تعارف· ویڈیوز· رابطہ

قصہ ہشت درویش

آٹھویں درویش نے پہلے درویش سے کہا........اتنی طول طویل خرافات سُن کر سر میں درد سا ہونے لگا ہے...... پہلے مجھے اونٹ مارکہ بیڑی پلا ،کہ حواس قائم ہوں.......تاکہ پھر اپنی دلدوز داستاں سنا کر تیرے بھی سر میں درد لگا سکوں......پہلے درویش نے دوسرے درویش کی جیب سے بیڑی نکال کے پیش کی.....دو کش لگانے کے بعد یہ بزرگ یوں گویا ہوا ........... بچپن تھا.......نیرنگی زمانہ دیکھیے کہ خبر ہی نہ ہوئی اور جوانی آن ٹپکی......ایک عفیفہ کہ نام اُس کا اب ذہن میں نہیں........البتہ اس کے والد گرامی شہرکے سب بڑے کھمبوں پہ رات کو لالٹین باندھ کر ثواب دارین کمایا کرتے تھے، تاکہ اللہ کے وہ بندے جو رات کو دوسروں کے گھروں میں روزی روٹی کے سلسلہ میں نقب لگاتے ہیں ، اُن کو مشکل نہ ہو(لوگ ایویں بکواس کرتے ہیں، کہ ڈاکو ان کو باقاعدہ حصہ دیا کرتے تھے)........اور دن میں سود پہ پیسہ دے کر خدمت خلق کیا کرتے تھے.......ایسے لوگ اب جہاں میں کہاں ملیں گے ......... تو ایک روز اس عفیفہ نے مجھے رستہ میں گزرتے ہوئے کہا، اے بھلے آدمی! مدت سے تو مجھے روزن دیوار سے دیکھا کرتا ہے..........کیوں نہ تو مستقل ہمارے گھر میں ہی منتق...

ساز و مغنٌی ........ایک مکالمہ

مغنی نے گود میں لیے ساز کے تاروں کو سرسری چھیڑا ....... منہ بسورتے طفل کی سی صدا اُن میں سے برآمد ہوئی ........گویا ناراض ہوں.....اور رخصت کے طلب گار ہوں......مغنی مسکرایا اور سوال کیا ....... م:خفا کیوں ہو......تمہارا اور میرا کیا پردہ......کیا ہوا............بولو ! س:گاہے تمہاری انگلی مجھ پہ یوں پڑتی ہے.......جیسے ہجر کے بعد وصال میسر آنے والےباہم ملیں......اور گاہے یہی انگلیاں اجنبی لگتی ہیں.....کیوں؟ م: ارے بھئی تمہارا وہم ہے ؟ س:تمہارے لیے تو میں محض تار کے چند ٹکڑوں کا مجموعہ ہوں.........آواز جس کے پہاڑ پچھم سے نکلتی اور تمہارے اُتر دکھن کو آسودہ کرتی ہے........ایک آلہ، جو بولتا ہے......ہنساتا ، رُلاتا اور رقص پہ آمادہ کرتا ہے........اوربس ....... م :ارے ارے نہیں.............تم تو سچ میں خفا ہونے لگے..........تم !............تو وہ ہو............دور والوں کوجو پاس بلاتا اور......پاس والوں کو دور لے جاتا ہے ........وادیوں، چراگاہوں، جھیلوں اور اونچی نیچی چھتوں والے مکانوں سے بہت دور ......آگے ، جہاں صرف خیال پہنچتا ہے........اُس سے بھی آگے، اُس چشمے تک......جہاں خود خی...

قصہ ابو ظاہر و ابوباطن ۔۔۔۔۔۔۔۔

ابو ظاہر ابو باطن سے گویا ہوا:   " حضور قبلہ عالم! ہم بندگانِ نفس، کشتگانِ حرص و ہوس آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے ہیں ، کہ اُس آزار اور اِ ن امراض ...........دونوں کا علاج پائیں " ابو باطن نے کہا : " یا اباظاہر!! دونوں کا علاج ایک ہی ہے ..............صرف ایک " وہ کیا؟ کند ذہن ، خطا نے تیرے حواس کو مختل اور بصیرت کو مثل ایک نومولود کے کر دیا ہے .............تو ڈھونڈتا اِسے ہے اور "تلاش"اُس کی کرتا ہے.......تیری ہنسی میں خلا ہے اور گریہ محض آبِ عُجلت ..........تیرا نام صرف "نام"سے عبارت اور عبارت بس چار حرف...........ترے کلام سے سکوت بہتر اور سکوت سے بہتوں کا کلام..........تیرا قدم اُدھر اُٹھتا نہیں، جدھر کا تو ارادہ کرے .....تو جسے سننا چاہے، اُسے اذنِ گویائی کیونکر ملے........اور جنہیں تم سنتے ہو، وہ بولتے ہی کیا ہیں ،سوا شور کے.........جہات میں تم قید ہو اور ذائقے کے اسیر.......محبت کیا کرو گے کہ وحشت کے بھی حقدار نہ ہو.....لامتناہی ہونا چاہتے ہواور چوتھی کھونٹ جانے کا حوصلہ تم میں نہیں .......لفظ کو غلام کرنے کی خواہش باطل ہے اور ت...

ایک پرائمری سکول گود لیجیے

پاکستان کے مسائل سے متعلق ہم سب دن رات بحث مباحثہ بھی کرتے ہیں ، حکمرانوں کے نامناسب  رویوں ، کرپشن اور غیر ضروری اخراجات پہ ہم سب کا دل بھی کڑھتا ہے۔ روزانہ رات کو ٹی وی سکرین پہ سیاسی دنگل سجائے جاتے ہیں ، جن میں سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو خوشنما سچ ثابت کرنے کے لیے عموماً چند چرب زبان اپنی ڈیوٹی کر تے ہیں ۔فکری انتشار بھی کمال کا ہے اور لسانی و گروہی تعصبات اپنے عروج پہ۔ریاست سے ناراض گروہ اپنا ایجنڈا مسلط کرنے اور اپنے "محسنین" کا حق نمک ادا کرنے کے لیے بم پھاڑنے سے لے کر پرچم جلانے تک، جو کچھ کر سکتے ہیں ، کر رہے ہیں ۔ کچھ گروہ ہیں ، جنہیں مذہب، کہ جس پہ اس ملک کے بانیوں کو کبھی شرمندگی نہ ہوئی تھی، سے شدید شرم آتی ہے۔ اور دوسرے ہیں ، جو ایک خاص لباس اور وضع قطع کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں ۔انرجی بحران ہے، صنعت بے حال ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔اور کیا کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا کیا ایسے میں ایک عام پاکستانی کیا کرے، کہ اس کے ضمیر پہ موجود بوجھ کم ہو ، کہ وہ اگلی نسلوں کے لیے بہتر پاکستان چھوڑ کر جانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ اس سلسلہ میں مختلف لوگوں کی مختلف رائے ہو سکتی ہے ، کیونکہ ترجیحات ...

سیلاب کی دلہن ۔۔۔۔۔۔۔۔ ترجمہ Wedding in the Flood

سیلاب کی دلہن شہنائی دھنیں بکھیر رہی ہے اور باراتی واپسی کے لیے اٹھ رہے ہیں دلہن کی ماں سسکیاں بھرتی ہوئی کہتی ہے "میری رانی کو یہ لوگ ہمیشہ کے لیے لے چلے۔۔۔ ان اجنبی چہروں کے ساتھ اُس بیگانےگھر تک میری شرمیلی بچی کیسے سفر کرے گی" آج کا دن کتنا کٹھن تھا تمام دن آسمان سے پانی برستا رہا ہاں، بارات کو کھانا کھلانے کے وقت ضرور رکا تھا دلہن کو پالکی میں بٹھایا جا رہا ہے اور بوندیں پھر سے گرنے لگی ہیں شاید لڑکی برتن بہت زیادہ چاٹتی تھی دو تکڑے جوان جہیز کا سامان، جس میں ایک چارپائی،شیشہ، نیلا اور زرد رنگ کیا ہوا ایک صندوق اٹھائے چل رہے ہیں اور ان سے پیچھے چار کہار ڈولی کو کندھوں پہ اٹھائے ہیں بارات کو رخصت کرنے والے اب تو بہت پیچھے رہ چکے ہیں دلہا چوری آنکھ سے پالکی پکڑے ہوئے حنائی ہاتھ دیکھتاہے "اگر اس کا چہرہ بھی ان ہاتھوں جیسا خوبصورت ہوا اور اس نے گھر میں کوئی فساد کھڑا نہ کیا تو!!! تھوڑے جہیز کی خیر ہے جی۔۔ یہ بارش کب رکے گی بھئی؟ میری قسمت میں یہ برتن چاٹنے والی ہی لکھی تھی!!! اب ساری بات ملاح پہ ہے" پالکی میں دلہن خود سے...

یوسف کا مصر ........

الله غایتنا ..... الرسول قدوتنا...... القرآن دستورنا........ الجهاد سبيلنا ........ الموت فى سبيل الله أسمى أمانينا..........اخوان کا تو  اپنے خالق سے وعدہ ہے............موت تو ان کو بھی آنا ہے جو آج چونا گچ محلات میں چھپے ہیں............مصر کے منافقوں کو کوئی جا کے بتائے کہ اس زمین پہ کبھی فراعین بھی بسا کرتے تھے..............اور وہ آج محض عبرت بہم پہنچاتے ہیں.......... مصری فوج ،جعلی لبرل اور امریکیوں اسرائیلیوں کے پِلے منافق سیاستدان باطل کے ساتھ کھڑے ہیں .........اور وقت تو کھرے کو آسانی سے آسانی سے کھرا نہیں مانتا......کجا یہ کہ باطل کو ......... حق پہ کھڑا اکیلا آدمی بھی مثل ایک لشکر کے ہوتا ہے...........چراغ تنہا جلتا ہے اور تاریکی کا سارا قبیلہ اُس کے آگے بھاگتا ہے........ پانچ سو انتیس لوگوں کو پھانسی کا حکم دینے والی عدالت کی کرسی پہ انسان نہیں، انسان نما حیوان بیٹھے تھے۔۔۔۔۔۔۔نہیں کچھ غلط کہہ گیا میں ، جانور بھی شاید ایسا نہ سوچ سکیں ۔ موت ان کو نہیں آئی ، جو حق کی راہ میں ظالموں کے ہاتھوں مارے جا رہے ہیں............وہ تو اپنے قاتلوں کویہ کہہ کے اپنے رب ...

راشد:اپنی آگ میں جل اٹھا پرندہ

راشد کو لوگ " جنسی ناآسودہ" اور "جسم کا آدمی" کہتے ہیں اور اپنے ذہنی "تقوٰی" کی داد پاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شعرِ نو کو جنم دیتا راشد  ۔۔۔۔۔۔ انوکھے مضامین اور کھرےحرف برتنے  اور جمع  کرنے والاراشد۔۔۔۔۔۔فرد کے جسمانی و نفسانی تعلقات سے لے کر  انسانی نسلوں کو گدھوں کی مانند نوچتے ملوک کی کہانی کہتا راشد ۔۔۔۔اور خواہش کی تصویر بناتا اور مثالیے کی تڑپ کو مصور کرتا راشد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آخر کو  اپنی  ہی آگ میں جل اٹھنے والا راشد ۔۔۔۔۔ 1910ء میں راقم کے آبائی وطن علی پور چٹھہ، جسے تب اکال گڑھ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔۔۔پیدا ہوئے۔ والد  اور دادا دونوں ہی السنہ شرقیہ سے دلی لگاؤ رکھتے تھے اور انہی کی توجہ سے راشد کو ان دونو ںزبانوں  میں وہ درک حاصل ہوا کہ گورنمنٹ کالج جیسے نامی ادارے میں پہنچے اور اُس کے مؤقر مجلے  "راوی" کے مدیر بھی مقرر ہوئے ۔ بسلسلہ روزگار آل انڈیا ریڈیو سے ہوتے ہوئے اقوام متحدہ کی راہداریوں میں پہنچے اور پھر ریٹائر منٹ پا کر انگلستان میں ہی مقیم ہو گئے۔ راشد کی شاعری ایک مسلسل المیہ کا بیان ہے، گاہے جسے طربیہ سے مزین ک...