جمعرات، 25 دسمبر، 2014

معاتبہ نفس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ استفادہ از کلامِ امام غزالیؒ

حیف تجھ پر اے نفس؛ یومِ حساب پر گویا تیرا ایمان ہی نہیں! مر کر گویا تُو خدا کے ہاتھ سے نکل جائے گا اور یونہی چھٹکارا ہو جائے گا! کہاں بہکا پھرتا ہے!؟ یعنی تجھے پیدا کیا گیا، اتنا عرصہ تجھے پالا پوسا گیا اور تیری خدمت تواضع میں زمین آسمان کو لگا دیا گیا، اِس لئے کہ آخر میں تجھے چھوڑ دیا جائے!!!کیا تُو محض ایک گھٹیا بوند نہ تھی جو کہ بس ٹپکا دی گئی تھی؟ پھر اسی بوند سے پیدا کرلینے والی ذات نے تجھےلوتھڑانہیں...

ہفتہ، 18 اکتوبر، 2014

غزل : جتھے تیرے پَیر او بیلی

 غزل جتھے تیرے پیر او بیلی اوتھے شالا خیر او بیلی لیڈر کردے مِٹھیاں گلّاں مینوں لگن زہر او بیلی ہووے گا کدی راوی دریا ہُن وچارا ۔۔۔ نہر او بیلی لمّے سوکے ۔۔ مارُو پانی وَنّ سَوَ نّے ۔۔ قہر او بیلی راہ میری وِچ وِچھے پینڈا نالے آکھے ۔۔۔ ٹھہر او بیلی وِچ چَناں جنے سوہنی روڑھی دل...

منگل، 23 ستمبر، 2014

جوگی نامہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خوشی محمد ناظر

جوگی نامہ​ کل صبح کے مطلعِ تاباں سے جب عالم بقعۂ نور ہوا​ سب چاند ستارے ماند ہوئے، خورشید کا نور ظہور ہوا​ مستانہ ہوائے گلشن تھی، جانانہ ادائے گلبن تھی​ ہر وادی وادیٔ ایمن تھی، ہر کوہ پہ جلوۂ طور ہوا​ جب بادِ صبا مضراب بنی، ہر شاخِ نہال رباب بنی​ شمشاد و چنار ستار ہوئے، ہر سرو و سمن طنبور ہوا​ سب طائر مل کر گانے...

مجھے جینے دے!!!

مجھے جینے دے!!! فصیلِ جاں سے ذرا اُدھر خبرگاہ سے ذرا  اِدھر ایک اور دنیا ہے اعراف والوں کی ہمہ دم طواف والوں کی کم اطراف والوں کی دنیا۔۔۔۔۔۔۔۔جس میں بجتا ہے  ایک ساتھ   تمنا کا  نقارہ اور نفس کا ساز بے چاری دنیا!!! اے حُسنِ ازل!! اس دنیا کے باسی ہزار جاں سے تجھ پہ فدا بھی  گھٹتی...

بدھ، 16 جولائی، 2014

قصہ ہشت درویش

آٹھویں درویش نے پہلے درویش سے کہا........اتنی طول طویل خرافات سُن کر سر میں درد سا ہونے لگا ہے...... پہلے مجھے اونٹ مارکہ بیڑی پلا ،کہ حواس قائم ہوں.......تاکہ پھر اپنی دلدوز داستاں سنا کر تیرے بھی سر میں درد لگا سکوں......پہلے درویش نے دوسرے درویش کی جیب سے بیڑی نکال کے پیش کی.....دو کش لگانے کے بعد یہ بزرگ یوں گویا ہوا........... بچپن...

جمعہ، 11 جولائی، 2014

ساز و مغنٌی ........ایک مکالمہ

مغنی نے گود میں لیے ساز کے تاروں کو سرسری چھیڑا ....... منہ بسورتے طفل کی سی صدا اُن میں سے برآمد ہوئی ........گویا ناراض ہوں.....اور رخصت کے طلب گار ہوں......مغنی مسکرایا اور سوال کیا ....... م:خفا کیوں ہو......تمہارا اور میرا کیا پردہ......کیا ہوا............بولو! س:گاہے تمہاری انگلی مجھ پہ یوں پڑتی ہے.......جیسے ہجر...