سوموار، 3 اکتوبر، 2016

کیہ جاناں میں کون....

نہ میں صافی ، نہ میں صوفی..... نہ میں جاناں رفض  نصب نوں

نہ میں شامی ، نہ میں کوفی..... نہ میں جاناں قدر  کسب نوں

نہ میں سبق فقہ دا پڑھیا........ نہ میں سانگ مذہب دا بھریا

نہ میں جاناں شرق غرب نوں ..... نہ میں جاناں عجم عرب نوں

نہ میں جھوٹا ، نہ میں سچا ..... نہ میں پختہ، نہ میں کچا

چھمک نروئی ، نہ میں ڈچا..... نہ میں جاناں نام نسب نوں

بس ورد الف دا کیتی جاواں.... پچھے میم دے نیتی جاواں

نہ میں جاناں زیراں زبراں.... نہ میں جاناں ضم نصب نوں

فلک شیر
3 اکتوبر 2016
گیارہ بجے دن

1 تبصرہ:

  1. ہم تو صرف اتنا جانتے ہیں کہ اللہ اور اللہ کے رسول سے تعلق پر بات کرنے کو شعور کی جس بلندی کی ضرورت ہے وہ ہر کس و ناکس کو نصیب نہیں ہوا کرتی۔ یہ بہت ذمہ داری کا کام ہے، اور جب کہنے والا اہلِ شعور میں گنا جاتا ہو تو اس کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

    و ما توفیقی الا باللہ ۔

    جواب دیںحذف کریں