اتوار، 13 اگست، 2017

جماعت الدعوۃ سیاست میں : کیوں، کب اور کیسے

انیس سو نوے کی دہائی کے آخری سال تھے، جب افغان جہاد سے مجاہدین کی ایک بڑٰ ی تعداد کشمیر کے محاذوں کا رُخ کر رہی تھی۔ ان کی اکثریت پاکستانی پنجاب او ر قبائلی علاقہ جات سے تھی۔ ان میں سے سلفیوں یا معروف اصطلاح میں اہل حدیث نوجوانوں کی ایک مناسب تعداد بھی تھی، جو اس سے قبل افغان محاذوں پہ عربوں اور افغانیوں کے شانہ بشانہ روسی استعمار سے لڑرہے تھے اوراصل میں افغانستان کے اندر پاکستان کے دفاع کی جنگ میں مصروف تھے۔ یہ نوجوان اور ان کے قائدین اسلامی نشاۃ ثانیہ اور اسلام کے حرکی پہلو کے خواب دیکھتے تھے اور مقبوضہ مسلمان خطوں کی آزادی ان کے سامنے پہلا بڑا ہدف تھی۔سلفی مجاہدین کے انہی گروہوں نے کشمیر میں لشکر طیبہ کے عنوان سے کارروائیاں شروع کیں ، جبکہ تنظیمی لحاظ سے پاکستان میں یہ تنظیم، مرکز الدعوۃ والارشاد کے بینر تلے ،نوجوانوں کو کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں حصہ لینے کے لیے ابھارتی تھی۔ مرکز الدعوۃ والارشاد ابتدا سے ان تمام آئیڈیلز اور کلچرل مظاہر کی داعی تھی، جو قرون اولیٰ میں اسلامی معاشروں کی پہچان ہوا کرتے تھے۔ان کا کہنا تھا، کہ وہ ایک ایسے معاشرے کی تشکیل چاہتے ہیں، جو اسلامی اصولوں کے مطابق ہو ۔ مرکزا الدعوۃ والارشاد کی قیادت ابتدا ہی سے انجینیرنگ یونیورسٹی لاہور کے ایک سابق پروفیسر ، حافظ محمد سعید کر رہے تھے۔

اگلے بارہ تیرہ سالہ میں مرکزا لدعوۃ والارشاد نے مرید کے میں بہت بڑے بڑے اجتماعات منعقد کیے اور نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنی طرف کھینچا۔ روایتی اہل حدیث جماعتوں میں ان نوجوانوں کے لیے وہ کشش اس لیے نہیں رہی تھی، کہ مرکزالدعوۃ والارشاد کا 'نظام امارت' انہیں قرون اولیٰ کے زیادہ قریب معلوم ہوتا تھا۔جمہوری سیاست اور اقتدار کی کشمکش میں مصروف سیاسی جماعتیں بالعموم اور مذہبی سیاسی جماعتیں بالخصوص مرکز کے قائدین اور علماء کا ہدف تنقید رہتے تھے۔گو کہ اس سب کے دوران بھی مرکز کے زعماء اور دیگر جماعتوں کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ کسی نہ کسی حد تک قائم ضرور رہا۔ مرکز اور لشکر طیبہ سے متعلق پاکستانی حکومت پہ امریکہ اور بھارت کا شدید دباؤ رہا۔ ہزاروں نوجوان وادی کشمیر میں لشکر طیبہ کی طرف سے پہنچے اور اپنی جانوں کو کشمیریوں کی جدوجہد آزادی پہ وار دیا۔ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کا یہ انتہائی اہم مرحلہ تھا اور پاکستانی نوجوانوں کے تازہ خون نے بین الاقوامی اصولوں کے مطابق اس جائز جدوجہد کو عالمی منظرنامے پہ نمایاں کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

نائن الیون کے بعد جہادی تنظیموں کے لیے جیسے سب کچھ بدل گیا اور کشمیر کے محاذ پہ بھی پرویز مشرف نے یوٹرن لیا۔ ایسے میں مرکز الدعوۃ والارشاد کو جماعت الدعوۃ کے نام سے بدل دیا گیا۔ دو ہزارپانچ کے زلزلے کے بعد جماعت الدعوۃ کے رضاکاروں کی ریسکیو، ریلیف اور بحالی کے کاموں نے پوری قوم کی نظریں اپنی طرف مبذول کروا لیں اور یوں جماعت ایک منظم ، مخلص اور سنجیدہ ورک فورس کے طور پہ ابھر کر سامنے آئی۔ فلاح انسانیت فاؤنڈیشن (FIF)کے نام سے جماعت الدعوۃ نے تب سے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ تھر کے صحرا، گلگت بلتستان کے کہسار، بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقے ، پنجاب کے میدان، سری لنکا کے سونامی زدہ ساحل، شام فلسطین اور ایتھوپیا کے جنگ اور قحط زدہ لوگ، ان سب تک کسی نہ کسی شکل میں پہنچ کر انسانیت کی خدمت کے لیے جماعت الدعوۃ اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ جماعت کی خدمت خلق کی ان سرگرمیوں کا ،عالمی میڈیا، باخبر صحافی اور تما م انصاف پسند حلقے ، سب اعتراف کرتے ہیں۔

ڈکٹیٹر کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے جب پاکستان میں ریاست مخالف گروہوں نے سر اٹھایا اور اسے جہاد کا نام دیا، تو جماعت الدعوۃ اس فتنے کی علمی سرکوبی کے لیے شاید سب سے پہلے آگے بڑھی تھی۔ ان گروہوں کی پراپیگنڈہ مہم بڑی مضبوط تھی اور وہ یہی ظاہر کر رہے تھے کہ انہیں صرف 'اسلام کی سربلندی'سے دلچسپی ہے ، گو کہ حقیقت بعد میں واضح ہو گئی ، کہ ان کی سربلندی سے کن کن ہمسایہ اور بزعم خود 'ہر ایک کی ہمسایہ ہونے کی دعویدار ریاست' کو دلچسپی تھی۔ ایسے میں جماعت الدعوۃ کے کیڈرز میں دوسری جہادی جماعتوں کی نسبت سب سے کم ٹوٹ پھوٹ ہوئی۔ چونکہ سلفی سکول آف تھاٹ کے مطابق ریاست کے حکام کے خلاف خروج انتہائی ناپسندیدہ ہے ، اسی وجہ سے انتہائی نامساعد حالات اور طعن و تشنیع سے لے کر جانی نقصان اٹھانے تک کے باوجود بھی جماعت الدعوۃ نے پاکستان میں حملوں اور ریاستی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کی سخت مزاحمت کی ۔ ان کا کہنا تھا ، کہ کسی مسلمان کا دوسرے مسلمان پہ ہتھیار اٹھانا حرام ہے ۔انہیں اس مؤقف کی وجہ سے 'سرکاری جہادی'، 'کنٹرولڈ جہادی'اور 'جی ایچ کیو کے بندے' کہا جاتا رہا ہے ۔ بہرحال اس سب کے باوجود ہم یہ کہنے پہ مجبور ہیں ، کہ جماعت الدعوۃ نے پاکستان میں ریاست یا عوام ، مخالف یا موافق، مسلم یا غیر مسلم، کسی کے خلاف کوئی مسلح یا غیر مسلح کارروائی نہیں کی۔ جہاں تک کشمیر میں لشکر طیبہ کی کارروائیوں کا تعلق ہے، تو وہ کشمیر کی جدوجہد آزادی سے متعلق وہی مؤقف رکھتے ہیں ، جو ایک عام پاکستانی اور ریاست پاکستان رکھتی ہے۔ ہم دیکھتے رہہے ہیں ، کہ ان کے اجتماعات میں اسٹیبلشمنٹ مخالف لوگ بھی اتنے ہی جوش و جذبے اور عقیدت سے شامل ہوتے رہے ہیں اور ہوتے ہیں ، جس سے پرو اسٹیبلشمنٹ شامل ہوتے ہیں ۔ تمام مسالک کے نمائندگان، صاحبان جبہ و دستار، سیاسی جماعتوں کے نمائندے ، این جی اوز کے لوگ اور پروفیشنلز ، سب ان کے اسٹیج پہ اکٹھے بیٹھے نظر آتے ہیں۔

جماعت الدعوۃ کے نظریات کسی بھی دائیں بازہ کی دیگر جماعت کے نظریات جیسے ہی ہیں اور اس نے دعوت کے میدان میں ارتقائی منازل طے کی ہیں ۔ ایک وقت تھا، کہ کہ جماعت کے جلسوں میں تصویر کی اجازت تھی اور نہ مووی بن سکتی تھی۔ابتدائی ایام میں تو کچھ کارکنان اس قدر شدت اختیار کرتے تھے کہ مخالف مسلک کی مسجد میں نماز پڑھنا بھی پسند نہ کرتے تھے ۔ لیکن امت مسلمہ کے اجتماعی حالات اور دعوت کے میدان میں نرم گرم برداشت کرتے کرتے ، گرتے سنبھلتے، دیکھتے بھالتے اور اتفاق و اختلاف کے فلسفہ کی عملی تشریھات و تطبیقات یعنی مختصر لفظوں میں فقہ الدعوۃ کو میدان میں پڑھنے کے بعد آج جماعت الدعوۃ اس جگہ پہنچی ہے، کہ اس کے دو تین بڑے امتیازات میں سے ایک، امت کے مختلف مسالک کو ایک جگہ جمع کرنا اور اختلاف کو ختم کرنے کی عملی کوششیں کرنا ہے۔

اب آتے ہیں اس مسئلہ کی طرف جس سے ہمیں بالخصوص گفتگو کرنا ہے ، یعنی جماعت الدعوۃ کا مستقبل قریب میں ایک سیاسی جماعت کے طور پہ انتخابی سیاست میں داخل ہونا۔ شنید ہے کہ ہفتہ عشرہ میں "ملی مسلم لیگ پاکستان " کے نام سے ایک سیاسی جماعت کا اعلان ہونے والا ہے، جس کے چیرمین ، جماعت الدعوۃ کے ذیلی ادارے 'فلاح انسانیت فاؤنڈیشن' کے موجودہ صدر حافظ عبدالرؤف ہوں گے۔

جماعت الدعوۃ چونکہ انتہائی سختی سے جمہوری سیاست کی مخالفت کرتی رہی ہے، اس لیے بار بار کی پابندیوں اور پکڑ دھکڑ کے باوجود اسے ایک کور کے طور پہ بھی خود کو ایک سیاسی جماعت کے طور پہ سامنے لانا آسان نہیں رہا۔ جماعت کے سامنے یہ چیلنج کچھ عرصہ سے تھا، کہ اندریں حالات، جب اس کے تعلیمی، فلاحی اور مذہبی سیٹ اپ کو بار بار بیرونی دباؤ کے باعث اکھاڑ پچھاڑ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ کیسے خود کو ایک جمہوری جماعت کے طور پہ پیش کرے اور اس دباؤ سے جان چھڑانے کی کچھ سبیل کرے، جب کہ وہ اس طرز حکومت اور سیاست کی شدید ترین ناقد رہی ہے ۔ البتہ اس سب کے دوران دوسری مذہبی سیاسی جماعات نے جماعت الدعوہ کی قیادت کو اس طرف قائل و مائل کرنے کی کوشش جاری رکھی۔2013ء کے انتخابات سے پہلے بھی ایسی ایک کوشش کی گئی، جو بہرحال کامیاب نہ ہو سکی۔ ایک ایشو یہ بھی تھا، کہ کارکنان کی ایک بڑی تعداد کے بددل ہونے کا خدشہ تھا۔ پھر یہ بھی کہ ہمعصر مذہبی سیاسی جماعتیں ، بالخصوص اہل حدیث فکر کی حامل اور ذہنی طور پہ القاعدہ کی فکر کے قریب نوجوانوں کی طرفف سے استہزاء و تضحیک کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ، جیسا کہ ہم اسے سوشل میڈیا میں شروع ہوا دیکھ بھی چکے ہیں ۔ اس سب کے باوجود میری دانست میں جماعت کی قیادت نے ایک عمدہ فیصلہ کیا ہے ۔ اسلام کو بطور نظام ریاست کے تمام شعبوں میں فائق اور معمول بہ دیکھنے کے خواہش مند ہر گروہ اور فرد کو سمجھنا چاہیے کہ جماعت الدعوۃ کے فکری ارتقاء کی یہ ایک اہم منزل ہے۔ انہوں نے بالغ نظری کا ثبوت دیتے ہوئے یہ سمجھ لیا ہے کہ منزل واضح ہو، تو سٹریٹیجی تبدیل کی جا سکتی ہے۔ سٹریٹجی کو مائع (Fluid)رکھنا ویسے بھی زندہ تحاریک کی نشانی ہے ۔ جمہوریت کے اندر بہت سی خامیاں ہیں اور ان خامیوں کی نشاندہی صرف جماعت الدعوۃ ہی نہیں کرتی چلی آ رہی ، خود مغرب کے علمی حلقوں سے ایسی توانا آوازیں اٹھتی رہتی ہیں ۔جماعت الدعوۃ کی قیادت اگر ان کی طرف اشارہ کرتی رہی ہے اور حق جان کر کرتی رہی ہے، تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ اب جماعت الدعوۃ نے اگر یہ سمجھ لیا ہے، کہ معاشرے کی اجتماعی صورت گری کے لیے تحریکی حلقوں کا سیاسی ہونا آج کی سب سے بڑی ضرورت ہے ، تو اس سے بہتر بات اور کیا ہو گی۔ وہ لاکھوں نوجوان، جو جماعت کے حلقوں سے وابستہ ہیں ، انہیں مثبت سیاسی سرگرمی کے ذریعے اپنے وطن کی فلاح و بہبود میں ہاتھ بٹانے کا موقع ملے، اس سے بہتر کیا ہو گا۔اسلامی تحاریک کے کارکنان خلا میں نہیں رہ سکتے، انہیں جس پراڈکٹ کو تیار کرنا ہے، اگر اسے میدان عمل ہی نہ مل پائے، تو ڈیپریشن دور کرنے کے جو متبادل میدان میسر ہیں ، ان کے تعمیری یا تخریبی ہونے کا فیصلہ اصحابِ دانش بخوبی کر سکتے ہیں۔

حافظ عبدالرؤف صاحب شب زندہ دار آدمی ہیں ، خوبصورت اور انتہائی متحرک، صالحیت و صلاحیت کا بہترین متوازن نمونہ۔ فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کو ایک عالمی سطح کی این جی او بنانے میں حافظ عبدالرؤف کی بصیرت اور انتطامی صلاحیتوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ دن رات سفر میں رہنے والا یہ آدمی آواران میں ناراض بلوچوں کے ہاتھوں رسیوں میں بندھا رہا، کہ وہ سیلاب کے بعد ریلیف کا کام کرنے نہیں دینا چاہ رہے تھے۔ اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے دل پلٹے اور حافظ صاحب کو چند شرائط کے ساتھ کام کی اجازت دی، آج ان تمام علاقوں میں ، جہاں پاکستانی پرچم تک نہیں لہراتا تھا، فلاح انسانیت فاؤنڈیشن اور اس کے توسط سے پاکستان کا پھریرا لہراتا ہے ۔ خدمت تو گویا ان کی گھٹی میں ہے اور عاجزی طرہ امتیاز۔ جماعت الدعوۃ کی قیادت نے ایک عمدہ آدمی اس اہم مہم کے لیے منتخب کیا ہے ۔

اب کچھ باتیں دیگر مذہبی اور مذہبی سیاسی جماعتوں کی قیادت اور کارکنان کے ردعمل کی ،۔ مجھے امید ہے، کہ جس رستے کو وہ امت مسلمہ اور مسلمانان پاکستان کی اجتماعی فلاح کے لیے درست سمجھتے تھے ، اب جب کہ علی وجہ البصیرت جماعت الدعوۃ اس رستے پہ آئی ہے، تو وہ ان کا کھلے دل سے استقبال کریں گے اور رہنمائی بھی۔ اگر ان کا مشن حق تھا اور اس پہ ان کے ساتھ چلنے ایک اور گروہ آن پہنچا ہے، تو ان کا کردار طے کرے گا کہ وہ پہلے اپنی تنقید میں سچے تھے یانہیں۔ مجھے علم ہے کہ دیگر جماعتوں کی قیادت نے جماعت الدعوۃ کو اس طرف لانے اور اس مشکل فیصلہ تک پہنچنے میں کس قدر کمک پہنچائی ہے ۔ مستقبل قریب کی سیاسی صف بندی اس پہ مہر تصدیق ثابت کر دے گی ان شاءاللہ ۔جماعت الدعوۃ کے کارکنان کے لیے شاید یہ ایک بڑا دھچکا ہو، لیکن انہیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان حالات میں اس سے بہتر فیصلہ شاید ممکن نہ تھا۔


جماعت الدعوۃ کے لیے یہ ایک لمبے اور مشکل سفر کا آغاز ہے، اس کا سٹرکچر، نظم اور تربیتی نظام نئے سرے سے ترتیب دینا ہو گا۔کارکنان، ارکان اور محبت کرنے والوں کو باقاعدہ تنظیم سازی کے عمل سے گزار کر جدید سیاسی مشین کے طور پہ کامیاب کرنے کا عمل انتہائی لازمی ہے۔میرے خیال میں جماعت الدعوۃ کی سینیر قیادت نے اگلی نسل کو اختیارات منتقل کرنے کا باقاعدہ سلسلہ شروع کر دیا ہے ۔ایسے transitory مرحلے میں انتہائی احتیاط سے پرانے کارکنان کو جمع رکھنے اور نئے والوں کو قریب کرنے کے لیے سائنسی بنیادوں پہ تنظیم سازی کی ضرورت ہے ۔ پہلے سے موجود ڈھیلے ڈھالے سٹرکچر سے پرانا کام تو چل سکتا تھا، نیا کام بالکل مختلف اور الگ حرکیات کا متقاضی ہے ۔ سوشل میڈیا کی اہمیت اور آزاد فیصلہ سازی اور پالیسی سازی کی صلاحیت کی حامل جماعت ، جسے تمام شعبہ ہائے زندگی میں اہل اور قابل افراد کو اپنی طرف راغب کرنا ہے۔ جماعت اسلامی اور اخوان المسلمون سے سیکھنے میں کوئی باق نہیں ہونا چاہیے ۔ رہے حزب النور بننے کے طعنے اور اسٹیبلشمنٹ کی مسلم لیگ کا ٹیگ لگانے والے دوست، تو یاد رکھیے ، ان بھائیوں سے آپ کو محبت سے پیش آنے کے علاوہ کوئی آپشن ہی نہیں ہے ۔ ردعمل کی سیاست کرنے والے سیاسی رہنما اور جماعتیں زیادہ وقت تک منظر پہ نہیں رہ پاتیں۔
 ​
آخر میں ملخص یہی کہ جماعت الدعوۃ کی قیادت نے بالغ نظری کا مظاہری کرتے ہوئے اپنے زیر اثر حلقوں کو تخریب کی بجائے تعمیر کے کاموں میں مشغول کرنے کے لیے "ملی مسلم لیگ" کے قیام کا جو فیصلہ کیا ہے، وہ ہماری نظر میں انتہائی درست، مبنی بر بصیرت اور ملک و ملت کے لیے مفید ہے ۔ ہم تمام سیاسی حلقوں ، بالخصوص مذہبی جماعتوں کے قائدین و کارکنان سے امید رکھتے ہیں ، کہ وہ کھلے دل اور باہوں سے ان کا استقبال کریں گے اور سرحدوں پہ چھائے خطرات اور اندرونی خلفشار کو ختم کرنے ، ملک کو جدید اسلامی فلاحی ریست بنانے میں ان بھائیوں کو مثبت کردار کرنے کے اس نئے سفر پہ خوش آمدید کہیں گے اور رہنمائی کریں گے۔

فلک شیر چیمہ

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں