بدھ، 6 جنوری، 2021

نو برس ہوتے ہیں

 نو برس ہوتے ہیںہر کسی کے اپنے نو برس ہوتے ہیںسیرِ صحرا سے لبِ دریا تکعمر کوٹ سے بھٹ جو گوٹھ تکسسی کی پیاس سے خضر کے گھڑے تکبے انت بے سمتی سے یکسوئی کی مٹھاس تککانٹوں کے عرق سے ترتراتے پراٹھےسے....شکرگزاری کی سوکھی روٹی تکبے مصرف بنجر دنوں سے موتیوں جیسے لمحوں کے ڈھیر تکواقف انجانوں کی بھیڑ سے دل میں اترے اجنبیوں کی مجلس...