تعارف· ویڈیوز· رابطہ

الوداع سید علی گیلانی

 الوداع سید من! آپ نے جبر کے سامنے ہمیشہ سینہ ہی رکھا، پشت دیکھنے کی اسے حسرت ہی رہی آپ ہمارے قافلے کے سالاروں میں سے تھے، خود میدان میں استادہ و مقیم سالار ہر صدی میں آپ جیسی دو چار نشانیاں ایمان والوں کے سینوں میں روشنی پھر سے بھڑکانے کو ربِ ذوالجلال والاکرام عطا فرماتے ہیں ملا کی اذاں اور، مجاہد کی اذاں اور...یہ مصرعہ وادی کشمیر کے کوچوں بازاروں میں آپ کی دلیل اور جذبہ، دونوں میں گندھی للکار سن کر سمجھ آیا آپ امید ، سر تا پا امید اور توکل و تیقن کی تجسیم تھے جبر میں تو یہ تاب تھی ہی نہیں، آپ کے نفسِ گرم کا سامنا منصب و ثروت کے بل پہ کوئی منافق اور نام نہاد "اپنا" بھی نہ کر سکا لکیریں، دیواریں، سرکاریں، بندوقیں اور غلاموں کی مجبوریاں...کچھ بھی آپ کے نظریہ حیات کی طاقت و صلابت کے سامنے کھڑا نہ رہ پایا بہت سے لوگ آزادی کے اس کٹھن سفر پہ چلے تھے، کئی تھک گئے، کئی دنیا کی چکاچوند سے ہار گئے اور کئی تاویل کی زلفِ تصنع صفت کے اسیر ہو گئے... پر آپ قدیم چنار کی مانند سیدھے، اونچے اور دراز کھڑے رہے حق آپ کی زبان پہ جاری تھا اور ہمہ دم اسی کا رعب لاکھوں گنا طاقتور دشمن پہ طاری تھا پا...

خواب و تعبیر

خواب و تعبیر **************** خواب سب دیکھتے ہیں، تعبیر بھی پاتے ہیں حسبِ قدر دشمن ہونا لازم ہے، یوں ہی دوست بھی حریف سبھی بناتے ہیں اور حلیف بھی خزاں ہر زمین پہ اترتی ہے اور اس کے استقبال کو بہار ہر دفعہ موجود ہوتی ہے خریدار ہر جنس کو میسر آتا ہے، خواہ زنگ اور مٹی ہی سہی کینوس پہ پہاڑ کو دوسرے پہاڑ سے وادی الگ کرتی ہے گھاٹی کے ساتھ ہی ڈھلوان بچھی ہوتی ہے ایک اور صفر کا ساتھ ہمیشہ سے ہے اور مثل بھی تو ہے چیزیں اپنی اضداد سے پہچانی جاتی ہیں سو اپنی اضداد کا انکار اور انہیں اپنا عین کہنے پہ اصرار یہ شتر مرغ کو روا ہے، یا احمقوں کو جائز سو اے میرے گھونسلے کے ساتھیو! تم سنہری شاموں میں الگ الگ راگوں کے گیت ضرور گانا اور شبنمی صبحوں میں اپنی اپنی منفرد خوشبو ضرور ملانا مگر اس دام ہمرنگِ زمیں سے ہوشیار رہنا اپنی اصل مت بھلانا اور اندھیروں کے مقابل روشنی کے عرف پہ مصر رہنا اس خواب کو ایک قدیم بودا قول بکتے بے دیار کے چند آوارہ گرد فصیل فصیل گھومتے مردار خوروں کی خاطر تج نہ دینا میں اس آدرش میں تمہارا ساجھی ہوں جسے سودائیوں، پیادوں اور سواروں کی ایک پوری نسل نے اپنایا تھا میں تمہارا ہم خوا...

نو برس ہوتے ہیں

 نو برس ہوتے ہیں ہر کسی کے اپنے نو برس ہوتے ہیں سیرِ صحرا سے لبِ دریا تک عمر کوٹ سے بھٹ جو گوٹھ تک سسی کی پیاس سے خضر کے گھڑے تک بے انت بے سمتی سے یکسوئی کی مٹھاس تک کانٹوں کے عرق سے ترتراتے پراٹھےسے.... شکرگزاری کی سوکھی روٹی تک بے مصرف بنجر دنوں سے موتیوں جیسے لمحوں کے ڈھیر تک واقف انجانوں کی بھیڑ سے دل میں اترے اجنبیوں کی مجلس تک اور کسی بربادکوزہ گر، جو اپنے ہی کوزوں سے رنجور ہو.... کوپھر سے اپنے چاک پہ شرابور ہونے تک نو برس درکار ہوتے ہیں پر یہ نو برس ہمیشہ سو سے آٹھ زیادہ مہینوں کے نہیں ہوتے یہ نو لمحوں سے نو دہائیوں کے ہو سکتے ہیں کیونکہ نو برس ہر کسی کے اپنے ہوتے ہیں فلک شیر پس نوشت: کل ن م راشد کا یوم پیدائش تھا، راشد کی حسن کوزہ گر کا ایک تھیمیٹک حوالہ مندرجہ بالا نثری نظم میں قارئین محسوس کر سکتے ہیں، یہ تکلفاً در نہیں آیا، یہی عرض کرنا کافی سمجھتا ہوں۔

ہدیہ بر یومِ شہادت : کیپٹن کرنل شیر خان شہید ؒ

حکیم الامتؒ نے کہا تھا: سرِ خاکِ شہیدے برگہائے لالہ می پاشم کہ خونش با نہالِ مِلّتِ ما سازگار آمد “بیا تا گُل بیفشانیم و مے در ساغر اندازیم فلک را سقف بشگافیم و طرحِ دیگر اندازیم” اور "آوازِ دوست" والے مختار مسعود صاحب نے لکھا تھا : "میں نے تاریخ کی سب سے بڑی جنگ کو کئی برس بہت قریب سے دیکھا ہے۔ جتنی سیاہی جنگ کے بادلوں میں ہوتی ہے آپ اس کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔ جنگ کے اندھیرے گھپ اندھیرے ہوتے ہیں۔ لیکن جتنی تیز اور خیرہ کرنے والی سفید روشنی سخت آزمائش کے دنوں میں زندہ قوموں اور با کردار افراد کے طرزِ عمل سے پیدا ہوتی ہے آپ اس کی طرف آنکھ بھر کر بھی نہیں دیکھ سکتے۔ روشنی جب اتنی روشن ہو جائے کہ آپ اسے دیکھ بھی نہ سکیں تو اسے نور کہتے ہیں۔ ”" یہ فقیر کیا عرض کر سکتا ہے ۔۔۔آج صبح لکھا تھا: "دادا نے نام ہی کرنل شیر خان رکھا... کیپٹن اللہ کی توفیق سے خود بنے... ٹریننگ ہو یا فیصلے کا کارزار، یا عین معرکہ کا مقام... جہاں زن سے آتی آگ آر پار ہوتی ہے ــــــــــ کپتان نے اپنے دین، نام، روایت اور ان سب پہ قربان ہونے کے جذبے کو کہیں کمر ن...

آخری کھلاڑی کے لیے تالی

زندگی کے سفر میں ،جب آپ وکٹری سٹینڈ پہ نہ ہوں ،ہاتھ میں کوئی بید کی چھڑی اور چھاتی پہ تمغے نہ ہوں ،لوگ آپ کا اٹھ اٹھ کر انتظار نہ کرتے ہوں اور ناموں کی فہرستوں میں آپ کا نام آخری آخری سلاٹس پہ جگہ پائے ۔۔۔ ایسے میں آپ کی چھوٹی سی چھلانگ کے لیے تالی بجانے والے ،انگوٹھا اوپر کو اٹھا کر بیسٹ آف لک کہنے والے اور حوصلہ بڑھانے والے کم ہوتے ہیں، بہت کم ، پر یاد رہنے والے ، دل میں رہ جانے والے اور بڑے لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں ، ہمارے اردگرد تلاش کرنے پہ ایسے چند ہی لوگ ملتے ہیں ، تلاش کر کے دیکھ لیں ! آج یاد آ رہا ہے، یہ انیس صد چھیانوے کا سن تھا، علی پور چٹھہ سے میٹرک کے لیے میں حافظ آباد کے علی گڑھ پائیلٹ سکول میں تھا ، یہ استادِ گرامی قدر سلیم صاحب کا پاؤں پاؤں رکھتا نو مولود ادارہ تھا ، جس کی سب سے بڑی کشش وہ خود تھے اور ہم جیسے پردیسیوں کے لیے سب سے بڑی پریشانی ہاسٹل کی رہائش تھی ۔ قصہ کوتاہ! غالباً یومِ قائد کا موقع تھا، جناح ہال میں ضلعی سطح کا ایک پروگرام تھا، جس میں ملی نغمے اور تقاریر وغیرہ کے ضلع بھر سے بچوں کے مقابلہ جات تھے ، میں گورنمنٹ ہائی سکول علی پور چٹھہ کی طرف سے ...

میرے شہاب صاحب

شیخوپورہ میرے ننھیال کے ننھیال کا شہر ہے ، اور بعد میں اس سے مٹی کا رشتہ بھی استوار ہوا ، کہ میری بڑی بیٹی وہاں دفن ہے ۔میٹرک کے بعد گریجوایشن تک کئی سال وہاں میں نے گزارے ہیں ، بے ربط اور رستے کی تلاش میں ۔ کتاب سے تعلق ویسے تو بچپن سے تھا ، لیکن یہاں آ کر لائبریری تک رسائی ہوئی، شیخوپورہ کمپنی باغ میں بڑی وسیع لائبریری ہے ، صاف ستھری پرسکون اور نتھری نکھری سی۔ انگریز بہادر کے دور کےکمپنی باغ نے اپنی وسعتوں کے وسط میں اس جزیرے کو پھول کی مثل کھلنے کی اجازت دی ہے اور اس کے لیے میں اس کا شکرگزار ہوں ۔ عجیب بات ہے کہ میں سبزے کا عاشق ہونے کے باوجود ان دنوں لائبریری کے چہار طرف پھیلے قطعات کی طرف زیادہ متوجہ نہ ہو سکا ۔ کمپنی باغ آنا اور سیدھے لائبریری ، وہاں سے واپس جاوید سندھو صاحب کے سخت ڈسپلن والے کالج میں بھاگم دوڑ جا پہنچنا۔ خیر لائبریری سے کافی کچھ استفادہ کا موقع ملا، لیکن جس شخصیت اور ان کی کتاب کا آج تذکرہ چھیڑنے چلا ہوں ، اتفاق ایسا ہے کہ وہ لائبریری میں نہ دیکھی اور نہ ایشو کروائی ، حالانکہ لائف ممبرشپ لینے کی وجہ سے ایک ہی وقت میں متعدد کتابیں ایشو کروانا اور چند دنوں م...

کاٹالونیا کے انسانی معیار اور اعلیٰ جمالیاتی تجربات کا مابعدالطبیعاتی پہلو

(تصویر بشکریہ گارجین ویب گاہ)  اونچائی، حیرانی ،وجدان، شدت جذبات،حتی کہ حسی تلذذ کاہر انتہائی نوعیت تجربہ اپنی اصل میں مابعدالطبیعاتی ہی ہے ۔۔سپین کا ایک صوبہ ہے کاٹالونیا، جہاں کے رہائشی پچھلے کچھ عرصہ سے سپین سے علیحدگی چاہ رہے ہیں ، اپنی تہذیب اور دیگر مختلف اسباب کی وجہ سے، انہوں نے حکومت سازی بھی کی ، لیکن سپین کی حکومت نے اسے تسلیم نہیں کیا، ان کے ہاں ایک روایت ہے کہ ہزاروں لوگ ایک دوسرے کے کندھوں پہ سوار ہو کر انسانی مینار سا بناتے ہیں ، اسی سے ملتی جلتی روایت ہندوستان میں بھی ہے ۔ بچوں، عورتوں اور بڑوں کا اس حوالے سے جذباتی تعلق اور کامیابی سے مینار بنا پانے پہ خوشی کا اظہار محض ثقافت سے تعلق کی کہانی نہیں سناتا، بلکہ انسانی تجربات میں سے اعلیٰ جذبات اور تسکین کے بالاتر مصادر کا مابعدالطبیعاتی ہونا ہی بتاتا ہے ۔ اس ربط پہ اس حوالہ سے ڈاکیومینٹری دیکھی جا سکتی ہے۔