تعارف· ویڈیوز· رابطہ

صبح و شام کے مسنون اذکار

صبح  و شام کے  مسنون اذکار (1) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:جو شخص صبح کے وقت آیۃ الکرسی پڑھےوہ شام تک جنوں سے محفوظ ہو جاتا ہے،اورجو اسے شام کے وقت پڑھےوہ صبح تک ان شےمحفوظ ہوجاتاہے (النسائی،وصححہ الالبانی فی صحیح الترغیب:658) اَللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الحَيُّ القَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ  إِلَّا بِإِذْنِهِ  يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ  وَلَا يَئُودُهُ  حِفْظُهُمَا وَهُوَ العَلِيُّ العَظِيمُ]  {البقرة:255} (2) جو شخص صبح وشام مندرجہ ذیل سورتیں ـــــــــ تین تین مرتبہ پڑھےگاتو یہ اُسے  ہر چیز سے کافی ہوجائیں گی۔   (صحيح الترمذي 3/182) سورۃ الاخلاص ( قُل هُوَ اللهُ أَحَدٌ ) ______ سورۃ الفلق ( قُل أَعُوذُ بِرَبِّ الفَلَقِ ) _____ سورۃ الناس ...

ازل سے ابد تک کا سفر اور میں

کوئی سال پہلے میں چھٹیوں میں گاؤں تھا، ڈیرے پر ہم چند ایک لوگ بیٹھے تھے، گاؤں کے ایک بزرگ"میرزادے" یعنی میراثی(بطور تضحیک نہیں لکھ رہا)تشریف لائے ۔ بعد از سلام دعا، میں نے عرض کیا ، چا چا جی، شجرہ تو سنا دیں ایک دفعہ ہمارا۔ بزرگوں نے حقے کی نے سے لمبا کش لگایا اور دھویں کا مرغولہ بطرف آسمان چھوڑ کر گویا ہوئے ۔ فلک شیر چیمہ ولد فیاض الرحمان چیمہ ولد احسان اللہ چیمہ ولد سردار احمد چیمہ ولد فیض اللہ چیمہ ولد سردار جگت سنگھ چیمہ ولد سردار دلجیت سنگھ چیمہ ۔۔۔۔اور اس کے بعد اک لمبی فہرست پرکھوں کی ۔۔  آج میں بیٹھا سوچ رہا تھا، کہ کن کن زمینوں سے ہم اگتے ہیں اور کن پشتوں میں چھپے رہتے ہیں ہزاروں سال ۔۔۔عقائد کی ایک فہرست ہے، بلاواسطہ یا بالواسطہ جن سے ہم متعلق رہے ہیں۔۔۔کن کن رنگوں میں ۔۔۔۔کہاں کہاں کی ہواؤں میں ۔۔۔کہاں کہاں کی بہاروں خزاؤں میں میرا حصہ آج بھی ہے اور کب تک رہے گا ۔۔۔ایسے لگتا ہے ، اربوں حصے ہیں میرے ازل سے ابد تک ۔۔۔۔یا شاید اتنے کہ ان کا شمار ممکن ہی نہیں کون ہے، جو اُن سب زمانوں،زمینوں، پانیوں،خشکیوں، فضاؤں،بہاروں، خزاؤں،خوابوں،حقیقتوں اور سرابوں میں میرے سات...

معاتبہ نفس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ استفادہ از کلامِ امام غزالیؒ

حیف تجھ پر اے نفس؛ یومِ حساب پر گویا تیرا ایمان ہی نہیں! مر کر گویا تُو خدا کے ہاتھ سے نکل جائے گا اور یونہی چھٹکارا ہو جائے گا! کہاں بہکا پھرتا ہے!؟ یعنی تجھے پیدا کیا گیا، اتنا عرصہ تجھے پالا پوسا گیا اور تیری خدمت تواضع میں زمین آسمان کو لگا دیا گیا، اِس لئے کہ آخر میں تجھے چھوڑ دیا جائے!!!کیا تُو محض ایک گھٹیا بوند نہ تھی جو کہ بس ٹپکا دی گئی تھی؟ پھر اسی بوند سے پیدا کرلینے والی ذات نے تجھےلوتھڑانہیں بنایا؟ اور پھر اسی لوتھڑے سے ایک پورا انسان برآمد نہیں کر ڈالا؟ بس اب وہ اِس ایک بات سے عاجز ہے کہ وہ تجھے مردوں میں زندہ کھڑا کر لے!؟اگر تیرے دل کے کسی گوشے میں یہ گمان بیٹھ گیا ہے تو تیرے کفر اور تیری جہالت میں کیا شک ہے؟ پھر کیا یہ بھی کبھی غور کیا کہ تجھے اُس نے پیدا کس چیز سے کیا؟ مِن نُّطْفَةٍ خَلَقَهُ فَقَدَّرَهُ۔ ثُمَّ السَّبِيلَ يَسَّرَه۔ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ۔ ثُمَّ إِذَا شَاء أَنشَرَهُ۔ (عبس 80: 19- 22) ایک پانی کی ٹپک سے اس نے تجھے پیدا کرلیا۔ پھر آگے کے کتنے مراحل تھے جو اُس نے تیرے لئے آسان کردیے۔  پھر اُس نے تجھے موت دی اور قبر دی۔ پھر وہ جب چاہے تجھے اٹ...

غزل : جتھے تیرے پَیر او بیلی

 غزل جتھے تیرے پیر او بیلی اوتھے شالا خیر او بیلی لیڈر کردے مِٹھیاں گلّاں مینوں لگن زہر او بیلی ہووے گا کدی راوی دریا ہُن وچارا ۔۔۔ نہر او بیلی لمّے سوکے ۔۔ مارُو پانی وَنّ سَوَ نّے ۔۔ قہر او بیلی راہ میری وِچ وِچھے پینڈا نالے آکھے ۔۔۔ ٹھہر او بیلی وِچ چَناں جنے سوہنی روڑھی دل وچ اُٹھی ، لہر او بیلی شیراں دے ہُن ہرن شکاری جنگل ہویا ۔۔ شہر او بیلی فلک شیر

جوگی نامہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خوشی محمد ناظر

جوگی نامہ​ کل صبح کے مطلعِ تاباں سے جب عالم بقعۂ نور ہوا​ سب چاند ستارے ماند ہوئے، خورشید کا نور ظہور ہوا​ مستانہ ہوائے گلشن تھی، جانانہ ادائے گلبن تھی​ ہر وادی وادیٔ ایمن تھی، ہر کوہ پہ جلوۂ طور ہوا​ جب بادِ صبا مضراب بنی، ہر شاخِ نہال رباب بنی​ شمشاد و چنار ستار ہوئے، ہر سرو و سمن طنبور ہوا​ سب طائر مل کر گانے لگے، مستانہ وہ تانیں اُڑانے لگے​ اشجار بھی وجد میں آنے لگے، گلزار بھی بزمِ سرُور ہوا​ سبزے نے بساط بچھائی تھی اور بزمِ نشاط سجائی تھی​ بن میں، گلشن میں، آنگن میں، فرشِ سنجاب و سمور ہوا​ ​ تھا دل کش منظرِ باغِ جہاں اور چال صبا کی مستانہ​ اس حال میں ایک پہاڑی پر جا نکلا ناظر دیوانہ​ ​ چیلوں نے جھنڈے گاڑے تھے، پربت پر چھاؤنی چھائی تھی​ تھے خیمے ڈیرے بادل کے، کُہرے نے قنات لگائی تھی​ یاں برف کے تودے گلتے تھے، چاندی کے فوارے چلتے تھے​ چشمے سیماب اگلتے تھے، نالوں نے دھوم مچائی تھی​ اک مست قلندر جوگی نے پربت پر ڈیرا ڈالا تھا​ تھی راکھ جٹا میں جوگی کی اور انگ بھبوت رمائی تھی​ تھا راکھ کا جوگی کا بستر اور راکھ کا پیراہن تن پر​ تھی ای...

مجھے جینے دے!!!

مجھے جینے دے!!! فصیلِ جاں سے ذرا اُدھر خبرگاہ سے ذرا  اِدھر ایک اور دنیا ہے اعراف والوں کی ہمہ دم طواف والوں کی کم اطراف والوں کی دنیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ جس میں بجتا ہے  ایک ساتھ   تمنا کا  نقارہ اور نفس کا ساز بے چاری دنیا!!! اے حُسنِ ازل!! اس دنیا کے باسی ہزار جاں سے تجھ پہ فدا بھی  گھٹتی ہوئی  اک صدا بھی تیرے ساتھ بھی، آس پاس بھی اور تجھ سے دور بھی۔۔۔ تیرے لشکر کے ہراول بھی اُس کے رستے میں  سرِ راہ بیٹھے مسافر بھی وہ چاہیں۔۔۔اے حسنِ ازل! کہ خود کو۔۔۔تجھ پہ دان کریں اپنے جسم و جاں سے تیرے اسم گرامی کا اعلان کریں جو کچھ ہے۔۔۔۔اُن کے پاس سب۔۔۔سب تیرے نام کریں ہاں یاد آیا ۔۔۔۔۔کبھی کبھی ایک خیال کا آسیب انہیں آن لیتا ہے کہ تو! اے حسنِ ہرطرف۔۔۔۔تو!!! اُنہیں اپنے سایوں سے بات کرنے دے اُن کے ساتھ بھی کبھی دن رات کرنے دے خود اپنے ساتھ بھی کبھی ملاقات کرنے دے الگ جزیرے بسانے دے اپنی دنیا آپ سجانے دے جِن سے اُنہیں اُنس ہے صرف انہی سے  ایک ہو جانے دے خداوند!۔۔۔۔بس...