اتوار، 28 فروری، 2016

اے جذبہ دل گر میں چاہوں ــــــــــــ بہزاد لکھنوی

اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے منزل کے لیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے کشتی کو خدا پر چھوڑ بھی دے، کشتی کا خدا خود حافظ ہے مشکل تو نہیں ان موجوں میں بہتا ہوا ساحل آ جائے اے شمع! قسم پروانوں کی، اتنا تو مری خاطر کرنا اس وقت بھڑک کر گُل ہونا جب بانیِ محفل آ جائے اس جذبۂ دل کے بارے میں اک مشورہ...