الوداع سید علی گیلانی
الوداع سید من! آپ نے جبر کے سامنے ہمیشہ سینہ ہی رکھا، پشت دیکھنے کی اسے حسرت ہی رہی آپ ہمارے قافلے کے سالاروں میں سے تھے، خود میدان میں استادہ و مقیم سالار ہر صدی میں آپ جیسی دو چار نشانیاں ایمان والوں کے سینوں میں روشنی پھر سے بھڑکانے کو ربِ ذوالجلال والاکرام عطا فرماتے ہیں ملا کی اذاں اور، مجاہد کی اذاں اور...یہ مصرعہ وادی کشمیر کے کوچوں بازاروں میں آپ کی دلیل اور جذبہ، دونوں میں گندھی للکار سن کر سمجھ آیا آپ امید ، سر تا پا امید اور توکل و تیقن کی تجسیم تھے جبر میں تو یہ تاب تھی ہی نہیں، آپ کے نفسِ گرم کا سامنا منصب و ثروت کے بل پہ کوئی منافق اور نام نہاد "اپنا" بھی نہ کر سکا لکیریں، دیواریں، سرکاریں، بندوقیں اور غلاموں کی مجبوریاں...کچھ بھی آپ کے نظریہ حیات کی طاقت و صلابت کے سامنے کھڑا نہ رہ پایا بہت سے لوگ آزادی کے اس کٹھن سفر پہ چلے تھے، کئی تھک گئے، کئی دنیا کی چکاچوند سے ہار گئے اور کئی تاویل کی زلفِ تصنع صفت کے اسیر ہو گئے... پر آپ قدیم چنار کی مانند سیدھے، اونچے اور دراز کھڑے رہے حق آپ کی زبان پہ جاری تھا اور ہمہ دم اسی کا رعب لاکھوں گنا طاقتور دشمن پہ طاری تھا پا...