
****رات****درد اور درماں، دونوں کیرات ، یکساں پردہ پوشی فرماتی ہےاعلانات سے تھکی زمین کو رات، خاموشی کی لوری سناتی ہےدھیمی دھنوں کی تال پہ رات وصال کا جال بنتی ہے فراق کے تاریک طاق میں رات دیا بن کر جلتی ہےصحرا کے تپتے دن پہ رات ٹھنڈی میٹھی پلکیں جھپکتی ہےسکے جمع کرتے ہاتھوں اور کلید...