بنی، ہر شاخِ نہال رباب بنی​ شمشاد و چنار ستار ہوئے، ہر سرو و سمن طنبور ہوا​ سب طائر مل کر گانے لگے، مستانہ وہ تانیں اُڑانے لگے​ اشجار بھی وجد میں آنے لگے، گلزار بھی بزمِ سرُور ہوا​ سبزے نے بساط بچھائی تھی اور بزمِ نشاط سجائی تھی​ بن میں، گلشن میں، آنگن میں، فرشِ سنجاب و سمور ہوا​ ​ تھا دل کش منظرِ باغِ جہاں اور چال صبا کی مستانہ​ اس حال میں ایک پہاڑی پر جا نکلا ناظر دیوانہ​ ​ چیلوں نے جھنڈے گاڑے تھے، پربت پر چھاؤنی چھائی تھی​ تھے خیمے ڈیرے بادل کے، کُہرے نے قنات لگائی تھی​ یاں برف کے تودے گلتے تھے، چاندی کے فوارے چلتے تھے​ چشمے سیماب اگلتے تھے، نالوں نے دھوم مچائی تھی​ اک مست قلندر جوگی نے پربت پر ڈیرا ڈالا تھا​ تھی راکھ جٹا میں جوگی کی اور انگ بھبوت رمائی تھی​ تھا راکھ کا جوگی کا بستر اور راکھ کا پیراہن تن پر​ تھی ای...