ہفتہ، 31 دسمبر، 2016

2017... اہداف و عزائم

نئے سال کے موقع پر اکثر لوگ اپنی ذات اور زندگی کو بہتر ڈھنگ پہ لانے کے لیے خود سے کچھ وعدے کرتے ہیں اور کچھ اہداف متعین کرتے ہیں. یہ وعدے اور اہداف ذات، صحت، تعلقات، پیشہ ورانہ مہارت وغیرہ سے متعلق ہوتے ہیں.

یہ عمل کس حد تک مفید ہے، میرے خیال میں اس سوال کا جواب ان اہداف کا تعین کرنے والے شخص کی افتاد طبع میں چھپا ہوتا ہے ــــــــــ مستقل مزاجی سے کام کرنے والے لوگ اس سے یقیناً فائدہ اٹھاتے ہیں، جبکہ اس صفت سے محروم لوگ کوئی خاص فائدہ نہیں اٹھا پاتے.

بہر حال اس سال کے حوالے سے کچھ ارادے میں نے بھی باندھے ہیں اور اللہ تعالٰی کے فضل سے امید ہے کہ وہ اس کے لیے مدد فرمائیں گے ان شاءاللہ.

میں ان وعدوں اور اہداف کو کچھ حصوں میں تقسیم کر کے بیان کرنا چاہتا ہوں :

1)علمی و تعلیمی گوشہ:
ان شاءاللہ روزانہ قرآن مجید کے کم از کم تین رکوع ترجمہ کے ساتھ تلاوت کی کوشش... فجر کے بعد
ایک کتاب پیشہ ورانہ مہارت بڑھانے کے لیے... پانچ صفحات
ایک ہلکی پھلکی کتاب... ادب، سفرنامہ، سوانح.... دس صفحات
جو ڈگری جاری ہے.... اس کے لیے دو گھنٹے مطالعہ
لیپ ٹاپ کو صرف اس کی جگہ پر استعمال کرنا.... بستر پر نہیں... کیونکہ اس طرح یہ کتاب کی جگہ لے لیتا ہے اور وہ یہ ہے نہیں

تعلقات کا گوشہ :
ہفتہ میں ایک گھنٹہ نکال کر... اتوار مناسب دن ہے... خالہ، پھپھو، ماموں اور نانا نانی سے فون پر بات
نہ کہنے کی صلاحیت حاصل کرنے کی ڈرل
بچوں کو اختتام ہفتہ بالضرور دو تین گھنٹے کے لیے آؤٹنگ پہ لے جانا
والدین کے ساتھ کم از کم آدھا گھنٹہ کی روزانہ نشست
مہینہ بھر میں کم از کم ایک دفعہ کسی اصلاحی مجلس میں شرکت

سوشل میڈیا :
فون سے ایک آدھ کے سوا تمام سوشل میڈیا ایس ان انسٹال کرنا... فیس بک لازمی طور پر... کیونکہ نارمل اور مفید زندگی گزارنے میں یہ بڑی رکاوٹوں میں سے ایک ہے
آدھ ایک گھنٹہ لیپ ٹاپ پہ سوشل میڈیا کا استعمال محدود کرنا
سوشل میڈیا کے استعمال میں مقصدیت کو بہرحال مدنظر رکھنا

صحت :
ہفتہ میں کم از کم تین دن ایک گھنٹہ کی واک یا ورزش
پانی کافی مقدار میں پینا
چائے کی بجائے متبادل مشروبات... دودھ، قہوہ

اہداف:
عربی، فارسی اور انگریزی کی روایتی گرامر کو گہرائی سے سیکھنے کی کوشش
اپنی ڈگری ریسرچ کے لیے ایسا موضوع تلاش کرنا، جو واقعی کمیونٹی کے مسائل کا حل پیش کر سکے
اجتماعیت کی برکات کے حصول لیے کسی ایسی جماعت میں شمولیت، جو سلف کے فہم اسلام سے روشنی لیتی ہو اور عصر حاضر میں حکمت و بصیرت کے ساتھ انفرادی و اجتماعی اصلاح کے ذریعے انسانیت کی خیر کی متلاشی ہو
تین ماہ بعد اس کا فالو اپ

تو یہ تھے وہ اہداف، جو میں نے طے کیے ہیں اور توفیق تو اللہ تعالٰی ہی کی طرف سے ہے اور میں اسی پہ توکل کرتا ہوں اور مدد مانگتا ہوں

بدھ، 28 دسمبر، 2016

پاکستان، عرب اور ایران

زیر نظر واقعہ جناب مختار مسعود نے اپنی کتاب "لوح ایام" کے صفحہ انسٹھ اور ساٹھ پہ درج کیا ہے۔ کسی فرقہ وارانہ یا سیاسی مقصد کے لیے پوسٹ نہیں کیا جا رہا۔ رائے قائم کرنے کے لیے ذہن میں رہے کہ اس سے پہلے ایران بھی پینسٹھ کی جنگ میں ہماری مدد کر چکا تھا، البتہ شہنشاہ ایران کی امریکہ کے ساتھ محبت اور اندھی طاقت اور دولت کا خمار اس قدر بڑھ چکا تھا کہ ماڑے موٹے بھائی یا دوست اب اس کی ترجیح نہ رہے تھے۔گو کہ سعودی بھی امریکہ کے ساتھ تھے اور دولت بھی وہاں وافرآ رہی تھی یا کم از کم آنے والی تھی ، لیکن ان کا رویہ یکسر مختلف تھا، اسی کی نشاندہی اس واقعہ میں ہوتی ہے۔یہ تاریخی واقع ہماری خارجہ پالیسی کے سفر کی ایک جھلک  ہے ۔ تفصیلی تجزیے کے لیے بہرحال تصویر کو بڑے پس منظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ 
فلک شیر

جناب مختار مسعود لکھتے ہیں:

"اکتوبر 1973ء میں تیل کا عالمی بحران آیا۔ قیمتوں میں جو مدت سے ایک ہی سطح پر ٹھہری ہوئی تھیں، یکایک پانچ گنا اضافہ ہو گیا۔ تیل درآمد کرنے والے ممالک زرمبادلہ کی کمی کا شکار ہو گئے اور تیل برآمد کرنے والے ممالک دیکھتے ہی دیکھتے بے حدوحساب دولت کے مالک بن گئے۔ تیل درآمد کرنے والے تمام ممالک میں سوچ بچار کے لیے کمیٹیاں اور بھاگ دوڑ کے لیے وفود تشکیل دیے گئے میں بھی ایک پاکستانی وفد میں شامل ہو کر این آئی او سی (ایران کے تیل کی پیداوار کی سرکاری کمپنی) کے صدر دفتر پہنچ گیا۔ ہمیں تھوڑی سی دیر کے لیے خواہ مخواہ انتظار کرایا گیا، حالانکہ ملاقات کا وقت پہلے سے طے تھااور ہمارے وفد کے رئیس پاکستان کے وزیر پٹرولیم تھے۔ ہم چئیرمین کے کمرے میں پہنچے۔ انہوں نے اس بیزاری کے ساتھ ہمیں وصول کیا، جیسے وہ اہل سوال سے ملاقاتیں کر کے عاجز آ چکے ہوں۔

منوچہر اقبال کا نیلا سوٹ گھنے سفید لہریا بالوں کی شان دوبالا کر رہا تھا،مگر چوڑے چکلے سپاٹ چہرے کی خاموشی،آنکھیں چرانے کی کوشش اور ہاتھ ملانے کے میکانکی اندازنے ہمیں مایوس کیاصوفہ پر بیٹھنے کے بعد خاموشی کا ایک دور شروع ہوا۔صبرآزما اور تکلیف دہ۔یہ دور چند ثانیہ کا ہونے کے باوجود ہمیں بڑا طویل اور ناگوار لگا۔ہم اس خیال میں رہے کہ ھسبِ دستور منوچہر اقبال کچھ رسمی کلمات فارسی یا فرانسیسی میں کہیں گے، پھر سرکاری مترجم ان کا انگریزی میں ترجمہ کرے گا ، تب جا کر ہمارے وزیر کو لب کشائی کا موقع ملے گا۔مگر میزبان نے چپ کا روزہ رکھا ہوا تھا۔اسے اس کی پرواہ ہی نہ تھی کہ کون آیا ہے اور کیوں آیا ہے۔وہ اپنی ذات میں مگن اور خیالات میں گم تھا۔ہماری وہ حکمت عملی جو وفد نے رات گئے کراچی کے ہوائی اڈہ پر مڈوے ہوٹل کے وی آئی پی روم میں وضع کی تھی،اس میں ایسی غیر متوقع بے مروتی کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ہم نے طے کیا تھا کہ اگر بات چیت دفتر میں غیر رسمی انداز میں ہوئی تو ہمارے وزیر گفتگو میں مناسب وقت پر مطلب کی بات چھیڑ کر وفد کے ایک رکن کی طرف دیکھیں گے جو بات کو آگے بڑھائے گا۔اور اگر ملاقات کانفرنس روم میں مائیکروفون کے وسیلہ اور ٹیلیویژن کی روشنی میں ہوتی ہے تو ہمارے وفد کے قائد اپنی باری آنے پر ایک ٹائپ شدہ صفحہ کی وہ تقریر پڑھ دیں گے جو ایک رکن نے لکھ کر دی تھی اور جس کا دوبار ریہرسل بھی انہیں کرایا تھا۔

جب مہر خاموشی توڑنے پر منوچہر اقبال کو آمادہ نہ پایا تو میں نےآہستہ سے حیات محمد خاں شیر پاؤ سے کہا، آپ ہی گفتگو کا آغاز کریں۔انہوں نے بات شروع کرنے کی بجائے لکھی ہوئی تقریر جیب سے نکالی اور صوفہ پر بیٹھے بیٹھے اور دو لمبے آدمیوں کے درمیان بھنچے ہوئے اپنے منہ ہی منہ میں پڑھ دی۔ ا س کے بعد منوچہر نے دو جملے ادا کیےاور مترجم نے ایک سالم تقریر جھاڑ ڈالی۔جملہ غالباً یہ تھا کہ میری وہ تقریر جو میں آج کل تیل کے گاہکوں کے سامنے کرتا ہوں اسے دہرا دو۔لب لباب یہ تھا کہ یک اناروصدبیمار۔تیل خریدنے کے لیے اتنے وفود آ رہے ہیں کہ ہم ان سب سے مل بھی نہیں سکتے۔ (گویا یہ آپ پر کیا کم احسان ہے کہ ہم نے آپ کو شرفِ باریابی بخشا ہے )۔ہمیں تیل کا کوٹا مقرر کرنے میں دقت پیش آ رہی ہے۔(یعنی آپ برادری اور ہمسائیگی اور پسماندگی اور تیسری دنیا کی باتیں کر کے ہماری الجھن اور اپنی مشکلات میں کیوں اضافہ کر رہے ہیں)۔مسئلہ قیمت کا نہیں مقدار کا ہے۔گاہک ہر قیمت پر لینے کو تیار ہے۔(زر مبادلہ کا مسئلہ آپ کا اپنا مسئلہ ہے)۔بہرحال آپ اپنی ضروریات کے بارے میں یادداشت لکھ کر میرے عملہ کو دے دیں اور کوئی بات پوچھنا چاہیں تو وہ بھی ان سے پوچھ لیں۔وہ کمیٹی روم میں آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہم اشارہسمجھ گئے اور اجازت چاہی۔ واپسی کے وقت میزبان نے وفد کے دو افراد سے ہاتھ ملایا۔وفد کے دوسرے اراکین نے اس حجر اسود کو دور سے ہی بوسہ دیا اور کمرے سے باہر نکل آئے ،جہاں حبس تھا نہ گھٹن اور نہ ہی خاموشی۔ اچھی خاصی چہل پہل تھی۔

ہم کمیٹی روم میں پہنچے تو وہاں کوئی موجود نہ تھا۔ہمارے سفارت خانہ کا ایک ترجمان کہنے لگا۔آپ کا دورہ بے حد کامیاب رہا۔ یہاں لوگ ہفتوں کے انتظار کے باوجود چئیرمین این آئی او سی تک نہیں پہنچ سکتے اور انہوں نے آپ کا بذات خود استقبال کیا اور جتنا وقت آپ کو دیا ہے اتنا پچھلے چھ ہفتہ میں کسی اور وفد کو نصیب نہیں ہوا۔ کسی نے طنزاً اور کسی نے مروت کے مارے اس سفارت کار کی ہاں میں ہاں ملائی اور دوسرے ہی دن تہران سے رخصت ہو گئے۔

اس دورے میں ہمارے وفد نے مشرقِ وسطٰی کے تیل برآمد کرنے والے تین چار ملکوں کا سفر کیا۔ ایک ملک کے بادشاہ نے وفد سے ملاقات کی اور کہا،آپ تیل اور اس کی قیمت کی فکر نہ کریں،بلکہ پاکستان کی فکر کریں جو بہت بیش قیمت ہے۔آپ اپنی ضروریات میرے وزیر تیل کو بتا دیںوہ پوری کر دی جائیں گی۔البتہ میرا پیغام وزیراعظم بوتو (بھٹو) تک پہنچا دیں کہ وہ پاکستان کی حفاظت کرنے کے فرض سے ایک لمحہ کے لیے بھی غافل نہ ہوں۔ یہ ملک اسلام دشمن قوتوں کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے اور وہ اسے کمزور کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کریں گے"

(لوح ایام،مختار مسعود،صفحہ 59-61)
  


 

سوموار، 3 اکتوبر، 2016

اوریا صاحب! کیا پنجابی ہونا قابل شرم ہے؟؟


کل ہمارے محترم شاہد اعوان صاحب نے اوریا مقبول جان صاحب کی ایک ویڈیو کی طرف توجہ دلائی، جس میں اوریا صاحب فرما رہے تھے کہ انہیں اپنے پنجابی ہونے پہ شرمندگی ہوتی ہے۔ویڈیو شئیر کرنے والے صاحب ایک لسانی جماعت کے ہمدرد تھے۔اس پہ جو پریشان سے خیالات پیش کیے ــــــــــــوہ  پیش خدمت ہیں:

جن صاحب نے یہ ویڈیو شئیر کی ہے،  اسی نسل کے سید مودودی کو بالآخر نظر آیا تھا کہ اسلام کے لیے کام کرنے کے لیے جو حرارت درکار ہے، آج وہ پنجاب اور لاہور کے سوا کہیں دستیاب نہیں اور اقبال جیسا نابغہ وہیں ہے ــــــــــــ اور جس زمانے کی کہانی اوریا صاحب سنا رہے ہیں ، اس زمانے میں پنجاب میں مذہب اور دنیا کے ٹھیکیدار یہی گروہ تھے اور جن سپاہیوں نے اٹک سے چکوال اور رحیم یار خان تک انگریز کے جھنڈے تلے جان دی تھی ، انہیں یہ بتایا گیا تھا کہ انگریز عادل حاکم ہے ـــــــــــــــ روٹی سے مجبور وہ بے چارہ کسان زادہ اپنی ماں کی دعاؤں کے سائے میں انگریز بہادر کی فوج کی وردی پہن لیتا تھا ـــــــــــــــ اسے گالی دینا مجھے اچھا نہیں لگتا ـــــــــــــ آپ یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ سیاسی شعور ان میں نہیں تھا اتنا ـــــــــــ لیکن آپ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہر دس بیس سال بعد کوئی افغانستان یا کسی اور خطے سے یہاں آن دھمکتا تھا ، کبھی سکھ آ جاتے تھے ــــــــــــ تو اس کے لیے ہر کوئی حاکم ہوتا تھا ، مذہب اس سلسلہ میں کوئی بڑا معاملہ نہیں تھا ــــــــــــــ یہ دین اسلام کی خاطر لڑی جانے والی جنگیں کم اور اقتدار کی کشمکش زیادہ ہوتی تھی ـــــــــــــــ اسی کے تسلسل میں انگریزوں کے لڑنے ولے سپاہی کو دیکھیں۔

 جہاں تک مخدوموں ، ٹوانوں اور چودھریوں کی بات ہے ، ان کی صفائی دینے کی ضرورت ہمیں نہیں ہے اور نہ ہی انہیں ــــــــــــ وہ آج بھی حاکم ہیں اور کل بھی تھے ـــــــــــ ان کی منزل کھوٹی کرنے کے لیے ہم جیسے کئی لہو میں نہا گئے، معاش کا چراغ گل کروایا ــــــــ بچوں کا مستقبل برباد کیا ـــــــ صلاحیتیں برباد کیں ـــــــــ خواب دیکھتے لوگ، آدرش کی خاطر سب کچھ تج دیتے لوگ ـــــــ لیکن وہ آج بھی وہیں ہیں ــــــــــــ آپ انہیں غدار کہیں یا بیسواؤں کی اولاد ، انہیں کچھ فرق نہیں پڑتا ۔

یو پی سی پی کے علماء نے واقعی انگریز کے خلاف جنگ لڑی تھی ـــــــــــــــــ اس میں البتہ کوئی شک نہیں ، لیکن اس کے بعد وہیں کے مدارس نے حالات سے سمجھوتہ کر لیا، اور ملکہ عالیہ اور ریذیڈنٹ بہادر کی شان میں قصائد اور استقبالیے پیش کیے حالات سے مجبور ہو کر ـــــــــــــــ ہم انہیں گالی کیسے دے سکتے ہیں ، وہ بڑے لوگ تھے ، حالات سے مجبور ہو گئے۔

اوریا صاحب سے مجھے گلہ ہے کہ کسی خالص علمی اور عملی کام کی طرف یہ نوجوان طبقے، بالخصوص دینی رجحان رکھنے والوں کو موڑ نہیں سکے اور بس ایک جذباتیت سی جذباتیت ہے ـــــــــ بظاہر سطحی سی۔

 خطے اپنا رنگ بدلتے ہیں ــــــــــــــــــ پنجابی ہونے پہ شرم کیوں آتی ہے انہیں ــــــــــــــــــ اپنی کمزوریوں کو مٹی کے سر نہیں ڈالنا چاہیے

فلک شیر

کیہ جاناں میں کون....

نہ میں صافی ، نہ میں صوفی..... نہ میں جاناں رفض  نصب نوں

نہ میں شامی ، نہ میں کوفی..... نہ میں جاناں قدر  کسب نوں

نہ میں سبق فقہ دا پڑھیا........ نہ میں سانگ مذہب دا بھریا

نہ میں جاناں شرق غرب نوں ..... نہ میں جاناں عجم عرب نوں

نہ میں جھوٹا ، نہ میں سچا ..... نہ میں پختہ، نہ میں کچا

چھمک نروئی ، نہ میں ڈچا..... نہ میں جاناں نام نسب نوں

بس ورد الف دا کیتی جاواں.... پچھے میم دے نیتی جاواں

نہ میں جاناں زیراں زبراں.... نہ میں جاناں ضم نصب نوں

فلک شیر
3 اکتوبر 2016
گیارہ بجے دن

منگل، 16 اگست، 2016

کیا یہ صرف کارٹون ہیں؟؟

جب بچہ اس دنیا میں آتا ہے تو اس کی خوراک دودھ ہوتا ہے... وہ بھی کوئی عام دودھ نہیں... ایسا مخصوص قسم کی کمپوزیشن والا ہلکا اور پتلا سا دودھ جو بچے کو انرجی تو دیتا ہے مگر اس کے معدے پر بوجھ نہیں بنتا.... جیسے جیسے بچہ بڑا ہوتا جاتا ہے دودھ کی کمپوزیشن بھی بدلتی ہے... پھر آہستہ آہستہ آپ بچے کو ٹھوس غذا کی طرف لاتے ہو... پہلے بہت نرم، پھر ذرا سخت... غرض کم ازکم بچے کو اس دنیا میں موجود انواع و اقسام کے پکوان کھانے کے لئیے 4 یا 5 سال لگ جاتے ہیں... تب بھی ایک چیز پر غور کریں کہ بچہ ہر ذائقہ فورا ایکسپٹ نہیں کرتا... آہستہ آہستہ... وقت کے ساتھ ساتھ... اگر آپ بچے کو پیدائش پر ہی یا چلو ایک سال بعد کوئی انتہائی روغنی چیز مرچ مسالوں سے بھری ہوئی کوئی ایسی چیز کھلائیں گے، اور کھلاتے چلے جائیں گے تو کیا ہو گا؟ اول تو بچہ کھائے گا نہیں.... دوم، اگر کھائے گا بھی تو اس کا پیٹ خراب ہو جائے گا، طبیعت بگڑ جائے گی، معدے پر گراں گزرے گا... تین، ایسی صورت حال میں اس کی physical growth ہو پائے گی کیا؟ چار، چلو فرض کیا آپ کسی طرح قدرت کے قانون کو توڑنے میں کامیاب ہو گئے اور آپ کو دو ڈھائی سالہ بچہ انتہائی آرام سے صبح دوپہر شام آپ کے ساتھ لاہوری کھابے اور حیدرآبادی بریانی کے ساتھ انصاف کرتا ہے، تو سوچیں اسے معدے کی بیماریاں کتنی چھوٹی عمر میں شروع ہو جائیں گی....

یہ سب باتیں اس لئیے لکھیں کیونکہ میں نا صرف ڈوریمون کے بلکہ اور بھی بہت سی (تقریبا 98%) کارٹون سیریز اور موویز کے خلاف ہوں... جب آپ کا بچہ کھانے کے معاملے میں ایک مخصوص عمر سے پہلے عام کھانے نہیں کھا سکتا، مرچ مسالے ایکسپٹ نہیں کرسکتا، جب آپ کو اس کی جسمانی غذا کے متعلق سٹیپ بائے سٹیپ ہی چلنا ہے، تو روحانی اور ذہنی کے نشونما اور غذا کے متعلق ہم یہ بات کیوں بھول جاتے ہیں؟ کیا آپ اپنے 2، 3 سالہ بچے کو انگریزی کی abcd سکھائے بغیر، انگریزی پڑھنا سکھائے بغیر اسے شیکسپئیر پڑھا سکتے ہیں؟ سائنس کی بنیادی چیزیں سمجھائے بغیر اس کو physics کے بڑے اور پیچیدہ لاز سمجھا سکتے ہیں؟ نہیں.... تو پھر اس قسم کے کارٹونز کے ذریعے اپنے بچوں کو ذہنی کنفیوژن میں کیوں ڈال رہے ہیں؟ انٹرٹینمنٹ کے نام پر جو الم غلم ہم اپنے بچوں کو دیتے چلے جا رہے ہیں وہ ہمارے بچوں پر کیسا اثر ڈال رہا ہے ہم یہ کیوں نہیں سوچتے؟ کیا زبان سیکھنے کا کوئی اور طریقہ نہیں؟ کیا بہتر یہ نہیں کہ ایک مخصوص عمر میں پہنچنے کے بعد جب ماں باپ کو لگے کہ ہاں ہمارا بچہ اب اس قسم کی بات سمجھ سکتا ہے تب اس کو اس کے والدین جنسی تربیت دیں؟ ایک بات ذہن میں رکھیں، بچوں کے دماغوں کے "taste buds" نہیں ہوتے...جو بھی چیز آپ دکھائیں گے، وہ ہر چیز کو بڑے آرام سے ایکسپٹ کرتے جائیں گے.... اگر تشدد اور اس قسم کی خرافات دکھائیں گے تو بچے بےحس ہو جائیں گے... میں نہیں سمجھتی کے ایک مخصوص عمر سے پہلے، جب تک ماں باپ بچوں کو reality اور fantasy کا فرق نہ سمجھا دیں اور بچے اچھی طرح سمجھ نہ جائیں، بچوں کو ٹی وی کے سپرد کرنا چاہئیے... 

اگر آپ انٹرٹینمنٹ کا بہانہ بنا کر اپنے بچوں کو ٹی وی، انٹر نیٹ اور کارٹونز کی آغوش میں چھوڑتے ہیں تو ایک بات یاد رکھیں یہ بچوں کے ساتھ کھلی دشمنی ہے... اس طرح بچے کے اندر کی پرتجسس روح کہیں سو جاتی ہے... بچوں کے لئیے یہ دنیا ایک عجوبہ ہے، روز نئی چیز ایکسپلور کرتے ہیں، دیکھتے ہیں، پرکھتے ہیں...ان کے لئیے "انٹرٹینمنٹ" کا انتظام پہلے سے موجود ہے، بس انہیں اپنے بڑوں کی رہنمائی چاہئیے...انہیں بے بی اسٹیپس لے لے کر ہی بڑھنے دیا جائے تو اچھا ہے...عقلمندی یہی ہے کہ ان کو معصوم ہی رہنے دیا جائے، بچے ہی رہنے دیا جائے... جس عمر میں آپ کے بچے کو راہ چلتے ہوئے کنارے پر لگے کسی ننھے سے پھول کو بیٹھ کر غور سے دیکھنا چاہئیے، یہ سوچنا اور پوچھناچاہئیے کہ وہ جو کل دیکھا تھا وہ لال تھا اور یہ پیلا ہے، کیوں؟ یہ پوچھناچاہئیے یہ یہاں کیسے کھڑا ہے؟ یہ پہلے تو نہیں تھا آج یہاں کدھر سے آگیا؟اس عمر میں آپ کے بچے "رومانس"، "ایکشن"، "تھرل"، "فیری ٹیل" نامی خرافات نا صرف دیکھ رہے ہیں بلکہ سیکھ بھی رہے ہیں. ہم لوگوں میں یہ common sense کیوں نہیں ہے کہ اگر "رومانس" "سیکھنے" کے لئیے 2، 3 سال کی عمر ہی قدرت کو منظور ہوتی تو پھر بلوغت کی عمر ڈیڑھ سال ہوتی اور آپ اپنے 3،4 سالہ بچوں کی شادیاں کر رہے ہوتے.... (یہ نکتہ ان تمام لوگوں کے لئیے جو سمجھتے کہ وہ بچوں کو اس قسم کےکارٹونز سے "سیکھا" رہے ہیں اور "تربیت" دےرہے ہیں، میرا ان سے سوال ہے کہ کیا آپ اپنے بچے کو 2، 3 سال کی یا 6، 7 سال کی عمر میں کیمسٹری سکھانے کے لئیے اسے کسی انتہائی بڑی اور اچھی کیمسٹری لیب میں بند کر دیں گے؟ یہ جانتے ہوئے کہ وہاں کتنے خطرناک کیمیکلز بھرے پڑے ہیں، اور آپ کے بچے کو پریکاشنز پڑھنا تک نہیں آتیں؟). ہم سب جانتے ہیں اور مانتے ہیں کہ بچے وہی کرتے ہیں جو دیکھتے ہیں...

ایک بار سوچیں جب بچہ ٹام کو جیری پر تشدد کرتے دیکھتا ہے، دیکھتا ہے کہ ٹام نے ہتھوڑا اٹھایا اور جیری پر دے مارا، لیکن کچھ دیر بعد جیری بالکل ٹھیک ٹھاک شرارتیں کرتا پھر رہا ہے تو بچے کو اس مخصوص تشدد بھرے عمل کی سنگینی تو نہ سمجھ میں آئی نا... اب اگر خدانخواستہ کسی دن وہ اپنے کسی دوست یا چھوٹے بہن بھائی کے ساتھ "پریکٹیکل" کر بیٹھے تو کیا بنے گا؟ نقصان کا ذمےدار کون ہو گا؟ آپ نے تو سوچ لیا کہ بچہ کچھ غلط کرےگا تو سمجھا دیں گے، لیکن کبھی یہ سوچا کہ اگر موقع ہی نہ ملا سمجھانے کا تو؟ آپ کا بچہ دیکھتا ہے کہ سپر ہیرو کھڑکی سے چھلانگ لگاتا ہے اور ہوواوں میں اڑتا پھرتا ہے، کتنا فیسینیٹنگ ہےنا یہ، اب جب وہ خود اماں کا لال دوپٹہ باندھے کھڑکی سے چھلانگ لگائے گا تو کیا بنے گا؟ کبھی غور کیا آپ نے کہ ڈزنی فلموں میں اکثریت ایسی ہےکہ ماں پہلے سے مر چکی ہے... کیوں؟ یہ سوچا کیا؟ کیونکہ مائیں گھر کو گھر بنائے رکھتی ہیں، بچوں کو باہر نہیں دیکھنا پڑتا توجہ کے لئیے، محبت کے لئیے، خصوصا بیٹیوں کو، کیونکہ ان کی بہترین سہیلیاں مائیں ہوتی ہیں... مگر بچے یہ بات نہیں سمجھتے.... 16،17 سال کی ڈزنی پرنسز کو گھر سے پہلا قدم نکالتے ہی خوابوں کا شہزادہ مل جاتا ہے... 

آپ کی بچیاں کیا سیکھ رہی ہے؟ یہی کہ یہ جو گھر میں ایک مما نامی عورت ہے یہ جو مجھے باہرنہیں جانے دیتی، گھر میں رہنے کی، اجنیبیوں سے نہ ملنے کی نہ بات کرنے کی تلقین کرتی ہے تو یہ بالکل رپنزل کی سوتیلی ماں جیسی ہے، اور وہ تو فلم کی ولن تھی، وہ تو ایک بری عورت تھی... جب بچی دیکھتی ہے کہ میری ماں مجھے یہ کہہ رہی ہے کہ بٹیا گھر کے چھوٹے موٹے کاموں میں ہاتھ بٹاو وغیرہ تو وہ عورت سنڈریلا کی سوتیلی ماں جیسی لگنے لگتی ہے... جب بچی کو ایک شخص کہتا ہے کہ آو تمہیں دنیا گھما کر لاوں تو وہ اسے فلین رائیڈر (tangled فلم کا ہیرو، ایک چور اچکا) لگنے لگتا ہے...بچے معاشرے میں خوبصورت نقاب کے پیچھے چھپے گھناونے چہروں اور ان کی آنکھوں میں موجود گندے عزائم کو نہیں جانتے، آپ تو جانتے ہیں نا!.... کیوں نہ اس سب خرافات کی بجائے بچوں کو creattive learning کی طرف لایا جائے؟
انہیں اچھی اور مثبت باتیں سکھائی جائیں، ایسا لٹریچر پڑھنے کی عادت ڈالی جائے جو ان کی معصومیت کو برقرار رکھے اور انہیں معاشرے کا اچھا انسان بننے میں مدد دے؟ کیوں نہ انہیں physical activities میں مشغول رکھا جائے؟ مجھے یقین ہے اس کا جواب ہوگا کہ ماں باپ کے پاس وقت نہیں ہے... وہ کیسے کریں یہ سب؟ تو جناب ایک آخری بات اس متعلق.... اگر آپ کے پاس وقت نہیں ہے تو ایسی معصوم اور پاک روحوں کو وہیں رہنے دیں جہاں سے وہ آئے، دھرتی پر پہلے ہی بہت غلاظت ہے، مزید ڈھیر مت لگائیں، خود کو بھی پریشانی ہو گی اوردوسروں کو بھی......

وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ صرف کارٹونز ہی کیوں؟ ایک مخصوص پروگرام ہی کیوں بین کیا جائے؟ صرف بچوں پر ہی کیوں پابندی لگے وغیرہ، ان سے میرا ایک سوال ہے کہ اگر خدانخواستہ آپ کے گھر آگ لگ جائے، آگ بجھانے والا عملہ آنے میں تاخیر سے کام لے، تو آپ کیا کریں گے؟ یقینا ایک بالٹی اٹھائیں گے پانی لیں گے اور آگ بجھانے کی کوشش شروع کر دیں گے.... اب اگر ایسا ہو کہ ایک مجمع جمع ہو جائے وہاں اور آپ پر لعن طعن شروع کر دے اور کہے کہ جی ہم تو تمہارے اس عمل کےبہت خلاف ہیں... یہ کیا کیا؟ اس دیوار پر کیوں ڈالا؟ اس پر کیوں نہیں ڈالا؟ باقی آگ دیکھائی نہیں دیتی کیا؟ صرف ایک بالٹی سے کیا ہوگا؟ وغیرہ وغیرہ تو کیسا لگے گا آپ کو؟ کیا آپ چھوڑ کر بیٹھ جائیں گے؟ یہ جانتے ہوئے کہ اس گھر کےاندر آپ کا خاندان آپ کے بیوی بچے والدین یا اور رشتہ دار موجود ہیں، آپ انہیں جلنے دیں گے؟ نہیں نا؟ تو پھر اس معاملے میں کیوں؟ ہماری approch یہ کیوں نہیں ہے کہ ہاں یہ پروگرام بھی بین ہونا چاہئیے اور اس کے ساتھ دوسرے بھی جن کے ذریعے سے ہماری اقدار متاثر ہو رہی ہیں.....

کارٹونز کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ننھے منے دماغوں پر بہت جلدی اثر انداز ہوتے ہیں، ناصرف یہ بلکہ بہت چھوٹی عمر سے بچے وہ سب سیکھنا شروع کرتے ہیں جو کہ ان کی معصومیت کو تباہ کر دیتا ہے، ان کے دماغوں کو ماووف کردیتا ہے، وہ روبوٹ بنتے جاتے ہیں... پاکستانی میڈیا کے دوسرے بہت سے پروگرامز بھی قابل مذمت ہیں.... بہت آہستہ آہستہ ہماری نسلوں کو تباہی کی طرف لایا گیا ہے.... آج سے 15، 20 سال پرانا پروگرام اٹھائیے اور آج کےپروگرام سے اس کا موازنہ کیجیے... آپ کے سامنے حقیقت خودبخود کھل جائے گی....میڈیا کا ترقی کرنا، نئی ٹیکنالوجیز کا آنا اور تباہ کن مواد اور خرافات کا ایک مثبت موضوع بن جانا یہ دونوں بہت مختلف چیزیں ہیں... اپنے گھروں میں دیکھیے، روایات اور اخلاقیات کس موڑ پر ہیں؟ کیا ویسی ہی ہیں جیسے آپ کے باپ دادا کے دور میں تھیں؟ خدارا اس گرتے چلے جانےکو "ترقی" اور "آگے بڑھنا" مت کہئیے گا.چلیں پرائم ٹائم ڈراموں کی بات کرتے ہیں کیونکہ قوم کی ماووں اور بیٹیوں کا یہ پسندیدہ پروگرام ہوتا ہے، اب سے تقریبا 5 سال قبل ڈراموں کا موضوع نوجوان نسل اور ان کے درمیان پلنے والی محبت تھی، جس کا دشمن پورا زمانہ ہوتا ہے، مگر ڈرامے کے اختتام پر وہ "محبت" حاصل ہو جاتی تھی کیونکہ وہ پریم پنچھی بالکل صحیح تھے اور پورا زمانہ غلط.... اب موضوع تھوڑا آگے بڑھ چکا ہے...اب موضوع شادی شدہ افراد ہیں... پرائم ٹائم کے ڈراموں کو اٹھا کر دیکھیں صرف... 90% ڈراموں کا موضوع شادی شدہ افراد کی، بچے ہو جانے کے باوجود، ناکام ازدواجی زندگی ہے.... طلاق کا ہونا تو ایک بہت عام سی بات دکھائی جاتی ہے، اور پھر اس کے بعد خاتون یا حضرت کی دوسری شادی... کیا دیکھ رہے ہیں ہم؟ کیا سیکھ رہے ہیں ہم؟ کیا سیکھا رہے ہیں ہم؟ 

اس قسم کے ڈرامے دیکھانے کے بعد ہم روتے ہیں کہ معاشرے میں طلاق کی شرح کیوں بڑھ گئی؟ ہم پریشان ہوتے ہیں کہ ہماری بچیاں اپنے گھروں میں "خوش" نہیں، گھر "بس" نہیں رہے..... ایک وقت تھا ماں باپ بچیوں کو سیکھاتے تھے کہ "اب تمہارا جنازہ ہی نکلنا چاہئیے اس گھر سے" اوپر سے دیکھیں تو یہ جملہ بہت سخت لگتا ہے، ایسے لگتا ہے ماں باپ کے سینے میں تب پتھر ہوتے تھے، مگر حقیقت یہ ہے کہ تب دل ہوتے تھے، احساس ہوتے تھے، فہم ہوتا تھا اوراب بس پتھر، وہ بھی شاید عقلوں پر.... تب اس جملے سے مراد یہ ہوتی تھی کہ بٹیا نباھنا.... جیسے بھی حالات ہوں، رشتے نباھنا.... اور بچیاں نباہ کرتی تھیں... سب کچھ سہتی تھیں.... مگر "گھر" بنا لیتی تھیں.... 5 سال بعد، 10 یا 20 سال بعد وہی سسرال ان بچیوں کے گن گاتا تھا.... اور اب.... اب شادی کے پہلے ماہ ہی بات طلاق تک پہنچتی ہے....اور میں نے ایسا دیکھا ہے، یہ مبالغہ آرائی نہیں....

خیر موضوع سے بہت ہٹ گئے مگر خدارا کچھ خیال کریں.... اپنی اقدار کا، اپنی روایات کا، خود کو اور اپنے اہل و عیال کو اس دنیا اور ہمیشہ کی دنیا والی آگ سے بچا لیں.... کچھ وقت نکالیں.... اور غور سے دیکھیں، نوٹ کریں، آپ کے بچے، آپ کےگھر والے، کیا دیکھ رہے ہیں، کیا سیکھ رہے ہیں؟ کہیں وہ انجانے میں تباہی کے راہی تو نہیں بنتے جا رہے..... تباہی بھی وہ جو صرف ایک فرد نہیں پوری نسلوں کو نگلتی جا رہی ہے.


محترمہ ماہی احمد

اتوار، 14 اگست، 2016

صور من حیات الصحابہ اور سعید بن عامر جمحی رضی اللہ عنہ

ہمارے ننھیال کے گاؤں کی چھوٹی سی مسجد میں ایک الماری تھی... ایک دن اس میں سے پرانے مذہبی مجلے اور رسالے ڈھونڈتے ڈھونڈتے ایک عربی کتاب ہاتھ لگی.... عربی کی جو تھوڑی بہت شد بد تھی... اس کے سہارے پہلے چند صفحات پڑھنے کی کوشش کی... پتا چلا کہ کتاب اصحاب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سوانح پہ مشتمل ہے.... مسجد میں اکیلا بیٹھا تھا ــــــــ پہلا باب سعید بن عامر جمحی رضی اللہ عنہ کے تذکار پہ مشتمل تھا ــــــــ پتا نہیں کتنی دیر میں وہاں بیٹھا روتا رہا.... کیا آدمی تھے سعید.... کیا مشکل مثالیں چھوڑ گئے... ہم اکیسویں صدی کے خواہشات کے اسیر ردی لوگ اور کہاں یہ ہیرے موتی.....
پھر سوچا کہ اس کتاب کا ترجمہ کروں... دو تین اصحاب کے تذکار ترجمہ کیے.... پھر کسی نے بتایا کہ اس کا ترجمہ شیخ محمود احمد غضنفر مرحوم کر چکے ہیں.... بعد میں شیخ سے بھی تفصیلی ملاقاتیں رہیں.... مگر اس کتاب کی پہلی قراءت میرے لیے آج بھی سرمایہ ہے.... اور روز حشر بھی ان شاءاللہ ہو گی.....
سوچتا ہوں کہ صرف تبرکاً اس کا ترجمہ کروں..... واللہ الموفق

اب اس کے پہلے باب کا ایک ٹکڑا ملاحظہ فرمائیں :

حمص والوں کا وفد لوٹا تو امیرالمومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کے ہاتھ سعید بن عامر رضی اللہ عنہ کے لیے ایک ہزار دینار کی تھیلی بھجوائی..... کیونکہ حمص والوں نے اپنے اس گورنر کے فقر کی داستان امیر المومنین کو سنا دی تھی..
سعید رضی اللہ عنہ کو یہ دینار پہنچے تو فرمایا... انا للہ و انا الیہ راجعون
اہلیہ نے پوچھا... کیا ہوا؟... کیا امیرالمومنین وفات پا گئے؟
سعید نے کہا.... اس سے بھی بڑا معاملہ درپیش ہے
دوبارہ سوال کیا.... کیا مسلمانوں پر کوئی بڑی مصیبت آ پڑی ہے؟
فرمایا.... اس سے بھی بڑی مصیبت آ پڑی ہے
پوچھنے لگیں.... اس سے بڑی کیا مصیبت ہے... ہوا کیا ہے؟
فرمانے لگے.... دنیا میرے گھر آ گھسی ہے کہ میری آخرت کو برباد کر دے.... اور ہمیں فتنہ میں مبتلا کر دے..
اہلیہ کو دیناروں کی خبر نہ تھی.... کہنے لگیں کی دنیا گھس آئی ہے تو نکال باہر کیجیے
سعید بن عامر رضی اللہ عنہ نے فوراً کہا... کیا اس سلسلے میں میری مدد کرو گی؟
انہوں نے کہا.... جی ضرور
سعید رضی اللہ عنہ نے دیناروں کی تھیلی ان کے حوالے کی.... کہ اسے مسلمانوں کے فقراء میں تقسیم کر دیجیے

فلک شیر

بدھ، 20 اپریل، 2016

ایلیا ــــــــــ ایلین


شاید پہلے آسمان کے آس پاس، بادلوں کے پرّوں کی اوٹ میں ایک چھوٹا جزیرہ ہے ، جہاں صرف دیوی دیوتا بستے ہیں۔ یہ دیوی دیوتا اس جزیرے میں سکون اور مسرت کے تمام لوازمات کے ساتھ مطمئن زندگی گزارتے ہیں ۔۔۔۔۔ انہیں ہر آزادی حاصل ہے ۔۔۔۔۔۔ ہاں ایک قید ہے، کہ زمین والوں سے تعلق قائم نہ کیا جائے ۔۔۔۔۔۔۔ جیسے آدم کو پابند کیا گیا تھا، کہ خوشہ گندم سے احتراز کرے گا۔

شاید اسی وجہ سے وہاں ایک تجسس ضرور ہے ، زمین کے بارے ، اس مٹی کی کشش کے بارے ۔ یہی وجہ ہے، کہ کبھی کبھارجزیرے کا کوئی باسی بغاوت پہ اتر آتا ہے اور زمین زادوں کے درمیان آ رہتا ہے۔ وہاں کی لذتیں چھوڑ کر یہاں کے آزار مول لے لیتا ہے۔صدیوں کا سیدھا راستہ چھوڑ چھاڑ کر جنگلوں صحراؤں کو جانے والی پگڈنڈی پہ آ نکلتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ جیسے کوئی ستاروں کا سفر ترک کر کے ٹلہ جوگیاں کو جا نکلے اور جوگ لے لے ، کسی انگ بھبوت مسافر کے دامن سے لپٹ جائے یا گلیوں گلیوں گاتی بنجارن کے پیچھے پیچھے چل پڑے۔عبادت کرواتے کرواتے شاید وہ تھک جاتے ہیں ، کہ اپنے ہی غلاموں کو معبود بنا لیتے ہیں ۔ شاید عقیدت اور خدائی کا سنگھاسن اب انہیں کانٹوں کا بستر لگنے لگتا ہے ، کہ خود زمین پہ اتر آتے ہیں ، کہ کوئی انہیں قدموں تلے روندے ، ان کی انا کو جھٹلائے، ان کی تذلیل کرے، ان کو چھوٹا کرے، ان کی کانٹ چھانٹ ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محبوبیت کا ہالہ انہیں محض حسین الجھن لگنے لگتا ہے ، سو وہ ہجر و فراق کے ہاتھوں سلجھنے کی خواہش لیے زمین زادوں کے پاس آ بیٹھتے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ سانپ اور خزانہ ۔۔۔۔ سوز اور ساز ۔۔۔۔۔۔۔۔ موت اور حیات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ درد
اوردوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صرف زمیں زادوں کے لیے لکھ دی گئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ صرف زمیں زادوں کے لیے ۔

ایلیا انہی دیوتاؤں میں سے ایک تھا ۔۔۔۔۔ خود شکستگی پہ مائل ۔۔۔۔۔ آسمان کا مہاجر اور اسی سے جنگ پہ آمادہ ۔۔۔۔۔۔ اس جنگ کے لیے زمیں والوں کا لشکر ترتیب دیتا اور خیال ہی خیال میں صف آرائی کرواتا ۔۔۔۔۔۔۔ یہ قائد لشکر کبھی میمنے سے آگے بڑھتا اور کبھی میسرے سے پلٹ کر مرکز میں بالوں کو لہراتا سب سے آگے دکھائی دیتا ۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن پیچھے پلٹ کر دیکھتا، تو ایک سپاہی بھی نظر نہ آتا ۔

صاحبو! ایلیا وہ سورما تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ جو خود کو فتح کرنے کی جنگ میں اپنی شکست کا سامان کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ لحظہ لحظہ ۔۔۔۔۔ شعر شعر ۔۔۔۔عشق عشق ۔۔۔۔۔۔ نثر نثر ۔۔۔۔۔۔۔۔ شہر شہر ۔۔۔۔۔۔۔۔ ملک ملک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ آسمانی زمیں زاد ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ایلیا!

ایلیا اس جزیرے میں مضطرب تھا ۔۔۔۔۔ سو امروہہ میں آن اترا ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہاں جی نہ لگا ، تو کراچی کو آ نکلا ۔۔۔۔۔۔۔ ہر حسین چہرہ ،خیال، شعر، نظریہ اور مجلس دیکھتے ہی اس کے اندر کا دیوتا جاگ اٹھتا اور وہ چہار سمت چھائی منافقت کے عین درمیان ہُو حق پہ اترآتا۔پھر وہ اگر مگر، کھلے چھپے، چونکہ چنانچہ اور تقدیس و تقیہ کا سہارا کسی صورت نہ لیتا تھا ۔اظہار سے اسے مطلب تھا ۔۔۔۔۔۔۔ اظہارِ ادراک سے ۔۔۔۔۔۔۔ تفہیم اور استقرار و قیام اس مضطرب روح کا مسئلہ تھا ہی نہیں ۔وہ سمجھانے نہیں اترا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ ہی سمجھے جانے ۔ ترس کھانا اسے پسند تھا اور نہ ہی ترس کھایا جانا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محبت تو کھلی کھلی ، نفرت تو بے طرح ۔

طے شدہ پیمانوں پہ پورا اترنے کا اسے کوئی شوق نہ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ایک کے بعد ایک سے الجھتا رہا ۔۔۔۔۔۔ الجھ الجھ کر وہ ریشم کے اس گولے کی طرح ہو گیا، جس میں سے سرا تلاش کرنا ممکن نہیں رہتا ۔
اگلے زمانوں میں پچھلے زمانوں کا آدمی ۔۔۔۔۔۔ یا ۔۔۔۔۔۔۔۔ پچھلے زمانوں میں اگلے زمانوں کا آدمی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ابھی طے ہونا باقی ہے ۔
فلک شیر



بدھ، 16 مارچ، 2016

Dead Poets Society -------------- مجلسِ شعرائے رفتہ (ایک فلم پہ تاثرات)

Dead Poets Society ----------مجلسِ شعرائے رفتہ

عزیزم عبدالسمیع ہمارے ارشد تلامذہ میں سے ہیں۔ سوال سے اُن کی محبت نے ان کے علم و معلومات کو یک رُخا نہیں رہنے دیا ۔علم کے تمام مصادر ومخارج تک رسائی کی وہ پیہم کوشش میں رہتے ہیں ۔ آج کل انجینیرنگ یونیورسٹی لاہور میں زیرِ تعلیم ہیں ۔ دو ایک روز قبل انہوں نے ایک فلم دیکھنے کی طرف توجہ دلائی اور ساتھ ہی یہ بھی ، کہ اس پہ کچھ تبصرہ بھی کروں۔ فلم کا نام “Dead Poets Society”ہے اور 1989ءمیں بنی تھی۔  فلم دیکھنا ایک مشکل کام ہے، یعنی اڑھائی تین گھنٹے جم کر بیٹھنا اور اس دوران فوکس ایک جگہ رکھنا ---الا یہ کہ کہانی اتنی جاندار اور موضوع اتنا لگ ہو،کہ آپکو باندھ لے اور ہلنے نہ دے۔ خیر -- یہ فلم ہم نے دیکھ ہی ڈالی اور ایک دفعہ ایک صفحہ لکھ لیا تھا، کہ بجلی چلی گئی اور لکھا ہوا ضائع ہو گیا ۔ عبدالسمیع سے معذرت کی ،لیکن آج دوبارہ موقع ملنے پر کچھ لکھا ہی گیا--اور وہ پیش خدمت ہے۔

فلم کے انگریزی نام کا ترجمہ ہم نے 'مجلسِ شعرائے رفتہ'کیا ہے –جو تاثر نام سے قائم ہوتا ہے، کہانی اس سے کچھ مختلف ہے ۔مرکزی موضوع، ذیلی موضوعات، پبلک سکول کی روایتی فضا،جانداراداکاری، دیکھے بھالے کردار اور فلم سے لا شعوری طور پر سیکھی گئی چیزیں ---سب مل کر اسے  ایک قابلِ دید پیکج بناتے ہیں۔

یہ ایک امریکی پبلک سکول کی کہانی ہے—جو 'کیریر بوائز' تیار کرتا ہے اور اسی کی شہرت بھی رکھتا ہے۔والدین بھی اس پہ اسی وجہ سے فریفتہ ہیں اور انتظامیہ بھی اپنی اسی کامیابی پہ شاداں ہے۔سکول کا ماحول؛ روایتی نظم و ضبط—گاہے روح کو بوجھل کر دینے والے نظم و ضبط، سخت گیر نظام الاوقات،کلاسیکی تصور تعلیم   اور 'طے شدہ منازل کے حصول کے لیےطے شدہ ڈرلز ' کا مجموعہ ہے۔ اساتذہ اور طلباء کے درمیان 'خوف سے پھوٹنے والا احترام' زیادہ اور 'محبت سے جنم لینے والا اتباع'کم دکھائی دیتا ہے۔یہ منظرنامہ وہاں دہائیوں سے جاری ہے-- اس کی چھاپ بڑی گہری ہے –اور اسی کو ہی اس ادارے کی کامیابی کی کنجی بھی سمجھا جاتا ہے۔ایسے میں وہاں کیٹنگ نامی ،انگریزی کے ایک استاد وارد ہوتے ہیں ،جو اسی کالج کے پڑھے ہوئے اور کافی ذہین واقع ہوئے ہیں۔بچوں کو پڑھانے سکھانے کے لیے وہ غیر روایتی طریقے استعمال کرتے ہیں ۔ شاعری اور ادب کی وہ تعریفیں، جو نقاد لوگ اپنی موٹی موٹی کتابوں میں لکھ گئے ہیں –اُن کی بجائے وہ شعر وادب کو ایک زندہ، لطف اٹھانے کی چیزاور زندگی بدلنے والے مواد کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ 'لفظ 'ان کے نزدیک محض امتحان میں کامیابی کا 'کھل جا سم سم'نہیں—یہ ایک زندہ تر چیز ہے، جو اثر پذیری میں کسی بھی اور زندہ چیز سے کم نہیں ہے -- یہ منزل بھی ہے اور نشانِ منزل بھی ۔

کیٹنگ اپنے طلباکو "Capri Diem"یعنی "حال کو گرفت میں لاؤ"کا درس دیتے ہیں—اپنے خوابوں کی قدر کرنے اور اُن کے لیے جینے کا درس دیتے ہیں۔ظاہر ہے، ایسی کوئی بھی سرگرمی ایک جامد روایات کے ادارے کے حکامِ بالا کو کسی طرح نہ بھائے گا –یہی کچھ کیٹنگ صاحب کے ساتھ ہوا ،انہیں ڈھکے چھپے الفاظ میں 'سمجھایا 'جانے لگا۔

اپنے زمانہ طالب علمی میں کیٹنگ نے اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ مل کر 'Dead Poets Society' بنائی تھی۔اس سوسائٹی کے ارکان شعرائے قدیم اور ادبائے سلف کے نثر اور نظم پارے جنگلوں ویرانوں میں جا کر پڑھتے اور اس سے زندگی، حرارت،یقین اور خوداعتمادی اخذ کرتے۔کیٹنگ نے اپنے طلباء کو اس سوسائٹی کو ازسرِ نو زندہ کرنے کا کہا۔طلباء کا ایک گروپ ، جو کیٹنگ کے پیغام سے متاثر تھے،وہ ایساکر گزرتا ہے۔یہ تجربہ اُن بچوں میں زدگی کو مختلف زاویہ نظر سے دیکھنے کی صلاحیت اور اعتماد پیدا کرتا ہے۔کہانی اپنے اختتام کی طرف بڑھتی ہے –انہی بچوں میں سے ایک اداکاری کا بے حد شائق ہوتاہے ،لیکن اس کے والد اسے اپنی طے شدہ منزل کی طرف جانے کے لیے ہانکتے رہتے ہیں۔وہ بچہ پڑھائی میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے –لیکن ساتھ ہی ساتھ اپنے اس خواب کی تکمیل بھی چاہتا ہے۔بالآخر اسے ایک ڈرامے میں مرکزی کردار نبھانے کا موقع مل جاتا ہے—جسے وہ انتہائی کامیابی سے نبھاتا ہے—لیکن اس کے والد عین اس کی پرفارمنس کے دوران اسی تھئیٹر میں آ ن پہنچتے ہیں اور اسے  گھر واپس لے جاتے ہیں۔بے بسی،غصے،خود کو نہ سمجھے جانے کے کرب اور اسی قبیل کے دیگر جذبات کے زیرِ اثر وہ بچہ اسی رات خود کُشی کر لیتا ہے –اس اکلوتے بھائی کی خود کُشی سکول میں بھونچال لے آتا ہے۔انتطامیہ کو موقع مل جاتا ہے اور وہ ڈیڈ پوئیٹس سوسائٹی کے ارکان کو ڈرا دھمکا کر کیٹنگ کے خلاف بیان لے لیتی ہے اور یوں کیٹنگ کو کالج سے نکال  دیا جاتا ہے۔

کالج سے نکلتے ہوئے پرنسپل کے چیخنے چلانے کے باوجود بچے کیٹنگ سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے بنچوں پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور اسے 
"O Captain , May Captain"
کہہ کر رُخصت کرتے ہیں۔

یہ تو تھی مختصر کہانی –اس پہ کچھ تاثرات بھی دیکھ لیجیے:

٭کوئی بھی نثر پارہ، شعر،کہانی یا ڈرامہ –مکمل سچ یا پورا جھوٹ نہیں ہوتا۔سو کسی بھی چیز کاتاثر قبول کرنے اور اس سے نتائج  اخذ کرنے کے دوران اس بات کو شعور ی سطح پہ رکھنا لازم ہے۔

٭ ہر پچھلی نسل اپنے خوف تو اگلی نسل کو زبردستی ہدیہ کرتی ہے –مگر ساتھ ہی ساتھ امید اورخواب کے وہ روزن دیکھنے سے اس سے بھی زیاددہ سختی سے روکتی ہے ،جنہیں وہ بھی دیکھنا چاہتے تھے ،لیکن روک دیے گیے۔ بچوں کو ان کےعصر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور  اسلاف کی روایات سے آشنائی دےکر ایک کامیاب اور متوازن شخصیت کی تعمیر ایک مشکل کام ہے۔کسی نسل کی کامیابی اسی میں ہے، کہ وہ اپنے سے اگلی نسل کے ہاتھ پاؤں باندھنے اور مادر پدر آزاد چھوڑنے کے درمیان کا راستہ اختیار کرے۔یہ رستہ مشقت،قربانی اور پیہم جہد کا راستہ ہے—اسی لیے ہر نسل اسے اگلی نسل کے لیے چھوڑ دیتی ہے—بالعموم ۔

٭ادنیٰ استاد طالب علم کے پاس پہلے سے موجود علم و عمل کو بھی برباد کردیتا ہے—اوسط استاد طالب علم کو محض امتحان کے لیے تیار کرتا ہے –جب  کہ اعلیٰ استا د اسے زندگی کے لیے تیار کرتا ہے،اُسے زندہ کر دیتاہے،زاویہ ہائے نظر تبدیل کرتاہے—خوابوں کے لیے مسلسل جہد کا درس نہیں دیتا –اُس کے لیے اس کی شخصیت کو ڈھال دیتا ہے ، تبدیل کر دیتا ہے—اسے خبر بھی نہیں ہوتی اور وہ کچھ کا کچھ ہو جاتا ہے –کہیں کا کہیں پہنچ جاتا ہے۔

٭اُستاد کو یہ شرف تو بہرحال حاصل ہے،کہ کسی بھی قوم کی آئندہ نسل کی تعمیر کی اولین ذمہ داری ، اسی کے سپرد رہے گی۔اُسے انسانی وسائل ،خام مال کی شکل میں ہر سال وافر مہیا کیے جاتے ہیں—اب یہ اس پہ ہے،کہ  وہ اُن کو کیسے برتتا ہے اور کس حد تک زندہ،متحرک،صاحبانِ علم و عمل اور اپنے زمانے سے بھی آگے بڑھ کر آئندہ زمانوں کے چیلنجز سے نپٹنے کے قابل انسان تعمیر کرتا ہے۔ وہ وسائل کی کمی کا بہانہ بنا سکتا ہے—زمانے کی ناقدری اور دنیاوی مال و متاع سے کمتر حصے کا گلہ کر سکتا ہے –لیکن وہ اس حقیقت اور عظیم حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا—کہ زمانہ ہر برس اپنے جگر کے ٹکڑے اس کے دامن میں لا ڈالتا ہے –جس سے قیمتی متاع بہرحال کوئی اور نہیں ہوتی—تو اب وہ ادنیٰ رہتا ہے—اوسط بنتا ہے—یا اعلیٰ دائرہ میں داخل ہو کر میلہ لوٹ لیتا ہے—اس دنیا میں بھی اور اُس دنیا میں بھی—یہ چوائس بہرحال اُسی کی ہے ۔

٭والدین اور اساتذہ کو بچے کے سامنے کیریر کا بُت اتنا بڑا کر کے نہیں دکھانا چاہیے، کہ بچے میں موجود متنوع صلاحیتیں –جو خدا نے یقینا اسے برتنے کے لیے نوازی ہیں –اُن کا قتلِ عام ہو جائے ۔

اور آخر میں یہ کہ –اگر آپ اس فلم کا ملخص مُرشد اقبالؒ کے الفاظ میں سننا چاہیں –تو وہ کچھ یوں ہے:

عاقبت منزلِ ما، وادی خاموشان است
حالیہ غلغلہ در گنبد افلاک انداز

آخر ہماری منزل ایک شہرِ خاموشاں ہے ---------تو آج آسمانوں کے اس گنبد تلے جتنا غوغا کر سکتے ہو، کر لو
فلک شیر 

اتوار، 28 فروری، 2016

اے جذبہ دل گر میں چاہوں ــــــــــــ بہزاد لکھنوی



اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے
منزل کے لیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے

کشتی کو خدا پر چھوڑ بھی دے، کشتی کا خدا خود حافظ ہے
مشکل تو نہیں ان موجوں میں بہتا ہوا ساحل آ جائے

اے شمع! قسم پروانوں کی، اتنا تو مری خاطر کرنا
اس وقت بھڑک کر گُل ہونا جب بانیِ محفل آ جائے

اس جذبۂ دل کے بارے میں اک مشورہ تم سے لیتا ہوں
اس وقت مجھے کیا لازم ہے جب تم پہ مرا دل آ جائے

اے راہبرِ کامل! چلنے کو تیار تو ہوں بس یاد رہے
اس وقت مجھے بھٹکا دینا جب سامنے منزل آ جائے

اس عشق میں جاں کو کھونا ہے، ماتم کرنا ہے، رونا ہے
میں جانتا ہوں جو ہونا ہے، پر کیا کروں جب دل آ جائے

ہاں یاد مجھے تم کر لینا، آواز مجھے تم دے لینا
اس راہِ محبت میں کوئی درپیش جو مشکل آ جائے

اب کیوں ڈھونڈوں وہ چشمِ کرم، ہونے دے ستم بالائے ستم
میں چاہتا ہوں اے جذبۂ غم، مشکل پسِ مشکل آ جائے

اے برقِ تجلّی کیا تُو نے مجھ کو بھی موسیٰ سمجھا ہے؟
میں طُور نہیں جو جل جاؤں، جو چاہے مقابل آ جائے

اے دل کی لگی! چل یونھی سہی، چلتا تو ہوں ان کی محفل میں
اس وقت مجھے چونکا دینا جب رنگ پہ محفل آ جائے

بہزاد لکھنوی