بدھ، 16 جولائی، 2014

قصہ ہشت درویش

آٹھویں درویش نے پہلے درویش سے کہا........اتنی طول طویل خرافات سُن کر سر میں درد سا ہونے لگا ہے...... پہلے مجھے اونٹ مارکہ بیڑی پلا ،کہ حواس قائم ہوں.......تاکہ پھر اپنی دلدوز داستاں سنا کر تیرے بھی سر میں درد لگا سکوں......پہلے درویش نے دوسرے درویش کی جیب سے بیڑی نکال کے پیش کی.....دو کش لگانے کے بعد یہ بزرگ یوں گویا ہوا........... بچپن...

جمعہ، 11 جولائی، 2014

ساز و مغنٌی ........ایک مکالمہ

مغنی نے گود میں لیے ساز کے تاروں کو سرسری چھیڑا ....... منہ بسورتے طفل کی سی صدا اُن میں سے برآمد ہوئی ........گویا ناراض ہوں.....اور رخصت کے طلب گار ہوں......مغنی مسکرایا اور سوال کیا ....... م:خفا کیوں ہو......تمہارا اور میرا کیا پردہ......کیا ہوا............بولو! س:گاہے تمہاری انگلی مجھ پہ یوں پڑتی ہے.......جیسے ہجر...