تعارف· ویڈیوز· رابطہ

قصہ حاجی محمد ڈوگر کا (قسط دوم)

قصہ حاجی محمد  ڈوگر کا (قسط  دوم)  چوپالوں، بیٹھکوں، ڈیروں اور اوطاقوں کے رزق میں ازل سے "قصہ"لکھ دیا گیا تھا۔قصہ، جس میں بات سے بات نکلتی ہے اور انسانی زندگیوں کے ایسے ایسے گوشے سامنے آتے ہیں ،کہ کسی کتاب میں  کہاں لکھے ہوں گے۔فی زمانہ بدلتے حالات،مقامات اور وسائل نے قصہ خوانی کے رنگ ڈھنگ اور انداز بدل کر رکھ دیے ہیں ۔ یہ قصہ جو میں بطور راوی آپ کی خدمت میں پیش کرنے جا رہا ہوں، یہ ایک استاد  اور شاگرد کی کہانی ہے ، واقعہ پہلی قسط "قصہ حاجی محمد ڈوگر ـــ ــ قسط اول" میں مذکور سیکرٹری بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن لاہور،حاجی محمد ڈوگر سے متعلق ہے، آئیے اُنہی کی زبانی سنتے ہیں : "یہ آج سے کتنے ہی برس پہلے کی بات ہے، میں بھر پور زندگی گزار رہا تھا اور کسی قسم کی پریشانی مجھے لاحق نہ تھی۔ میٹھے پھلوں کے طباق کی طرح زندگی نے اپنی تمام مٹھاس میرے سامنے لا ڈھیر کی تھی۔ ایک سرکاری تعلیمی ادارے میں پڑھانے کے ساتھ ساتھ میں سوشل سرکلز میں ایک باہمت، توانا اور مستعد آدمی کے طور پر  بھی جانا جاتا تھا۔ ا یک دن میں سو کر اٹھا، تو مجھے محسوس ہوا ،...

قصہ حاجی محمد ڈوگر کا ـــــــــــ قسط اول

قصہ حاجی محمد  ڈوگر کا ــــ(اول) کوئی دس ایک برس ہوتے ہیں ۔  شیخوپورہ میں میرے ایک محترم بزرگ سکول چلاتے تھے۔ میں تازہ تازہ ایف ایس سی کے امتحانات سے فارغ ہوا تھااور ویہلا مصروف تھا۔ ایک دن انہوں نے مجھے سکول حاضر ہونے کا حکم دیا، جو میں نے آنکھیں بند کر کے قبول فرما لیا۔ چند ایک کلاسز انہوں نے میرے ذمہ لگا دیں، جن میں چند ایک ہی بچے پڑھنے والے تھے ۔ عموماً اس نواح میں بچے پڑھائی وغیرہ کو شغل میلے کے طور پر ہی ٹریٹ کرتے ہیں اور زیادہ تراپنی "سرداری"اور "ڈوگریت "کو  ہی مونچھوں کی طرح تیل وغیرہ لگا کر چمکاتے رہتے ہیں ۔ اس لیے کلاس میں زیادہ کام کاج ہوتا نہیں تھا۔ خیر،اسی اثناء میں ایک دن دفتر بیٹھے بیٹھے پتا چلا، کہ سکول کا لاہور بورڈ سے الحاق ہونا ہے اور اسی سلسلہ میں ایک آدھ روز میں کوئی چیکنگ ٹیم وارد ہونے والی ہے۔ میری جانے بلا ـــــــــ  کہ اس طرح کی ٹیموں سے کس طرح نپٹا جاتا ہے اور ان کے کیا کیا ناز نخرے اٹھانا ضروری ہوتا ہے ۔ مجھے یہ خبر بھی نہ تھی ،کہ اس سلسلہ میں کوئی "پری پول"قسم کی ملاقات میرے رشتے کے نانا جان لاہور تعلیمی بورڈ کے سیکرٹ...

تصوف سے متعلق کچھ استفسارات ---------- جوابات درکار

بسم اللہ الرحمان الرحیم السلام علیکم! بندہ ایک عام مسلمان ہے، مدت العمر سے کچھ سوالات ذہن و قلب کو گھیرے رکھتے ہیں ،مختلف متون و شروح ان اشکالات کو رفع کرنے کے لیے پڑھنے کی کوشش کرتا رہا ہوں۔لیکن سچ جانیے، تو اطمینان قلبی نصیب نہیں ہو سکا۔ اس عدم اطمینان کی ایک وجہ تو مجھے معلوم ہے، وہ ہے گناہوں کا پہاڑ سا بوجھ اور دوسری یقیناً کم علمی ۔ بہر حال اس ضمن میں آپ کے درِ دولت سے امید ہے، کہ شافی و کافی جواب مرحمت فرمائیں گے۔ بعد اس مختصر تمہید کے، عرض ہے، کہ بندہ نے "قرآن و سنت کی اطاعت و فرماں برداری "اور "تمسک بالکتاب والسنۃ"کے علمی و فکری ماحول میں پرورش پائی ہے ۔گو کہ اب تک اپنی کوتاہ عملی اور اکثر اوقات سیہ کاریوں کے سبب آقا و مولا سیدنا محمدﷺ فداہ روحی و جسدی وابی وامی ،کے رستہ پہ چل نہیں پایا ہوں، لیکن آنے والے دنوں میں اللہ تعالیٰ سے امیدوار ہوں کہ وہ مجھے اس رستہ پہ چلا دے۔ وما ذالک علی اللہ بعزیز۔ چند سوالات ذیل میں درج ہوں اور اس امید ، بلکہ یقین کے ساتھ درج ہیں ، کہ آپ قرآن و سنت کی روشنی میں ٹھیک ٹھیک جواب ارشاد فرمائیں گے اور حق کو حق...

صبح و شام کے مسنون اذکار

صبح  و شام کے  مسنون اذکار (1) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:جو شخص صبح کے وقت آیۃ الکرسی پڑھےوہ شام تک جنوں سے محفوظ ہو جاتا ہے،اورجو اسے شام کے وقت پڑھےوہ صبح تک ان شےمحفوظ ہوجاتاہے (النسائی،وصححہ الالبانی فی صحیح الترغیب:658) اَللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الحَيُّ القَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ  إِلَّا بِإِذْنِهِ  يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ  وَلَا يَئُودُهُ  حِفْظُهُمَا وَهُوَ العَلِيُّ العَظِيمُ]  {البقرة:255} (2) جو شخص صبح وشام مندرجہ ذیل سورتیں ـــــــــ تین تین مرتبہ پڑھےگاتو یہ اُسے  ہر چیز سے کافی ہوجائیں گی۔   (صحيح الترمذي 3/182) سورۃ الاخلاص ( قُل هُوَ اللهُ أَحَدٌ ) ______ سورۃ الفلق ( قُل أَعُوذُ بِرَبِّ الفَلَقِ ) _____ سورۃ الناس ...

ازل سے ابد تک کا سفر اور میں

کوئی سال پہلے میں چھٹیوں میں گاؤں تھا، ڈیرے پر ہم چند ایک لوگ بیٹھے تھے، گاؤں کے ایک بزرگ"میرزادے" یعنی میراثی(بطور تضحیک نہیں لکھ رہا)تشریف لائے ۔ بعد از سلام دعا، میں نے عرض کیا ، چا چا جی، شجرہ تو سنا دیں ایک دفعہ ہمارا۔ بزرگوں نے حقے کی نے سے لمبا کش لگایا اور دھویں کا مرغولہ بطرف آسمان چھوڑ کر گویا ہوئے ۔ فلک شیر چیمہ ولد فیاض الرحمان چیمہ ولد احسان اللہ چیمہ ولد سردار احمد چیمہ ولد فیض اللہ چیمہ ولد سردار جگت سنگھ چیمہ ولد سردار دلجیت سنگھ چیمہ ۔۔۔۔اور اس کے بعد اک لمبی فہرست پرکھوں کی ۔۔  آج میں بیٹھا سوچ رہا تھا، کہ کن کن زمینوں سے ہم اگتے ہیں اور کن پشتوں میں چھپے رہتے ہیں ہزاروں سال ۔۔۔عقائد کی ایک فہرست ہے، بلاواسطہ یا بالواسطہ جن سے ہم متعلق رہے ہیں۔۔۔کن کن رنگوں میں ۔۔۔۔کہاں کہاں کی ہواؤں میں ۔۔۔کہاں کہاں کی بہاروں خزاؤں میں میرا حصہ آج بھی ہے اور کب تک رہے گا ۔۔۔ایسے لگتا ہے ، اربوں حصے ہیں میرے ازل سے ابد تک ۔۔۔۔یا شاید اتنے کہ ان کا شمار ممکن ہی نہیں کون ہے، جو اُن سب زمانوں،زمینوں، پانیوں،خشکیوں، فضاؤں،بہاروں، خزاؤں،خوابوں،حقیقتوں اور سرابوں میں میرے سات...

معاتبہ نفس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ استفادہ از کلامِ امام غزالیؒ

حیف تجھ پر اے نفس؛ یومِ حساب پر گویا تیرا ایمان ہی نہیں! مر کر گویا تُو خدا کے ہاتھ سے نکل جائے گا اور یونہی چھٹکارا ہو جائے گا! کہاں بہکا پھرتا ہے!؟ یعنی تجھے پیدا کیا گیا، اتنا عرصہ تجھے پالا پوسا گیا اور تیری خدمت تواضع میں زمین آسمان کو لگا دیا گیا، اِس لئے کہ آخر میں تجھے چھوڑ دیا جائے!!!کیا تُو محض ایک گھٹیا بوند نہ تھی جو کہ بس ٹپکا دی گئی تھی؟ پھر اسی بوند سے پیدا کرلینے والی ذات نے تجھےلوتھڑانہیں بنایا؟ اور پھر اسی لوتھڑے سے ایک پورا انسان برآمد نہیں کر ڈالا؟ بس اب وہ اِس ایک بات سے عاجز ہے کہ وہ تجھے مردوں میں زندہ کھڑا کر لے!؟اگر تیرے دل کے کسی گوشے میں یہ گمان بیٹھ گیا ہے تو تیرے کفر اور تیری جہالت میں کیا شک ہے؟ پھر کیا یہ بھی کبھی غور کیا کہ تجھے اُس نے پیدا کس چیز سے کیا؟ مِن نُّطْفَةٍ خَلَقَهُ فَقَدَّرَهُ۔ ثُمَّ السَّبِيلَ يَسَّرَه۔ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ۔ ثُمَّ إِذَا شَاء أَنشَرَهُ۔ (عبس 80: 19- 22) ایک پانی کی ٹپک سے اس نے تجھے پیدا کرلیا۔ پھر آگے کے کتنے مراحل تھے جو اُس نے تیرے لئے آسان کردیے۔  پھر اُس نے تجھے موت دی اور قبر دی۔ پھر وہ جب چاہے تجھے اٹ...

غزل : جتھے تیرے پَیر او بیلی

 غزل جتھے تیرے پیر او بیلی اوتھے شالا خیر او بیلی لیڈر کردے مِٹھیاں گلّاں مینوں لگن زہر او بیلی ہووے گا کدی راوی دریا ہُن وچارا ۔۔۔ نہر او بیلی لمّے سوکے ۔۔ مارُو پانی وَنّ سَوَ نّے ۔۔ قہر او بیلی راہ میری وِچ وِچھے پینڈا نالے آکھے ۔۔۔ ٹھہر او بیلی وِچ چَناں جنے سوہنی روڑھی دل وچ اُٹھی ، لہر او بیلی شیراں دے ہُن ہرن شکاری جنگل ہویا ۔۔ شہر او بیلی فلک شیر