جمعہ، 14 اگست، 2015

بدلتی ہوئی دنیا میں مسجد کا کردار ــــــــــــــــــــچند معروضات (قسط دوم)

آئیے ، تھوڑے سے شرو ع کریں:
 قدم اٹھانے والے سے آسمان والے کا دعوا ہے ـــــــــــــکہ رستے ہم سجھائیں گے ــــــاور آسان بھی کریں گے۔ طریقِ نبویﷺ کی پیروی کےساتھ ــــــــتخلیقیقت اور فطرت سلیم اس سلسلہ میں آپ کی انتہائی  مددگار ہوں گی۔سوچیے ــــــــــــــاوپر کے نکات اور ہماری ذمہ داریوں کے بارے میں خوب سوچیے ـــــــرستے رزق میں ملیں گے اور چلنا آسان تر ہو گا۔
یہاں ہم  ایسے چند اقدامات کا تذکرہ کریں گےـــــــ جو اس سلسلہ میں اہل مسجد کو اپنا کردار ادا کرنے میں تیار کریں گے اور مواقع پیدا کریں گے۔ان میں سے کچھ چیزیں مختلف اہل علم نے اپنے مقالہ جات اور نصائح میں ذکر کی ہیں ــــــاور ـــــکچھ ہم عرض کر رہے ہیں ۔
·       مسجد اللہ کا گھر ــــــاس کے کلام کی تدریس و تشہیر کا مرکزــــــاوپر سے دیکھ کر پڑھنا، حفظ کا اہتمام ــــترجمہ کی تدریس و تفہیم (مکمل نہیں ـــــتو منتخب نصاب کی)ـــــ حفظ و تفسیر اور ترجمہ و معلومات کے مقابلہ جات ــــیہ سب مسجد کا طرہ امتیاز ہونا چاہیے ـــــــاہل مسجد کو سوچنا چاہیے ، کہ لوگ اپنے نونہالوں کو اوپر بیان کیے گئے کاموں کے لیے مسجد میں بھیجنے کے بجائے "قاری صاحب" سے گھر ہی میں کیوں پڑھوانے لگے ؟
کیا اس محرومی ـــــــــظاہر ہے کمیونٹی کی ــــ
ــکا کوئی تجزیہ اور تدارک ـــــاہل مسجد نے فرمانے کی کوشش کی؟ـــــــــــــــــــنہیں کی، تو یہ کرنے کا وقت ہے ـــــاور مسجد کے ذمہ اہم ترین کاموں میں سے سر فہرست بھی۔اس میں ناکامی سے آپ نہ صرف اپنے ہاتھ سے ایک مؤثر ترین ہتھیار خود ہی نیچے رکھ دیں گے ـــــ بلکہ قرآن کو خدانخواستہ "ٹیوشن"لی گئی کتب میں سے ایک کا درجہ نوجوان کے ذہن میں بٹھا دیں گے ــــاوور ظاہر ہے ، اس کا کوئی سدباب کل آپ نہ کر پائیں گے، جب وہ نوجوان معاشرے کے عملی دھاروں میں سے کسی ایک میں کچھ کر گزرنے کی پوزیشن میں ہو گا۔
قرآن سے محبت پیدا کرنا مسجد کا ایک بنیادی وظیفہ ہے ــــــــکیونکہ معلومات کے اس سیلاب میں اگر آپ نوجوان کو "الکتاب"سے آشنا نہ کروائیں گے ـــــتو کل اس سے توقعات باندھنا ایک لایعنی امر ہو گا ـــــاسلاف اسی لیے تو  فرمایا کرتے تھے :
"تم اپنے بچوں کو قرآن سکھا دوــــــــــــــــــقرآن انہیں سب کچھ سکھا دے گا"
ایک زندہ کتاب سے ایک زندہ ترتعلق ــــــــــــــــــــــ اے اہل مسجد !!
ایک زندہ تر تعلق!!
تو اے میرے عزیز اہل مسجد!
چند بنیادی چیزوں پہ نظر دوڑا لیں ؟
1.     مساجد میں متعین قراء کرام اور ائمہ حضرات کا طالب علموں سے تعلق خوف کا ہے یا محبت کا ــــــ یا ان دونوں کے درمیان درمیان کسی جذبے کا ــــــــــ یا پھر خدا نہ کرے ــــــوہی جو ـــــایک "استاد" کا کسی "چھوٹے"سے ہوتا ہے ۔
2.     قرآنی عربی پڑھانے کے لیے ہماری مہارت اور طریقہ کار ــــــــــــ آج کے طالب علم کے دیگر زبانیں سیکھنے کے طریقہ سے کچھ میل کھاتا ہے؟
اگر نہیں ، تو کیا ہمیں اس سلسلہ میں لسانی مہارتوں اور دیگر معاونات کا استعمال کرنے کی طرف کچھ توجہ کرنے کی ضرورت ہے؟
3.     ایک عجمی کے دل میں قرآن کی محبت کیسے پیدا کی جائے ـــــــــــــــشاید مضامین قرآن کی دلچسپ طریقہ سے پیش کاری (متعدد تحریری ،زبانی اور تکنیکی ذرائع سے)اس کا ایک ذریعہ ہےـــــــــــتو اس کی طرف کچھ توجہ کی جائے۔دیگر اہل علم سے اس ضمن میں تفصیل سے کلام کی درخواست کر رہا ہوں ۔
4.     اوامر و نواہی کی تلخیص کر کے ابتدائی عمر ہی میں ذہن نشین اور بڑھتی عمر کے ساتھ دل نشین کروانے کی کوشش کی جائے۔
یہ محض چند نکات برائے انگیخت ہیں ـــــــــــتاکہ اس سلسلہ میں دیگر اہل علم اپنے تجربات اور علم کی روشنی میں عملی اقدامات و تجاویز سامنے لائیں۔
·       خطباتِ جمعہ اور وعظ و تذکیر کے لیے مقرر کیے گئے حضرات محض "بولنے"کی صلاحیت سے آگے بڑھ کر قیادت کی صلاحیت سے بہرہ ور ہوں ــــــــــــــاس سلسلہ میں اہل مساجد کو انتخاب خوب سوچ سمجھ کر فرمانا چاہیے۔ بہت سی جگہوں پہ دیکھا گیا ہے ، کہ خطیب کے انتخاب میں جس چیز کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے ، وہ خطابت کا جوہر ہوتا ہے ـــــــــــــــــشک نہیں، کہ یہ بھی اہم ہے، لیکن بات یہ ہے کہ اہم تر چیز تدین، علمی رسوخ ، قدیم و جدید پہ کسی حد تک یکساں نظر، فی زمانہ الحاد و تشکیک کے فتنوں سے نمٹنے اور ان کی ناکہ بندی کی استعداد، دین کو بطور ایک کُل عوام کو سمجھانے اور عمل کے ڈھانچے میں ڈھالنے کی جہد و صلاحیت ـــــ
آپ کا کہنا بجاــــکہ ایسے افراد کہاں سے لائے جائیں ـــــتو ہم اوپر عرض کر چکے ہیں ، کہ جب ہم اہل مسجد کو مخاطب کرتے ہیں ـــــتو اس میں کچھ دیگر گروہ اور افراد بھی آ تے ہیں ــــــجو یقیناً اس سب کو کرنے کی خاطر خواہ صلاحیت رکھتے ہیں ــــــدعا ہے، کہ خواہش بھی پیدا ہو جائے ۔
·       دینی اجتماعات (محافل قراءت،مجالسِ نعت نبویﷺ، دروس قرآن و حدیث، تفہیم مسائل )کے انعقاد کے سلسلہ میں بے شک مساجد ایک اہم مرکز ہیں ــــــاور کسی نہ کسی شکل میں اپنا کردار ادا بھی کرتی ہیں ۔ کوشش البتہ یہاں بھی ہونا چاہیے، کہ روایتی طریقوں سے ہٹ کر ایسے غیر روایتی پروگرام بھی ترتیب دیے جائیں، جو اپنی شباہت و ترتیب میں بے شک خالصتاً مذہبی نہ ہوں ــــــــــکتب کی نمائش اس کی ایک مثال ہے، جو مسجد کے روایتی تصور سے آگے بڑھ کر نمازی کے علاوہ "کتاب دوست"حلقوں کو آپ کے قریب کرنے میں معاون ہو سکتی ہے ۔ ذرا ذہن پہ زور دیجیے ــــــــــــــــیہیں بیٹھے بیٹھے ایسے کتنے ہی اجتماعات کے خاکے آپ کے ذہن میں ابھرنے لگے ہیں ۔
·       خواتین ـــــــــمعاشرے کا وہ محترم طبقہ ہیں ، جو "ہمسایوں"اور سات سمندر پار کے"محسنوں"کے ثقافت اور آزادی کے نام پہ پھینکے گئے دل کش جال کی اسیرہو چکی ہیں ــــــــــــگو میں انہیں اس سلسلے کا اولین مجرم نہیں ٹھہراتا ـــــــتو اے میرے محترم اہل مسجد!
ان کی اس قید سے رہائی کا کل سامان جو ہم کر چکے ہیں
ـــــوہ کیا ہے؟
 سالانہ بنیادوں پہ رمضان کے چند دروس ــــــــمیلاد کی مروجہ محافلــــــنصیحت کے لیے چھپنے والے  چند مجلاتــــبس ـــــــبس؟؟
ذرا دل تھام کر مجھے جواب دیجیے ـــــــجن  گودوں میں "مسلم"اور"مسلمین"کی پرورش ہو رہی ہوـــــاُن کو اس بے خدا تہذیب اور طرزِ حیات سے خبردار کر  کے راہِ حق کا مسافر بننے پہ قائل کرنے کے لیے اتنا کچھ کافی ہے؟؟
یقیناً نہیں ــــــــــــــتو چلیے اتنے سے شروع کرتے ہیں
1.     خواتین کی صحت کے حوالہ سے ہلکے پھلکے معلوماتی طبی پروگرامات اور کیمپس
2.     بچیوں ، بالخصوص نوعمر سکول کالج جانے والی بچیوں کے لیے ذہنی پختگی کا سامان ـــــــ مختصر قرآنی دورہ جات، فقہ و حدیث اور خواتین کے مخصوص مسائل کے حوالہ سے ان کی رہنمائی ،زناو نکاح کے فرق اور اس طرف رغبت دلانے والے عوامل کے نعم البدل کی فراہمی ــــــــــــ کرنے کے بنیادی کام ہیں ــــــــــکچھ اس طرف متوجہ ہونے کی ضرورت ہے اہل مسجد کو ایک سے ایک نئے ڈھنگ اور معاشرے کو مقبول ایسے انداز اختیار کرنے کی بھی، جو شرع سے ٹکراتے نہ ہوں ۔
3.     معاشرہ کو درکار مختلف پیشوں میں جن خواتین کی ضرورت ہے ــــــــــــــــوہ مطیع اور مسلم خواتین ہوں ، اس کا بندوبست میڈیا اور جدید تعلیم کے مراکز تو ہر گز نہ کریں گے ــــــــیہ تو ہے ہی اہل مسجد کا "مسئلہ"!!
تو کیا وہ اپنی بچیوں کو خود سے دنیاوی تعلیم کے ان شعبوں میں آگے بڑھانے کے لیے کچھ کدوکاوش فرماتے ہیں ـــــــــــــــــ اگر جواب نہیں میں ہے، تو اہل مسجد کو اب جاگ جانا چاہیے ۔
4.     "ماں " بننے کی سعادت حاصل کرنا بچیوں کے لیے نیا تجربہ ہوتا ہے ـــــــــــ اس حوالہ سے انہیں جدید خاندانی مسائل ، اسلام کو عورت سے مطلوب رویوں اور عام روزمرہ کے گھریلو کام کاج کو منظم انداز میں کرنے سمیٹنے کے حوالہ سے تربیت ــــــــــــــــــ کچھ توجہ اس طرف بھی دی جا سکتی ہے۔

اسی طرح مسجد اور معاشرے کے دیگر طبقات کے حوالہ سے مزید معروضات رفتہ رفتہ ہم یہاں پیش کرتے رہیں گے ان شاءاللہ

31 تبصرے:

  1. // آپ کا کہنا بجاــــکہ ایسے افراد کہاں سے لائے جائیں ـــــتو ہم اوپر عرض کر چکے ہیں ، کہ جب ہم اہل مسجد کو مخاطب کرتے ہیں ـــــتو اس میں کچھ دیگر گروہ اور افراد بھی آ تے ہیں ــــــجو یقیناً اس سب کو کرنے کی خاطر خواہ صلاحیت رکھتے ہیں ــــــدعا ہے، کہ خواہش بھی پیدا ہو جائے ۔//
    '
    یہ تمام افراد ، ہمارے معاشرے میں ہمارے ہی ارد گرد پھرتے ہیں ۔ بس انہیں اِن کی اولاد کے اعمال کی روشنی میں اِن کو پہچاننا ہے ۔
    '
    یاد رہے کہ جو والدین اپنی اولاد کی تربیت نہیں کر سکتے وہ دوسروں کی اولاد کی تربیت کیسے کر سکتے ہیں ؟

    جواب دیںحذف کریں
  2. حضرت۔۔۔ ! بہت مزہ آیا پڑھ کے،، سیکھنے کو بھی ملا۔۔۔ جملے بھی ملے۔۔۔ اور قرآن کی اہمیت کا بھی اندازہ ہوا لیکن قرآن کی ٹیوشن ختم کرنے کی کوئی راہ سجھا تو آپ بھلا ہو گا۔ میں تو چاہتا ہوں میرے بچے مساجد میں جائیں قرآن پڑھیں، دین سکیھں اور اچھے انسان بنیں لیکن ۔۔۔۔ سمجھ نہیں آرہا یہ کیسے ہوگا۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. آج دن میں شیخ یوسف ایستس کے ایک دو لیکچرز کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرائی تھی۔ ان کی ویب سائٹ پر چھ سات سو مختصر لیکچرز کے علاوہ بہت قیمتی علمی سرمایہ رکھا ہے۔ کسی وقت ملاحظہ فرمائیے گا۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. اس سلسلے کی پہلی قسط پر اپنی گزارشات میں اشارتاً عرض کر چکا ہوں کہ مسجد کا کردار بدل دی گیا۔ اسلامی معاشرہ کی حیثیت بدل کر مسلم معاشرے کی ہو گئی تو مسجد دنیا سے کٹ گئی اور اس پر چڑھائی گئی خود ساختہ تقدس کی چادر نے مسجد کے حقیقی تقدس کو نظروں سے اوجھل کر دیا۔
    چشمِ تصور سے ملاحظہ کیجئے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ، پردے کی اوٹ میں کھڑے ہیں۔ سرورِ کائنات کے لبوں پر مسکراہٹ ہے آنکھوں میں مسرت کی روشنی بھی شامل ہو گئی ہے۔ مسجدِ نبوی کے صحن میں جوانانِ اسلام جنگی مشقین کر رہے ہیں، ایک طرف تلوارین کھنک رہی ہیں تو دوسری طرف کشتی ہو رہی ہے۔ یہ جہاد کی تیاری ہے اور جوانوں کو تربیت دی جا رہی ہے۔
    ایک اور منظر دیکھئے۔ نماز پڑھی جا چکی ہے اور نمازی ٹکڑیوں سی صورت میں کچھ ادھر بیٹھے ہیں کچھ ادھر بیٹھے ہیں۔ ایک حلقے میں کچھ نوجوان ایک بزرگ کے گرد جمع ہیں، سوال پوچھے جا رہے ہیں، جواب دئے جا رہے ہیں۔ ایک طرف تین چار بزرگ بیٹھے شہر کے حالات پر گفتگو کر رہے ہیں۔ ایک ٹکڑی قرآن پڑھنے میں مشغول ہے۔ دوسری ٹکڑی میں ایک نوجوان قرآن شریف کی تفسیر بیان کر رہا ہے۔ ادھر ایک تجارتی قافلے کی روانگی کے انتظامات پر بات ہو رہی ہے۔ تو ادھر کچھ لوگ نماز پڑھ رہے ہیں۔
    ایک اور منظر دیکھئے۔ خلیفہء وقت خطبہ دے رہا ہے۔ لوگو! میری بات سنو! ایک آواز آتی ہے: ہم نہیں سنتے جب تک یہ نہ بتا دو کہ تمہاری یہ قمیص کتنی چادروں سے بنی ہے کہ مالِ غنیمت میں ہر ایک کو ایک ایک چادر ملی تھی اور اس میں تمہارے قد کاٹھ کے مرد کی قمیض نہیں بن سکتی تھی۔ ۔۔۔ الی الآخر۔ ایسے ایک دو پانچ دس مناظر نہیں۔ نہ تو یہ اتفاقیہ ہیں اور نہ معمول سے ہٹ کر ہیں، یہاں تو روز ایسے ہی مناظر ہوتے ہیں۔ نکاح ہو رہا ہے مسجد میں، تیر بنانے کا طریقہ سیکھ جا رہا ہے مسجد میں، کشتیوں اور شمشیر زنی کے مقابلے ہو رہے ہیں مسجد میں، سفارت کاروں سے بات ہو رہی ہے مسجد میں، دعوتی خط جاری ہو رہے ہیں مسجد سے، مقدمات سنے جا رہے ہیں مسجد میں، گورنروں کی تقرریوں اور معزولیوں کا حکم جاری ہو رہا ہے مسجد سے۔
    مسجد ہی عدالت ہے، مسجد ہی کمیونٹی سنٹر ہے، مسجد ہی دارالخلافہ ہے، مسجد ہی بیت المال کا دفتر ہے، مسجد ہی بھرتی دفتر ہے، مسجد ہی یونیورسٹی ہے، مسجد ہی کمیونٹی سینٹر ہے۔ گھر کو دنیا سے ملانے والے تمام راستے مسجد سے گزر کر جاتے ہیں اور مسجد ہی میں سمٹ کر ایک اکائی بن جاتے ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے اور آپ کو دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہماری آج کی مسجد بھی ایسی ہے؟

    (بجلی کے جانے کا وقت ہو رہا ہے، بقیہ ملتوی)

    جواب دیںحذف کریں
  5. کہیں پڑھا تھا کہ دین اور دنیا کی لکیر اول اول الخوارزمی نے کھینچی۔ مضمون میں لکھا تھا کہ الخوارزمی نے اپنے کتب خانے میں کتابوں کی فہرست مرتب کی تو ایک شعبے کا نام دینی علوم اور دوسرے کا دنیاوی علوم لکھا۔ مضمون نگار نے اس کا نام خاصی حقارت سے لیا ہے اور کچھ ایسی بات کر دی ہے کہ کتابوں کی فہرست بنانے والے ایک شخص کی کھینچی ہوئی لکیر نے یہ کر دیا، وہ کر دیا (ہمارے بہت سارے علماء اپنی تحریروں میں جذباتی بھی تو بہت ہو جاتے ہیں)۔ وہ لکیر جو اس نے اپنے کتب خانے کی فہرست میں کھینچی تھی، اس کو مقبول بنانے اور کتب خانے سے معاشرے تک اور معاشرے سے مسجد تک بڑھانے میں ہزاروں پردہ نشینوں کے نام آتے ہوں گے، جو کہیں مذکور نہیں (ہوتے بھی تو کیا ہو جاتا)! بات یوں سمجھ میں آتی ہے کہ امت کے کچھ "بڑے دماغوں" نے دین اور امت کی زندگی کے سر چشمے کو دو منطقوں میں بانٹ دیا، ایک کا نام دین رکھ دیا ایک کا دنیا، مسجد دین کے حصے میں آ گئی اور حکومت دنیا کے حصے میں۔ فساد کی ابتدا ہو گئی اور پھر چل سو چل۔ دنیا پھیلتی گئی، دین سکرٹا گیا۔ مسجد بھی سکڑتی گئی۔ اسلامی ریاست کا مرکزی سکریٹیریٹ تقسیم ہوا تو ایک مفتی صاحب کا دفتر رہ دین بلاک میں رہ گیا باقی سب وزارتیں سفارتیں دنیا کہلائیں۔

    جواب دیںحذف کریں
  6. بے چارے مفتی صاحب آج کے قابیلوں پر حد جاری کرنے کی بجائے یہ گتھی سلجھانے میں لگے ہیں کہ ہابیلوں کے مارے جانے پر اقلیمیں کس کی ہوئیں! وہ اور کریں بھی کیا، بیس ہزار کی آبادی میں پچیس تیس مسجدیں بھی تو چلانی ہیں، فجر میں صف جتنے نمازی (ایک امام دو مقتدی) بھی ہو جائیں تو غنیمت ہے۔
    مفتی صاحب کے سامنے مسائل بھی تو ایسے ہی پیش کئے جا رہے ہیں نا؛ گردن سر کا حصہ ہے یا نہیں، انگوٹھا انگلیوں میں گنا جائے گا یا نہیں، داڑھی مُنڈا خلال کیسے کرے، رکوع کے بعد سیدھا کھڑا ہونا کیوں لازم ہے؛ وغیرہ۔ کوئی بہت بڑا تیر مارے گا تو یہ کہ جب امام فلاں ابنِ فلاں نے ساری زندگی تحقیق و مطالعہ میں گزار دی تو ہمیں وہی سب کچھ پھر سے پڑھنے کی کیا ضرورت ہے، کیوں نہ آنکھیں بند کر کے اسی پر چلتے رہیں۔ رہی بات قرآن کی تو وہ تبرک کے طور پر گھر میں رکھا ہے، ڈولی پر اور جنازے پر اس کا سایہ کرتے ہیں، کبھی کبھی بے سمجھے ہی سہی پڑھ بھی لیتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ مفتی صاحب کو بھی تو روٹی مسجد کے حساب سے کھانی ہے، وہ کیا کہیں!۔

    جواب دیںحذف کریں
  7. ایسا لگتا ہے کہ صاحبِ مضمون خود ہی بد دِل ہو گئے ہیں۔

    جواب دیںحذف کریں
  8. nitro pro crack This article is so innovative and well constructed I got lot of information from this post. Keep writing related to the topics on your site.

    جواب دیںحذف کریں
  9. wondershare allmytube crack Thank you, I’ve recently been searching for information about this subject for a long time and yours is the best I have found out so far.

    جواب دیںحذف کریں

  10. driver-booster-pro-key-download-crack
     is back up drivers make Restore points before installing upgrades, and show just WHQL-tested drivers. When PCs and parts can not use the drivers, the Ignored list is helpful.
    new crack

    جواب دیںحذف کریں

  11. iobit-uninstaller-pro-crack-2 is Integrated with cutting-edge uninstall innovation. The Key encourages you to eject unnecessary projects effectively even though Windows “Include or Remove Programs” is without effect.
    freeprokeys

    جواب دیںحذف کریں
  12. charles-proxy-crack is XK72 can apply for most people-created programs, among the most popular programmers of pure surfing programs and software. This computer software is also an HTTP proxy application that is a useful handle and determines the visitors that exist between the World Wide Web and personal laptops.
    new crack

    جواب دیںحذف کریں
  13. Thanks for this post, I really found this very helpful. And blog about best time to post on cuber law is very useful. zwcad-2021-crack

    جواب دیںحذف کریں
  14. https://nawaynay.blogspot.com/2015/08/blog-post.html?showComment=1537751587040#c9015741370139454938

    جواب دیںحذف کریں
  15. Excellent post.I was looking for this certain information for a very long time.
    I was checking constantly this blog and I am impressed!
    ZBrush Crack provides an arsenal of tools to help with this task, ensuring that no matter what you have in mind, there is a way to get the perfect foundation and then move on to the next level. The best known of these systems is explained here.

    جواب دیںحذف کریں
  16. Here's the softwares that you can use free. You guys just visit our site and get all the latest and older softwares Smadav Pro Crack Kindly click on here and visit our website and read more.
    Smadav Pro Crack
    Zoiper Crack Apk Free Download
    CloudMounter Crack
    Apple Keynote Crack
    Firefox Crack Free

    جواب دیںحذف کریں
  17. This article is so innovative and well constructed I got lot of information from this post. Keep writing related to the topics on your site. Avs Video Converter Crack

    جواب دیںحذف کریں