
نو برس ہوتے ہیںہر کسی کے اپنے نو برس ہوتے ہیںسیرِ صحرا سے لبِ دریا تکعمر کوٹ سے بھٹ جو گوٹھ تکسسی کی پیاس سے خضر کے گھڑے تکبے انت بے سمتی سے یکسوئی کی مٹھاس تککانٹوں کے عرق سے ترتراتے پراٹھےسے....شکرگزاری کی سوکھی روٹی تکبے مصرف بنجر دنوں سے موتیوں جیسے لمحوں کے ڈھیر تکواقف انجانوں کی بھیڑ سے دل میں اترے اجنبیوں کی مجلس...